‫‫کیٹیگری‬ :
13 July 2017 - 23:45
News ID: 428993
فونت
آیت الله مصباح یزدی:
آیت الله مصباح یزدی نے کہا : اگر ہم لوگ چاہتے ہیں موجودہ دنیا کے سینگھ والے جانوروں کی غلامی و گدائی سے نجات پیدا کریں تو دنیوی لذت سے دلبستگی کو ختم کریں ؛ اگر دنیا کو اپنی زندگی میں کنار رکھیں تو عزت حاصل ہوگی ۔
آیت الله مصباح یزدی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے سربراہ آیت ‌الله محمد تقی مصباح یزدی نے بعض قرآنی اساتدہ و ممتازین ، سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کے اہل کار و سرگرم کارکنوں سے امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ میں ملاقات کے درمیان بیان کیا : انتزاعی مفاہیم کا معنی یہ ہے کہ کچھ مسئلہ کو مد نظر رکھا جاتا ہے اور اس کے لئے بہترین راستہ مشخص کیا جاتا ہے ۔

آیت الله مصباح یزدی نے اس بیان کے ساتھ کہ انسان فطری طور سے نیکی چاہتا ہے بیان کیا : انسان خوشی کو پسند کرتا ہے اور کوئی بھی عاقل انسان کو نہیں دیکھا جا سکتا جو ناخوشی سے لذت حاصل کرتا ہو ۔

انہوں نے بیان کیا : زیادہ دیکھا گیا ہے کہ انسان اس کے با وجود کے اس کے سامنے نیک عمل موجود ہے مگر پھر بھی شر کا انتخاب کرتا ہے اس وجہ سے کس طرح قبول کیا جا سکتا ہے کہ انسان فطری طور سے اچھائی کو پسند کرتا ہے ؟ !

امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے سربراہ وضاحت کی : بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ دین آیا ہے تا کہ انسان کے دنیوی لذت کو محدود کریں لیکن جب قرآن کریم کی آیات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ خداوند عالم نیک اعمل انجام دینے والے کے لئے بے شمار جزا و ثواب رکھا ہے ، اسی وجہ سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ خداوند عالم جو جزا و ثواب دینے والا ہے خوشی و لذت کا مخالف ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : قرآن کریم میں بیان ہوا ہے کہ انسان کی ہدایت کی ہے او اس کو شر ، آفت و عذاب سے دور رکھا ہے کیوںکہ ایک نیک کام پر یقین پیغمبروں کی ذمہ داریوں میں سے ہے تا کہ نیک کاموں کو لوگوں کو پہچنوائیں اور یقین ان کے ذہن میں ڈالیں ۔

انہوں نے کہا : آج کل کی دنیا میں انسان اپنی ضرورتوں کو پوری کرنے اور مقصد کے حصول کے لئے مختلف قسم کے موانع سے مقابلہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رکھتا ہے تا کہ اس کے آخر میں کامیابی تک پہوچ سکے ۔

آیت الله مصباح یزدی نے اظہار کیا : قرآن کریم نے بیان کیا ہے کہ انسان بہترین مقام و صلاحیت و استعداد کے ساتھ خلق ہوا ہے اور اس کی دلیل بھی یہ روح ہے کہ جو اس کی ترقی کا سبب ہوتا ہے اور بنیادی طور سے انسان کی خاصیت یہ ہے کہ عین ترقی کی صورت میں تنزلی بھی کرتا ہے ۔

انہوں نے بیان کیا : جب خداوند عالم نے انسان کے نفس کو پیدا کیا تو ترقی و تنزلی کے راستے ، پرہیزگاری و رشد و کامیابی کو بھی انسان کو بتایا ؛ خداوند عالم نے انسان کو جو نفس عطا کی ہے وہ شکوفہ ہونے اور آلودہ ہونے کی اہلیت رکھتا ہے ۔

امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے سربراہ وضاحت کی : خداوند عالم بہت ہی نفیس موجود جیسے نفس انسان کو عطا کیا ہے اور یہ انسان ہے کہ یا اس کی پرورش کرتا ہے یا اس کو بری طرح آلودہ کرتا ہے ۔

انہون نے «قدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّاهَا» آیت کی تلاوت کرتے ہوئے وضاحت کی : قرآن کریم سورہ مبارکہ شمس کی آیت میں کامیابی تک پہوچنے کے راہ کو تذکیہ نفس تعارف کرتا ہے اور اس کا اختیار انسان کے عہدے کر دیا ہے ۔

حوزہ علمیہ قم کے مشہور و معروف استاد نے اس بیان کے ساتھ کہ خداوند عالم نے قرآن کریم میں انسان کے روح کو خداوند عالم کے ساتھ رابطے کے سایہ میں شکوفا ہونے کے لئے متعارف کریا ہے بیان کیا : تزکیہ نفس کے لئے خداوند عالم سے مسلسل رابطہ کی ضرورت ہے ۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعض انسان اپنی ترقی و تکامل کے لئے تزکیہ نفس کی کوشش میں نہیں ہیں کیونکہ انسان نے لذت سے وابستہ ہو گیا ہے اور چند لحظہ کی لذت کو ہمیشہ کی لذت پر ترجیح دیتا ہے ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۷۴۵/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬