
رسا نیوز ایجنسی کے مشہد رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ کے مشہور و معروف استاد حجت الاسلام والمسلمین انصاریان نے مشہد کے حسینیہ ہمدانی میں منعقدہ اپنے مذہبی پروگرام میں قرآن و اہل بیت (ع) کے زیر سایہ زندگی بسر کرنے کی برکات و آثار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : بعثت کے ابتدائی ایام میں پیغمبر (ص) سے مخالفت جہالت کی تعصب ، تکبر ، غرور ، اور سب سے زیادہ دنیا پرستی کی وجہ سے شدید تھا ؛ کیوںکہ پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت تمام غیر شرعی خواہشات کو کچل دے رہی تھی ۔
انہوں نے بیان کیا : پیغمبر اکرم (ص) نہ صرف مکہ اور مخالف لوگوں کے لئے بلکہ تاریخ کے تمام لوگوں کے لئے بعثت کے ابتدا میں ہی اہنے ہدف و مقصد کو بیان کر دیا تھا تا کہ جب عوام اہل فکر ہو جائے نگے تو رسالت و الہی شریعت کی تبلیغ کے موانع خود بخود ختم ہو جائے نگے ۔
حجت الاسلام والمسلمین انصاریان نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : پیغمبر اکرم (ص) کے بعثت کا مقصد اس جملہ میں «إنّی قدجئتکم بخیرالدنیا و الاخرة؛ دنیا اور آخرت میں تم لوگوں کے لئے خیر لایا ہوں » وضاحت ہوتی ہے کہ یہ دنیا و آخرت میں خیر بغیر اجر چاہنے پر ہے ؛ اسی وجہ سے جن لوگوں نے انبیاء اکرام کی دعوت کو قبول نہیں کیا ہے قیامت میں ان کا حساب و کتاب سخت ہوگا کہ کیوں یہ عالمانہ ، عادلانہ ، حکیمانہ اور بغیر اجرت کے دعوت کو قبول نہیں کیا ۔
یہ مشہور خطیب نے اس بیان کے ساتھ کہ پیغمبر اکرم (ص) کی طرف سے خیر کی طرف جو اشارہ ہوا ہے وہ قرآن و اہل بیت (ع) ہیں ، مثال کو ذکر کرتے ہوئے ان دونوں کے درمیان رابطہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی : ہماری زندگی میں قرآن واہل بیت (ع) کی مرکزیت بے شمار برکات کے حامل ہیں جو دنیا سے محدود نہیں ہے ۔
انہوں نے اس اشارہ کے ساتھ کہ قرآن کریم کے آخری جزء کی آیات قرآن کے زیر سایہ زندگی بسر کرنے کے برکات و اہمیت بیان کر رہی ہے وضاحت کی : جس شخص نے دنیا میں قرآن و اہل بیت (ع) کے زیر سایہ زندگی بسر کی ہے جب وہ محشر میں وارد ہوگا تو ہر طرف سے فرشتہ ان کی زیارت کے لئے آئے نگے اور یہی دنیا و آخرت کی خیر ہے کہ جو انسان کو حقیقی مومن میں بدل دیتا ہے ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۴۶۵/