‫‫کیٹیگری‬ :
14 April 2017 - 15:39
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 427491
فونت
حجت الاسلام و المسلمین ریاض حسین نجفی:
لاہور میں تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز عالم دین کا کہنا تھا کہ فساد، بدامنی، دہشتگردی وہی کر رہے ہیں جن کی صحیح تربیت نہیں ہوئی، دہشتگردی میں ملوث وہی لوگ ہیں، جن کی تربیت صحیح نہیں ہو سکی اور وہ بدقماشوں کے ہتھے چڑھ گئے، دہشتگردی کی حالیہ لہر میں پاراچنار، بیدیاں روڈ، سیہون شریف اور دیگر واقعات میں سینکڑوں بے گناہوں کا مارا جانا بہت بڑا سانحہ ہے۔
حافظ سید ریاض حسین نجفی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ ریاض حسین نجفی نے تربیت اولاد کے معاشرہ پر اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معاشرہ کے کسی بھی فرد کے کردار اور رویے کی تشکیل کا آغاز اس کے والدین کے رشتہء ازدواج طے ہونے کے مراحل سے ہو جاتا ہے، رشتہ طے کرتے وقت شرافت و حیا کیساتھ دینی تربیت یافتہ ہونا بھی لازم ہے، انقلاب اسلامی ایران کے 38سالہ کامیاب سفر کی اہم وجہ بچے کی صحیح تربیت ہے، عہد طفلی سے ہی ”مہد کودک“ کے نام سے قائم تربیت گاہوں میں بچے کی قرآنی اصولوں کی بنیاد پر تربیت شروع کی جاتی ہے، حکومت پالیسیوں میں اسلام اور قومی مفاد مقدم رکھے، فقط چند مدارس بند کرنا حل نہیں، مدرسہ ہو یا کالج و یونیورسٹی، جو بھی دہشتگردی میں ملوث ہو سب کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔ علی مسجد ماڈل ٹاﺅن میں منعقدہ تربیتی نشست سے خطاب میں حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ شادی کے بعد ہر لحاظ سے حلال و جائز رزق و غذا استعمال کی جائے، چوری، رشوت، غصب اور کسی کی نجی یا سرکاری معمولی اشیاء کا استعمال جائز نہیں۔

انہوں نے کہا کہ رشتے طے کرتے وقت لڑکی کی فقط ظاہری خوبصورتی کو مدنظر نہ رکھا جائے بلکہ شرافت و نیک سیرتی کو اہمیت دی جائے، حتیٰ کہ اس کے خاندانی پس منظر کو بھی اہمیت دینی چاہیے، اگر کسی لڑکی کے قریبی رشتہ داروں میں سے بھی کسی عورت کا کردار ٹھیک نہ ہو تو اس کے اثرات اس لڑکی میں بھی ہو سکتے ہیں، شادی کے بعد ہر لحاظ سے حلال و جائز رزق و غذا استعمال کیا جائے، چوری، رشوت، غصب اور کسی کی نجی یا سرکاری معمولی اشیاء کا استعمال بھی جائز نہیں، ماں کی صحت کا خاص خیال رکھا جائے۔

ان امور کا خیال رکھنے اور شرائط کا لحاظ رکھنے کے بعد جو بچہ پیدا ہوگا اس میں معاشرہ کے اچھا فرد بننے کی صلاحیت شروع سے ہوگی۔ پیدائش کے بعد اس کے کا ن میں پہلی آواز اللہ کے نام اذان اور اقامت کی پڑنی چاہئے اور باقی تعلیم و تربیت کا محور بھی اللہ کے بتائے طریقے کے مطابق ہو۔ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں فساد و خرابیوں کی اصل وجہ تربیت اولاد کا فقدان ہے، فساد، بدامنی، دہشتگردی وہی کر رہے ہیں جن کی صحیح تربیت نہیں ہوئی، دہشتگردی میں ملوث وہی لوگ ہیں، جن کی تربیت صحیح نہیں ہو سکی اور وہ بدقماشوں کے ہتھے چڑھ گئے، دہشتگردی کی حالیہ لہر میں پاراچنار، بیدیاں روڈ، سیہون شریف اور دیگر واقعات میں سینکڑوں بے گناہوں کا مارا جانا بہت بڑا سانحہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں راہ نجات، ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے نتیجہ میں صورتحال کافی بہتر ہو گئی تھی، اس کے خاتمے کیلئے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے پڑوسی ممالک سری لنکا اور ایران میں بھی کئی سال پہلے ایسے ہی حالات تھے مگر ان ممالک نے اس پر قابو پالیا جس میں انٹیلی جنس نیٹ ورک کی کارکردگی کا بنیادی کردار ہے، ایران میں امن و امان کے مسائل پر قابو پالیا گیا ہے، انقلاب کامیابی سے سفر طے کر رہا ہے، وہ لوگ اپنی پالیسیوں میں اسلام اور اپنا مفاد مقدم رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ روس یا کسی اور کا نہیں، ہمارے ملک میں بھی امن و امان کی بحالی کیلئے انٹیلی جنس اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دہشتگردوں کو تیار کرنیوالوں کاسراغ لگا سکیں، انہیں جنت کا راستہ دکھانے والوں کی گرفت کریں اور ان کا قلع قمع کریں، فقط چند مدارس بند کرنا اس کا حل نہیں، مدرسہ ہو یا کالج و یونیورسٹی، جو بھی دہشتگردی میں ملوث ہو سب کیخلاف سخت کارروائی کی جائے، ایران میں مجرموں کی جیل میں بھی اصلاح کا موثر نظام ہے جہاں قیدیوں کو اچھا کھانا ودیگر سہولیات کیساتھ ساتھ اصلاح و تربیت کیلئے عالم دین مقرر ہوتا ہے جو قرآن مجید پڑھانے سکھانے کے علاوہ دیگر دینی تربیت بھی کرتا ہے، جس کے بعد ان قیدیوں کو گھر جانے کیلئے چھٹی بھی ملتی ہے اور عام طور پر مجرم جیلوں سے اچھے شہری بن کر نکلتے ہیں، انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی اور 38سال کے کامیاب سفر کی اہم وجہ بچے کی صحیح تربیت ہے، عہد طفلی سے ہی ”مہد کودک“ کے نام سے قائم تربیت گاہوں میں بچے کی قرآنی اصولوں کی بنیاد پر تربیت شروع کی جاتی ہے، چھوٹی چھوٹی آیات یاد کرانے سے آغاز کیا جاتا ہے، پھر چھوٹی سورتیں ان کا ترجمہ اور باقی دینی معلامات سے بچے کی دینی تربیت شروع ہوتی ہے اس کے بعد سکول داخل کیا جاتا ہے، ایسا بچہ جس بھی میدان میں جائے گا اچھا مسلمان بھی ہوگا اور اس شعبہ کا کامیاب ملازم یا ماہر بھی۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬