‫‫کیٹیگری‬ :
16 July 2018 - 18:28
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436612
فونت
درس اخلاق استاد انصاریان ؛
کہا : ملک الموت ہیں ، میں نے سوال کیا میرے مرنے کے وقت میری جان کیسے لوگے ؟ مجھے میری جان نکلنے کی کیفیت کو بیان کرو ! ملک الموت نے کہا : یا رسول الله (ص) دنیا کے تمام مرد و عورتوں کا روح قبض کرنے کی اجزت میرے اختیار میں ہے لیکن خداوند عالم نے آپ اور علی کے روح کو قبض کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔
حجت الاسلام والمسلمین انصاریان

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قرآن کریم کے مفسر ، مترجم اور  قرآنی تعلیمات کے محقق اپنے اخلاق کے جلسہ میں اس موضوع پر کہ کیا خداوند عالم نے سختی و مشکلات کو پیدا کیا ہے ؟ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے بیان کیا :

کیا خداوند عالم سختی و مشکلات کو پیدا کیا ہے ؟

عالم وجود اور تمام مخلوق کہ جو اس عظیم ظرف میں قرار دیا گیا ہے چاہے وہ مخلوق آنکھوں سے دیکھنے کے قابل ہوں یا ان آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے ، بغیری کسی استثنا کے یہ سب رحمت پروردگار کی تجلی ہیں ۔

پروردگار کی رحمت و غضب

ہم سب لوگ پڑھے لکھے یا بغیر پڑھے لکھے ، مرد و عورت ، جوان و بوڑھے یہ نکتہ کو سمجھتے اور درک کرتے ہیں کہ یہ تمام موجودات و مجموعہ ہستی رحمت کا جلوہ ہیں ، رحمت رفاہ کا سبب ہے ، آسانی کا سبب ہیں ، راحت و اطمیان کی وجہ ہے ، کہاں کائنات ہم لوگوں کے لئے اور سب موجود کے لئے سختی و مشکلات و تنگی و فشار ہے ؟ کائنات میں موجودہ آسمان ، عالم کے ستارے ، پرندگان عالم ، اس دنیا میں لہلہاتے پودے و درخت ، دریا و ندیاں و نہریں ، خورشید و ماہ و ہوا اس میں سے کون مشکلات و سختی و تکلیف کا سبب ہیں ؟

وہ چیز جو رحمت ہے وسیع ہیں پھیلے ہوئے ہیں ، آسانی ہے ، راحت و اطمیان ہے ، سہولت ہے ، لذت ہے ، بغیر تکلیف و سر درد کے ہے ۔ لیکن جہاں پر بھی ھم و غصہ و غضب ہے وہ فشار کی وجہ ہے ، اختیار ختم ہونے کی وجہ ہے ، موانع و مشکلات پیدا کرنے کا سبب ہے ، یہاں تک کہ ایک معمولی خوشی کو بھی ختم کرنے کا سبب ہے ۔ ان تمام چیزوں کی بنیادی وجہ غصہ و تشدد ہے ۔

لیکن غصہ ، یہ غصہ ہے کہ سورہ مبارکہ بقرہ کی آیت ۹۰ میں بیان ہوا ہے پرودگار عالم کا غصہ ہے ، یہ ایک خاص گروہ سے پروردگار عالم کی ناراضگی ہے «بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ یَکْفُرُوا بِما أَنْزَلَ اللَّه»(بقره، ۹۰) برا و غلط معاملہ انجام دیا ، بلا وجہ ھنگامہ و سرو صدا بلند کی ، جن لوگوں نے خود کو کفر کی طرف لے گئے اور وہ چیز جو خداوند عالم نے نازل کیا تھا فروخت کر دیا اور قرآن کریم کی تمام آیتوں کا انکار کرنے لگے اور اپنی شناخت کو انکار کے ذریعہ سودا کیا ہے ، کیوں اس طرح سے قرآن کریم کے ساتھ سودا کیا ؟ بَغْیاً حسد کی بنا پر ، ظلم کی وجہ سے ، جارحیت کی بنا پر ، آنکھ نہیں رکھتے تھے تا کہ قرآن کریم کو دیکھ سکتیں ۔

کفار نے خود اپنے لئے ایک حالات بنا رکھی تھی کہ دیکھتے تھے مگر قرآن کریم کے ساتھ خود کو نہیں ڈھال رہے تھے ، ایک غیر قانونی آزادی چاہتے تھے اور قرآن کریم بھی اس طرح کی غیر قانونی و شرعی آزادی کی اجازت نہیں دی تھی ، کچھ مسائل کو قرآن کریم نے حرام اعلان کیا کہ ان کے مزاج سے یہ حرام برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔ قرآن کریم کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کی نہ عاقلانہ اور نہ ہی عادلانہ اور نہ ہی مہر و محبت سے پیش آئے ، اس طرح سے سودا کیا اور قرآن کریم کو چھوڑ دیا ۔

اس آیت شریف میں فرمایا «بَغْیاً أَنْ یُنَزِّلَ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلى‏ مَنْ یَشاءُ مِنْ عِبادِهِ»(بقره، 90) ان کی طرف سے اعتراض یہ تھا کہ کیوں قرآن کریم پیغمبر اکرم ص پر نازل ہوئی اور ہم لوگوں پر کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کیوں قرآن کریم نے صرف ایک شخص کو خطاب کیا اور اس میں ہم لوگوں کو خطاب نہیں کیا گیا ؟ جب قرآن کریم میں ہم لوگ مخاطب نہیں ہین اور قرآن کریم ہم لوگوں پر نازل نہیں ہوا یا وہ شخص جو ہم لوگوں کے دل کے مطابق ہو اس پر نازل نہیں ہوا تو ہم قرآن کریم منکر ہیں ۔/۹۸۹/ف۹۷۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬