‫‫کیٹیگری‬ :
06 September 2017 - 16:20
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429832
فونت
آیت ‌الله نوری همدانی:
مراجع تقلید قم میں سے حضرت آ‌یت‌ الله نوری همدانی نے یہ کہتے ہوئے کہ ولایت و امامت سے انحراف کے نتائج اب تک سامنے آرہے ہیں ، دنیا کے مسلمانوں سے درخواست کی کہ کفار کے مظالم سے مستضعفین جہان خصوصا میانمار کے مسلمانوں کی نجات کیلئے قیام کریں ۔
حضرت آیت الله نوری همدانی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آ‌یت‌ الله حسین نوری همدانی نے آج اپنے درس خارج فقہ کے آغاز میں جو مسجد آعظم قم میں سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں منعقد ہوا ، یوم ولادت امام دھم حضرت امام علی نقی الهادی(ع) کی مبارکباد پیش کی اور کہا: اہل بیت علیھم السلام کی تاریخ نہایت مفید اور درس آموز ہے ، ہم جس طرح علم فقہ میں آپ کی روایتوں سے بخوبی استفادہ کرتے ہیں اسی طرح تاریخ ، ثقافت ، سیاست اور طور طریقے میں بھی آپ کی گفتار و آپ کے کردار سے بخوبی استفادہ کریں ۔

انہوں نے مزید کہا: اہل بیت علیھم السلام کی ثقافت دن بہ دن توسعہ پارہی ہے اور بہتر پہچانی جارہی ہے ، عید سعید غدیر ہمارے سامنے ہے کہ جسے ہمیں عظیم سمجھنا چاہئے کیوں کہ رسول اسلام(ص) کی وفات کے بعد مسئلہ امامت و ولایت، دین کا اہم ترین مسئلہ ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے استاد نے سورہ مائدہ کی پہلی آیت شریفہ « يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ۔ ترجمہ : اے ایمان والو! عہد و پیمان پورا کیا کرو، » کی جانب اشارہ کیا اور کہا: علامہ طباطبائی(رہ) تفسیر المیزان میں فرماتے ہیں کہ قران کریم کا یہ جملہ بہت وسیع معنی و مفھوم رکھتا ہے اور ہر قسم کے عھد و پیمان کو شامل ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: بعض عقود (معاہدے) کو خرید و فروخت ، نکاح اور دیگر معاملات کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے مگر علامہ طباطبائی(رہ) فرماتے ہیں کہ عقد کے معنی وسیع تر ہیں ، لہذا غدیر کے دن رسول اسلام(ص) کی جانب سے امیر المومنین علی علیہ السلام کو خلیفہ اور جانشین کے طور پر پیش کیا جانا اور ہزاروں لوگوں کا حضرت (ع) کے ہاتھوں پر بیعت کرنا ایک طرح کے عقد ، عہد و پیمان کو شامل ہے ۔

حضرت آیت الله نوری همدانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ قران کا کریم کا کہنا ہے انسان اپنے تمام عہد و پیمان کو پورا کرے کہا: کونسا عہد و پیمان اس بالاتر کہ رسول اسلام(ص) نے غدیر کے دن حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کو اپنا جانشین کے طور پر پیش کیا اور کثیر تعداد میں لوگوں نے آپ کے کے ہاتھوں پر بیعت کی ۔

انہوں نے سورہ مائدہ کی 67 ویں آیت شریفہ  يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۔ ترجمہ : اے رسول ! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا، کی جانب اشارہ کیا اور کہا: رسول اسلام نے عرب اور سماجی تعصب کے با وجود امام علی علیہ السلام کو اپنے خلیفہ کے طور پر پیش کیا ، حضرت(ص) نے رسالت کی ابتداء ہی میں دنیا کے بادشاہوں کو خط لکھا تھا کہ وہ اسلام لے آئیں مگر تمام کے تمام مرسل آعظم(ص) کی بات ماننے اور آپ (ص) کی دعوت اسلام قبول کرنے کے بجائے آپ کی وفات کے منتظر تھے تاکہ اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹا سکیں ۔

اس مرجع تقلید نے یاد دہانی کی: منافقین ، مشرکین اور یہودی بھی اسلام کو مٹانے کی کمین کئے تھے ، ایسے حالات میں رسول اسلام(ص) نے امیرالمومنین علی علیہ السلام کو اپنا جانشین کے طور پر پیش کر کے سب کی آرزوں پر پانی پھیردیا ۔

انہوں نے مزید کہا: خداوند متعال نے قران کی کریم گذشتہ آیت میں فرمایا کہ اگر رسول(ص) نے اپنا جانشین نہیں پیش کیا تو گویا اس نے اپنی رسالت کے فریضے پر عمل نہیں کیا ، کیوں کہ دشمن یہ سوچ رہا تھا کہ رسول اسلام(ص) کے انتقال کے ساتھ ہی اسلام کا روشن دیا بجھ جائے گا مگر مرسل آعظم(ص) نے امیرالمومنین علی علیہ السلام جیسی باعظمت و بزرگ شخصیت کو اپنا جانشین بنا کر دشمن کی تمام سازشوں کا ناکامی کا منھ دکھا دیا ۔

حضرت آیت الله نوری همدانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلام میں غدیر کی خاص اہمیت و عظمت ہے کہا: حضرت امام خمینی رہ نے صحیفہ نور میں فرمایا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام کے لئے خلافت بہت بڑی فضیلت نہیں ہے بلکہ آپ کے لئے فضیلت آپ کے باطنی اوصاف ہیں کہ اگر اسلام کو آپ کے راستے سے منحرف نہیں کیا گیا ہوتا تو آج اسلام ، مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں کی عظمت کچھ اور ہی ہوتی ۔

انہوں نے میانمار میں بودھسٹ کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی اور کہا: آج مسلمانوں کو مسلمان ہونے کے جرم میں مارا جا رہا ہے ، بودھسٹ انہیں فقط و فقط مسلمان ہونے کے جرم میں مار رہے ہیں اور انہیں زندہ جلا رہے ہیں ، لاکھوں افراد نے بنگلہ دیش کا رخ کیا مگر بنگلادیش نے بھی انہیں پناہ نہیں دی کہ جو افسوس کا مقام ہے ۔

اس مرجع تقلید نے کہا: اقوام متحدہ بھی فقط مذمتی بیانیہ دے کر خاموش رہ گیا جبکہ ان حالات میں مذمتی بیانیہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، میانمار کے مسلمانوں کے پاس پناہگاہ نہیں ہے ، ان حالات میں دنیا کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ظالم کفار سے مستضعفین جہان خصوصا میانمار کے مسلمانوں کی نجات کیلئے قیام کریں ۔ /۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۹۷۸

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬