
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر حجت الاسلام حسن روحانی نے اپنے سوئس ہم منصب کے ساتھ ایک ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا ہے اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں تناؤ یا کشیدگی کے آغاز کے لئے ہرگز پہل نہیں کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق، صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ روز سوئٹرز لینڈ کے دورے پر پہنچنے کے بعد اپنے سوئس ہم منصبط الین برسر کے ساتھ ملاقات کی۔
فریقین نے اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں مشترکہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اسی لیے دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کی توسیع کے لیے موجودہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے پر عزم ہیں۔
ایرانی صدر نے ایران اور سوئیس کے درمیان دوستانہ اور قریبی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کی توسیع کے لیے ایک اچھا موقع ہے تو ہمیں باہمی تعلقات گہرے بنانے کی مزید کوشش کرنی چاہیے۔
روحانی نےجوہری معاہدے کو ایک چند فریقی اور بین الاقوامی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنے وعدوں پر پابند نہیں ہے۔
ایرانی صدر مملکت نے مزید بتایا کہ ہم خطے میں تناؤ کیلئے ہرگز پہل نہیں کریں گے بلکہ ہماری پالیسی پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستی اور تعلقات کو بڑھانے پر مبنی ہے۔
اس موقع میں سوئٹرز لینڈ کے صدر نے ایران جوہری معاہدے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس معاہدے کی توثیق کی لہذا تمام فریقین کو چاہئے کہ اس معاہدے کو بچانے کیلئے اپنی ذمے داری ادا کریں۔/۹۸۹/ف۹۷۶/