‫‫کیٹیگری‬ :
06 July 2017 - 23:03
News ID: 428887
فونت
حجت الاسلام والمسلمین رفیعی:
حوزہ و یونیورسیٹی کے استاد نے ملک میں موجودہ سیکورٹی و سلامتی اور امن کی نعمت کی قدر کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا : بعض لوگ اپنے رویہ سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اس نعمت کو نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ اس کا انکار بھی کرتے ہیں ۔
حجت الاسلام والمسلمین رفیعی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حوزہ و یونیورسیٹی کے استاد حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے ایران کے مقدس شہر قم میں روضہ مبارک حضرت معصومہ (س) کے امام خمینی (ره) حال میں منعقدہ تقریب میں سورہ مبارکہ بقرہ کی ۴۹ ویں آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے توکل کے سماجی پہلو کو بیان کرتے ہوئے کہا : خداوند عالم اس آیت میں حضرت موسی (ع) کے واقعات کے بعض ٹکڑوں کو بیان کیا ہے ؛ یہ ایسے حالت میں ہے کہ قرآن کریم اپنے قصہ کو عالمین کے لئے عبرت بیان کیا ہے اور فرمایا ہے کہ صاحبان عقل عالم کے لئے نشانی ہے ۔

جامعۃ المصطفی العالمہ میں فیکلٹی ممبر نے طاغوت سے نجات کی نعمت کو سورہ مبارکہ بقرہ کی آیت ۴۹ میں خدا کی نشانیوں میں سے جانا ہے اور بیان کیا : سیکورٹی اور امن کی نعمت حقیقی ہے کہ ایران کی شریف قوم کو اس کی قدر کرنی چاہیئے اور اس حقیقت کے سلسلہ میں عملی شکر کو اپنے طرز زندگی میں سر فہرست قرار دیں ۔

انہوں نے اپنی تقریر میں بیان کیا : خداوند عالم سورہ مبارکہ بقرہ کی آیت ۴۹ میں ایک واقعہ کے سلسلہ میں مزید خبر دی ہے جہاں تک کہ اس مبارک آیت میں فرماتے ہیں «وَ إِذْ نَجَّیْناکُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُومُونَکُمْ سُوءَ الْعَذابِ یُذَبِّحُونَ أَبْناءَکُمْ وَ یَسْتَحْیُونَ نِساءَکُمْ وَ فی ذلِکُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَظیمٌ؛ اور مزید یاد دہانی کرائی ہے کہ اس زمانہ کے سلسلہ میں کہ تم لوگوں کو فرعونیوں کے چنگل سے رہائی دلائی ہے کہ وہ مسلسل تم لوگوں کو بری طرح اذیت و آزار دیتے تھے ، تمہارے بیٹوں کو قتل کر دیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو اپنی کنیزی کے لئے زندہ رکھتے تھے ۔ اور یہ سب تم لوگوں کے لئے خداوند عالم کی طرف سے سخت امتحان تھا ۔ 

حضرت معصومہ (س) کے روضہ مبارک کے مقرر نے اس اشارہ کے ساتھ کہ فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کے بیٹو کے قتل کرنے کی وجہ سورہ قصص میں بیان ہوا ہے کہا : خداوند عالم سورہ مبارکہ قصص کی آیت ۴ میں اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے «إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِیعًا یسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِنْهُمْ یذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَیسْتَحْیی نِسَاءَهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِینَ؛ بے شک فرعون نے زمین (مصر) میں تکبر اور قتل کی شروعات کر دی اور اس سرزمین کے باشندوں کے درمیان تفرقہ و اختلاف پیدا کیا ، بنی اسرائیل کے قبیلہ کو بری طرح کمزور و ذلیل کرتا تھا اور ان کے بیٹوں کو قتل کر دیتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ حضرت موسی ظہور کریں اور قدرت حاصل کریں اور اس کی نابودی واقع ہو جائے ، اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا تا کہ ان سے خدمت کرائے ۔ بے شک فرعوں ایک نہایت برے فکر کا حامل اور فاسد شخص تھا ۔

حضرت خدیجه (س) عالمی کانفرنس کے سیکریٹری نے اس تاکید کے ساتھ کہ خود نعمت کا دیکھنا بھی ایک رحمت ہے بیان کیا : آج کل بعض لوگ اسلامی معاشرے میں اپنے رویہ سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اس نعمت کو نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ اس کا انکار بھی کرتے ہیں ۔

حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے فرعون کی چنگل سے بنی اسرائیل قوم کی نجات کے نمونہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : سمندر میں شکاف ایسا مرحلہ تھا کہ خود حضرت موسی (ع) کو اس کی خبر نہیں تھی کیونکہ جب بنی اسرائیل نے دشمن کو اپنے پیچھے آتے دیکھا اور بے نہایت سمندر کو سامنے دیکھا تو مضطرب ہوئے اور کہا «انا لمدرکون؛ یعنی ہم لوگ فنا ہو گئے ہیں ».

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : قرآن کریم نے گواہی دی ہے کہ حضرت موسی (ع) نے اپنے قوم کو اس طرح سے جواب دیا «وَلَقَدْ أَوْحَینَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِی فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیقًا فِی الْبَحْرِ یبَسًا لَا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَى؛ بے شک موسی پر وحی کی کہ ہمارے بندگان (مؤمن) کو رات میں مصر کے شہر سے باہر لے کر جاو (ہمارے اعجاز و لطف سے) سمندر کے درمیان خشک راستہ ان لوگوں کے لئے ایجاد ہوا تا کہ نہ فرعونیوں کے پیچھا کرنے کا خوف ہو اور نہ ہی غرق ہونے کا اندیشہ ہو ۔

حوزہ و یونیورسیٹی کے استاد نے قرآن کی نظر میں توکل کی حقیقیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : توکل مومن کی طرف سے ذمہ داری کو انجام دینا اور اس کا نتیجہ خداوند عالم پر چھوڑ دینا ہے ؛ اس بنیاد پر توکل محنت و کوشش کا محرک بازو ہے اور اسلامی معاشرے میں حقیقت کا محقق ہونا اور الہی علامتوں کا بازو ہے ۔ /۹۸۹/ف۹۳۰/ک۸۴۳/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬