‫‫کیٹیگری‬ :
26 February 2018 - 13:23
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435162
فونت
حماس کے سینیر رہنما نے سعودی عرب پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کو حمایت حاصل نہ ہوتی تو ٹرمپ میں بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔
خالد مشعل

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی تنظیم حماس کے سیاسی دفتر کےسابق سربراہ خالد مشعل نے ترک پارلیمنٹ کے نمائندے نورالدین نباتی اور ترکی کے بعض دیگر اداروں کے نمائندوں سے ملاقات میں سعودی عرب پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے ٹرمپ کی حمایت کرکے اس کے حوصلے بلند کئے۔

خالد مشعل نے امریکہ کے اتحادی عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے امریکی صدر ٹرمپ کی بھر پور حمایت کرکے اسے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینے کا حوصلہ عطا کیا جو فلسطینیوں، اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی خیانت ہے۔

خالد مشعل نے ترک نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی حمایت کرنے والے پوری امت مسلمہ نہیں بلکہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ خالد مشعل نے 14 مئی کو امریکی سفارتخانہ کو بیت المقدس منتقل کرنے کے امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئےکہا کہ ترکی کو اس سلسلے میں عملی اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کے خلاف  ترک حکومت اور عوام کے عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔ بیت المقدس اللہ تعالی، اسلام اور پیغمبر اسلام کی امانت ہے اور ہمیں اس کے تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ ترکی میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں سعودی عرب اور بعض دیگر عرب ممالک سربراہوں  نے شرکت نہیں کی تھی۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬