‫‫کیٹیگری‬ :
09 July 2018 - 18:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436547
فونت
بھٹ شاہ پاکستان:
اے ایس او کے مرکزی صدر قمر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورکشاپ کا انعقاد ایک نعمت سے کم نہیں ہے، جہاں پر شرکاء کو اللہ تعالیٰ و آئمہ ہدیٰ علیھم السلام کا پسندیدہ ماحول حاصل ہے، کوشش ہے کہ معاشرے کو بہترین شخصیات مہیا کریں۔
اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر قمر عباس غدیری نے کہا ہے کہ جوانی کی عمر زندگی کا بہترین وقت ہے، جس میں علم و عمل کی بنیادیں مضبوط رکھی جائیں، تو وقت کی آندھیاں بھی اسے ہلا نہیں سکتیں، ملت کی ترقی علم و معیشت سے وابستہ ہے، ملت کا ہر باشعور فرد اپنی مدد سے ایک بچے کو یونیورسٹی سطح کی تعلیم فراہم کرنے میں معاونت فراہم کرے، جہاں فتنہ ہوتے ہیں وہاں بصیرت کا ہونا لازم ہے، باطل ہمیشہ حق کے مقابلے میں حق کا لبادہ اوڑھ کر آیا ہے اور آ رہا ہے اور آتا رہیگا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے ایس او کے زیر اہتمام 8 روزہ مرکزی، تعلیمی اور تربیتی "راہیانِ کربلا و عاشقان مہدیؑ ورکشاپ" میں خطاب کرتے ہوئے کیا، ورکشاپ کا باقاعدہ آغاز اندرون سندھ کے علاقے بھٹ شاہ میں ہوگیا ہے۔

افتتاحی کلمات میں شرکاء و مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے قمر عباس نے مزید کہا کہ تعلیم و تربیت یہ وہ کام ہے، جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے حوالے کیا، آج آپ اس کی ترویج کیلئے برسر پیکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورکشاپ کا انعقاد ایک نعمت سے کم نہیں ہے، جہاں پر شرکاء کو اللہ تعالیٰ و آئمہ ہدیٰ علیھم السلام کا پسندیدہ ماحول حاصل ہے، کوشش ہے کہ معاشرے کو بہترین شخصیات مہیا کریں۔

ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر سید حسین موسوی نے کہا کہ شرکاء کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں، آپ اپنی خودسازی کرکے شخصیت کی تعمیر کریں۔

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تہذیب یافتہ قوم وہ ہے، جو دین کی سمجھ حاصل کرے۔ علامہ صادق تقوی نے کہا کہ جو صاحبانِ عقل ہیں، وہ عقل و شعور رکھتے ہیں، جو اللہ کے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرتے ہیں، ان میں سے کچھ راہ خدا میں شہید ہوگئے اور کچھ اپنی جان نثار کرنے کے انتظار میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے امامؑ غیب میں ضرور ہیں، مگر غائب نہیں ہیں، امامؑ ہمارے احوال پرسی کرتا ہے، مگر ہم نہیں کرتے۔ محمد عالم ساجدی نے کہا کہ تربیت شخص سے شخصیت بننے کے مرحلے کو کہتے ہیں، تربیت کے 3 مراحل ہیں، اول قرآنی اصولوں کی طرف متوجہ ہونا، دوم سیرتِ رسول اعظمؐ اپنانا، اور سوم امامت کی ولایت پر سر تسلیم خم کرنا۔

ورکشاپ سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی و دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیا۔ 5 جولائی کو شروع ہونے والی ورکشاپ 12 جولائی کو اختتام پزیر ہوگی۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬