‫‫کیٹیگری‬ :
28 November 2017 - 18:06
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 432007
فونت
حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر مہدوی :
یونیورسٹی و حوزہ علمیہ کے استادنے کہا: وقف کی ایک خصوصیت، مال دنیا سے دلبستگی کا ختم ہونا ہے اور جب انسان کی مال دنیا سے وابستگی ختم ہوتی ہے تو پرواز کرنے لگتا ہے ۔
حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر مہدوی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر مہدوی راد نے ایک علمی اجتماع "حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور وقف" کہ جو عشرہ وقف کے آخری دنوں میں آستان قدس رضوی کے اسلامی تحقیقات فاؤنڈیشن کے محققین و دانشورں کے حضور منعقد تھا ، کہا: وقف کے مختلف زاویہ و ابعاد ہیں اور ان میں سے اہم ترین زاویہ وہ اثر ہے کہ جو واقف معین کرتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی : خداوندعالم نے کائنات کو خلق کیا اور بشر اس کی مخلوق میں سب سے افضل ہے اس دنیا کو بشر کے اختیار میں قرار دیا کہ وہ اس سے صحیح استفادہ کرے ۔ لیکن کبھی کبھی بشر اس سے دور ہوکر اس کا صحیح استفادہ نہیں کرتا۔ لہذا خداوندعالم نے ان نعمات الہی سے بہتر استفادہ کی خاطر زکات و انفاق کا حکم دیا ہے اور انسان سے چاہا ہے کہ جس چیز کو زیادہ پسند کرتا ہے اس کو راہ خدا میں انفاق و ایثار کرے۔

اس قرآنی محقق نے  اس بیان کے ساتھ کہ وقف ایک ایسا سبب ہے کہ جو انسان کو سخی  و کریم بننے میں مدد کرتا ہے ، کہا: یہ باقیات الصالحات ہے کہ جو انسان کے لیے رہ جاتے ہیں لہذا جو بھی ہمارے پاس اس دنیا میں ہے اس سے اس دنیا کے لیے استفادہ کریں۔

انہوں نے وضا حت کی : انفاق اس لیے ہے کہ انسان کو طغیان تک نہ پہنچنے دے۔ خداوندعالم نے قرآن مجید اور احادیث معصومین علیہم السلام کے ذریعہ انسان کو دنیوی وابستگی سے جدا کیا ہے ، انبیاء علیہم السلام آئے تاکہ انسان کو زنجیروں سے آزاد کریں۔

ڈاکٹر مہدوی راد نے  اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ تاریخ اسلام میں بڑے بڑے کام کسی بڑی تحریک کے نتیجے میں انجام پائے ہیں ، کہا: وقف کا مقام بہت بلند ہے اور بڑے بڑے نتیجے اسی سلسلے میں حاصل ہوتے ہیں۔ وقف دنیا کے تمام ادیان و مکاتب میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا: ہمارے پاس تاریخ میں بہت بڑے بڑے کام موجود ہیں کہ جن کا تعارف پیش کرنا آستان قدس رضوی کے اسلامی تحقیقات فاؤنڈیشن جیسے اداروں کا کام ہے  کہ مذہب شیعہ کی عظیم تہذیب و تمدن کو دنیا والوں کے سامنے پیش کرے۔

استاد نے کہا: جدید بات میں اگر سنت و اصالت کا ریشہ نہ ہو تو ہاون دستہ میں پانی کو کوٹنے کی طرح ہے  اچھی بات کے لیے منبع و ریشہ دار ہونا ضروری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس پروگرام کے ساتھ "ثقافت زیارت کی ترویج میں وقف کا کرادر" نامی کتاب کا بھی افتتاح ہوا۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬