‫‫کیٹیگری‬ :
11 January 2018 - 14:24
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 433590
فونت
حجت ‌الاسلام‌ والمسلمین رفیعی نے بیان کیا ؛
جامعۃ المصطفی العالمیہ کے فیکیلٹی ممبر نے انفاق کرنا ، غصہ کو کنٹرول کرنا ، لوگوں کی غلطیوں کو معاف کرنا اور نیک عمل انجام دینے کو اچھے اعمال اور اسلام کی مقدس شریعت کے مطابق جانا ہے ۔
حجت الاسلام والمسلمین رفیعی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق جامعۃ المصطفی العالمیہ کے فیکیلٹی ممبر حجت‌الاسلام ‌والمسلمین ناصر رفیعی نے ایران کے مقدس شہر قم میں روضہ حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے امام خمینی (ره) ہال میں نماز مغرب و عشا کے بعد منعقدہ اپنی تقریر میں اس تاکید کے ساتھ کہ قبیلہ پرستی ، نسل پرستی و قومیت پرستی افراد کے نیک اعمال و رویہ میں تاثیر گزار نہیں ہوتا ہے بیان کیا : گناہ کا تکرار سبب ہوتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو پلیدگی کے ساتھ گزارے یہ ایسے حالات میں ہے کہ نیک عمل کا تکرار انسان کی زندگی کو نیکی کے ساتھ جاری رکھتا ہے ۔

روضہ حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے مقرر نے موحدوں کا خطرناک عمل سماجی گناہ جانا ہے بیان کیا : یہودیوں نے پیغمبر اسلام (ص) کی رسالت کا انکار کر کے سماجی گناہ انجام دیا ہے اور قرآن کریم نے یہودیوں کے اس رویہ کی مسلسل مذمت کی ہے ؛ اس بنیاد پر تاریخ نے گواہی دی ہے کہ یہ لوگ ( یهودی قوم ) تھے کہ جو دنیوی مادیات کے حصول کے لئے قلم کو ہاتھون میں اٹھایا اور خداوند عالم کی طرف سے بھیجے گئے انبیاء پر جھوٹ کی نسبت دی ہے ۔

جامعۃ المصطفی العالمیہ کے فیکیلٹی ممبر نے انفاق کرنا ، غصہ کو کنٹرول کرنا ، لوگوں کی غلطیوں کو معاف کرنا اور نیکی کرنا غیریبوں و محتاجوں کی مدد کرنے کو اچھے اعمال اور اسلام کی مقدس شریعت کے مطابق جانا ہے اور کہا : عمر و صحت انسان کی دولت ہے ؛ یہ ایسے حالات میں ہے کہ انسان بہشت کو حاصل کر سکے کہ جو اس نے حقیقت میں اپنی دولت کا صحیح استفادہ کیا ہے ۔

حجت ‌الاسلام‌ والمسلمین رفیعی نے اس بیان کے ساتھ کہ قرآن کریم اور روایات میں جنت و جہنم کے راستے و معیار کی وضاحت کی ہے بیان کیا : گنہگار شخص غلط اعمال کو انجام دے کر اپنے معنوی دنیا کو مادی دنیا سے بیچ دیتا ہے ؛ کیوں کہ وہ اپنے عمل کی حقیقت اور آخرت کی دنیا کی اہمیت سے بے توجہ ہے ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : جو لوگ خداوند عالم پر یقین رکھتے ہیں اور خداوند عالم سے قربت کی نیت سے نیک عمل انجام دیتے ہیں وہ اہل بہشت ہونگے ۔

جامعۃ المصطفی العالمیہ کے فیکیلٹی ممبر نے اس تاکید کے ساتھ کہ جو لوگ امام حسین علیہ السلام کے لئے مجالس عزا منعقد کرتے ہیں اور محرم و عزاداری کی شعائر کی حفاظت کرتے ہیں وہ کسی بھی صورت میں گناہ کی طرف نہیں جاتے ہیں بیان کیا : اگر کوئی شخص سالار شهیدان کربلا امام حسین علیہ السلام سے اپنا معنوی رابطہ قائم رکھتے ہیں وہ گناہ کی طرف نہیں جاتے ہیں ، امام حسین علیہ السلام پر رونا انسان کو گناہ سے دور رکھتا ہے ۔

حجت ‌الاسلام‌ والمسلمین رفیعی نے آئمہ اطہار علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرنے اور ان کے فرمان کی پیری کرنے والے کو اہل بہشت جانا ہے اور وضاحت کی : دینی احکامات کو بجا لانا سب لوگوں پر واجب ہے لیکن تاریخ میں بہت سارے لوگ تھے کہ جنہوں نے آئمہ اطہار علیہم السلام کی عنایت کی وجہ سے اپنی زندگی کے راستے کو بدلی دی اور اہل بہشت ہو گئے ۔/۹۸۹/ف۹۷۱/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬