‫‫کیٹیگری‬ :
16 November 2017 - 07:38
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 431829
فونت
حجت الاسلام والمسلمین رفیعی:
حرم امام رضا علیہ السلام کے خطیب و مقرر نے اس بیان کے ساتھ کہ اس زمانہ میں جوانوں کے درمیان نماز پڑھنے والوں کی تعداد کم ہے بیان کیا : بعض مغربی طرز اور روش زندگی آج کل کے جوانوں میں نمونہ کے عنوان سے نفوذ کر چکا ہے جو جوانوں کی طرف سے دینی امور میں بے توجہی کا سبب ہوا ہے ۔
حجت الاسلام والمسلمین رفیعی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حرم امام رضا علیہ السلام کے خطیب و مقرر و حوزہ و یونیورسیٹی کے مشہور و معروف استاد حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک میں اپنی تقریر کے درمیان ایران کے صوبہ کرمانشاہ میں ہوئے زلزلہ میں مرنے والوں کے اہل خاندان کی خدمت میں تعزیت پیش کی اور بیان کیا : دین کی بنیادی تین ستون ایمان ، اخلاق اور احکام ہیں ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے دین کو حقیر سمجھنے کے سلسلہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تشویش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : دین کو حقیر سمجھنے کی مختلف پس منظر ہیں کیوںکہ جیسا کہ ایک نویسندہ جس کے کلام کو حقیر شمار کرنے پر وہ حقیر ہو جاتا ہے اور ایک شخص کو حقیر و ذلیل کرنے سے بھی اس کی باتیں حقیر ہو جاتی ہے اس وجہ سے جو شخص بھی قرآن کریم سے بے توجہی کرتا ہے در حقیقت ایک طرح سے دین کی تحقیر کرتا ہے ۔

حوزہ علمیہ و یونیورسیٹی کے مشہور و معروف استاد نے اس بیان کے ساتھ کہ قرآن کریم خداوند عالم کا کلام ہے اور یہ ایسے حالات میں ہے کہ بعض جوان قرآن کریم کی تلاوت کرنا نہیں جانتے ہیں وضاحت کی : حقیقت میں دیکھا جائے تو اصل دین قرآن کریم ہے اور یہ کہ بعض جوان اس امر کی طرف توجہ نہیں کرتے ہیں جو کہ دین کے تحقیر کا سبب ہوتا ہے ۔

حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے اپنی گفت و گو کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے اس وقت کے معاشرے کے حالات کہ جس میں جوانوں کا کئی گھنٹے تک انٹرنٹ پر مشغول رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : حقیقت میں اس وقت ہمارے جوانوں کے لئے بہت بڑا خطرہ در پیش ہے کہ اگر اس کا خیال نہیں رکھا گیا اور اس پر توجہ نہیں دی گئی تو ہمارے جوان ہمارے ہاتھ سے نکل جائے نگے ، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان میں دین و ایمان باقی نہیں رہے گا ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ اس زمانہ میں جوانوں کے درمیان نماز پڑھنے والوں کی تعداد کم ہے وضاحت کی : بعض مغربی طرز اور روش زندگی جیسے مغربی بال اور لباس کا ڈیزائین کہ جو آج کل کے جوانوں میں نمونہ کے عنوان سے نفوذ کر چکا ہے جو کہ جوانوں کی طرف سے دینی امور میں بے توجہی کا سبب ہوا ہے ۔

حوزہ علمیہ و یونیورسیٹی کے مشہور و معروف استاد نے بیان کیا : جوانوں کو ہم سے جدا کرنے کے لئے دشمن مسلسل منصوبہ بندی کر رہا ہے اور مختلف طریقے سے جوانوں کو اپنی طرف جذب کر رہا ہے تا کہ ان کو دین سے جدا کر سکے ، ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری سخت ہے ۔

حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے اس بیان کے ساتھ کہ شخصیات کی توہین اور دینی اقدار کی توہین دین کی تحقیر کے دوسرے اسباب میں شمار ہوتا ہے وضاحت کی : بعض لوگ واقعہ کربلا اور عزاداری کے سلسلہ میں شبہ پھیلاتے ہیں اور آئمہ اطہار علیہم السلام کی توہین کے ذریعہ دین کی تحقیر کرنا چاہتے ہیں ۔/۹۸۹ف۹۷۱/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬