‫‫کیٹیگری‬ :
16 January 2017 - 15:21
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425732
فونت
آیت ‎الله جوادی آملی:
مفسرعصر حضرت آیت‎ الله جوادی آملی نے حضرت امام صادق(ع) سے منقول حدیث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت امام صادق (ع) نے فرمایا کہ جس اسلامی معاشرے میں اعتماد نہ ہو میں اس سے بیزار ہوں ۔
حضرت آیت الله جوادی آملی

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مفسرعصر حضرت آیت الله عبد الله جوادی آملی نے اپنی تفسیر قران کریم کی نشست جو مسجد اعظم قم میں سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں منعقد ہوئی سوره مبارکہ ذاریات کی تفسیر کی اور کہا: امام صادق(ع) نے فرمایا کہ اگر اسلامی معاشرہ ایسا ہو کہ کوئی ایک دوسرے پر اعتماد نہ کرے تو میں ایسے معاشرے سے بیزار ہوں ۔

انہوں نے مزید کہا: کبھی ممکن ہے کہ کوئی سوال کرے کہ سورہ بقرہ کی آیت 282 میں آیا ہے کہ ھر خرید و فروخت اور معاملے کے دستاویزات بناو ، اس حوالے سے امام صادق(ع) کی اس حدیث کے معنی کیا ہوں گے ، میں ایسے اسلامی معاشرے سے کہ جس میں کوئی ایک دوسرے پر اعتماد نہ کرے بیزار ہوں  تو اس کا جواب یہ ہے کہ دستاویزات کی تاکید اطمینان کے لئے نہیں ہے بلکہ فراموشی سے نجات پانے کے لئے ہے ۔  

قران کریم کے اس برجستہ رکن نے حضرت ابراهیم(ع) و حضرت زکریا(ع) کے صاحب اولاد ہونے میں فرق کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے ضمن میں کہا: حضرت زکریا(ع) و حضرت ابراهیم(ع) میں فرق یہ ہے کہ حضرت زکریا(ع) نے حضرت مریم(س) کو دیکھنے کے بعد خداوند متعال سے اولاد کی درخواست کی اور حضرت ابراهیم(ع) کے دل میں اولاد کی خواہش تھی مگر آپ نے خدا سے درخواست نہیں کی تو خدا نے خود انہیں اولاد عطا کردی ۔

انہوں نے قوم لوط اور حضرت ابراهیم(ع) کے مہمانوں کی داستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: فرشتے قوم لوط کو عذاب دینے کے لئے آئے تھے کیوں کہ قوم لوط نے انسانیت کی حدیں پار کردی تھیں اور حیوانوں کے لئے بھی مایہ شرمساری تھے ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے یاد دہانی کی : خداوند متعال کا وعدہ ہے کہ میں قران کریم کی حفاظت کروں گا ، اگر تم نہ کر سکے تو کسی اور کے ذمہ اس کی حفاظت سونپ دوں گا ، یہ خدا کا وعدہ ہے ، تم خیال کرتے ہو کہ ہمارا دین تم سے وابستہ ہے ، ھرگز نہیں ہم دین کے پناہ میں ہیں ، اگر دیر کریں گے تو کسی اور کو دین کا محافظ بنا دیا جائے گا ،  ہم ماه مبارک رمضان کی دعا میں پڑھتے ہیں کہ خدایا تو جو خود اپنے دین کا محافظ ہے مجھے اس دین کی حفاظت کی توفیق عطا کر ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۴۶۳

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬