‫‫کیٹیگری‬ :
29 January 2017 - 14:04
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425982
فونت
حجت الاسلام سید ابراہیم رئیسی:
روضہ مبارک امام علی رضا علیہ السلام کے متولی نے مرد اور عورت کے روابط کے دوران شرعیت کی حدود کی رعایت کرتے ہوئے حجاب کو اھمیت دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : حجاب دل کی پاکیزگی کا سبب اور تقویٰ کا مظہر ہے۔
حجت الاسلام سید ابراہیم رئیسی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمہ مشہد مقدس کے مشہور و معروف استاد حجت الاسلام سید ابراہیم رئیسی نے روضہ مبارک امام علی رضا علیہ السلام کے مسجد گوہر شاد میں سورہ احزاب کی تفسیر بیان کرتے ہوئے اس سورہ مبارک کی آیت ۵۳ کی تفسیر میں بیان کیا : اس آیت میں رسول خدا (ص) اور ان کے خاندان سے رابطے کے آداب بیان ہوئے ہیں اور اس میں خداوند متعال فرماتا ہے: اے ایمان والو خبردار پیغمبر(ص) کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہونا جب تک تمہیں کھانے کے لئے اجازت نہ دے دی جائے اور اس وقت بھی برتنوں پر نگاہ نہ رکھنا جب دعوت دے دی جائے تو داخل ہو جاؤ اور جب کھا لو تو فوراً رخصت ہو جاؤ ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : تم لوگ باتوں میں نہ لگ جاؤ کہ یہ بات پیغمبر (ص) کو تکلیف پہنچاتی ہے اور وہ تمہارا خیال کرتے ہیں حالانکہ اللہ حق کے بارے میں کسی بات کی شرم نہیں رکھتا اور جب ازواج پیغمبر (ص) سے سوال کرو تو پردے کے پیچھے سے سوال کرو کہ یہ بات تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے اور تمہیں حق نہیں ہے کہ خدا کے رسول کو اذیت دو یا ان کے بعد کبھی بھی ان کی ازواج سے نکاح کروکہ یہ بات خدا کے نزدیک بہت بڑی بات ہے۔

روضہ امام علی رضا علیہ السلام کے متولی نے بیان کیا : دوسرے کے گھروں میں داخل ہونے کی لئے اجازت کا مانگنا فقط پیغمبر اکرم (ص) کے گھر سے مختص نہیں ہے، بلکہ جیسا کہ سورہ نور میں بھی بیان ہوا ہے" لا تدخلوا بیوتاً غیر بیوتکم حتّی تستأنسوا، اے ایمان والو خبردار اپنے گھروں کے علاوہ کسی کے گھر میں داخل نہ ہونا جب تک کہ صاحب خانہ سے اجازت نہ لے لواور انہیں سلام نہ کر لو" ۔

حوزہ علمیہ مشہد کے استاد نے نامحرموں کے ساتھ روابط رکھنے میں شرعیت کی حدود کو رعایت کرنا اور حرام کاموں سے بچنے پر قرآن کریم کی تاکیدات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: وہ خطابات جو اس آیۃ کریمہ میں پیغمبر اکرم (ص) کی ازواج کے بارے میں آئے ہیں در حقیقت وہ تمام مسلمان خواتین اور مردوں سے مربوط ہیں اس لئے دلوں کی پاکیزگی اور تقویٰ کی حفاظت کے لئے حجاب ضروری ہے۔

انہوں نے بیان کیا : ایمان کا لازمہ معاشرہ کے آداب کی رعایت ہے سورہ احزاب کی ۵۳ آیت سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ گھروں میں سکون کا حق سب کے لئے قابل احترام ہے۔ مہمانوں کو دعوت دینا پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت تھی اور یہ دین اسلام کی جامعیت پر دلیل ہے کہ مہمانوں کی دعوت سے لے کر حکومتی مسائل تک کو بیان کیا ہے۔

حجت الاسلام سید ابراہیم رئیسی نے وضاحت کی : پیغمبر اکرم (ص) کو وقت ضایع کرنے والی گفت و گو سے تکلیف ہوتی تھی۔ تکلیف دینا ضروری نہیں کہ ہمیشہ ظاہری اور جسمی ہو، اخلاقی اور روحی روانی تکالیف کا دینا بھی ایک طرح کی تکلیف ہے۔ خواتین اور مردوں کے روابط کے دوران تقویٰ اور دلوں کی پاکیزگی کو مدّنظر رکھا جائے، نامحروں کی نظریں ایک دوسرے کے دلوں میں اثر کر سکتی ہیں حجاب کے بغیر نامحرموں سے رابطہ رکھنا رسول مکرم اسلام کو تکلیف دینے کا سبب ہے" وماکان لکم ان تؤذوا رسول اللہ" ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۶۲۲/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬