‫‫کیٹیگری‬ :
16 July 2018 - 22:38
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436613
فونت
ایران کی تیل برآمد کو صفر تک پہنچانے کی امریکی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے صدر ممالکت ڈاکٹرحسن روحانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کا تیل برآمد نہیں ہوگا تو علاقے میں کوئی بھی ملک تیل برآمد نہیں کر پائے گا۔
آبنائے ہرمز آبنائے ہرمز

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مملکت کی اس دھمکی کا یہ مطلب نکالا جا رہا ہے کہ اگر ایران کو رد عمل ظاہر کرنے پر مجبور کیا گیا تو وہ آبنائے ہرمز میں تیل ٹینکروں کی آمد و رفت بند کر دے گا۔

آبنائے ہرمز کیا ہے؟

آبنائے ہرمز مغربی ایشیا کا ایک ہم آبی راستہ ہے جو ایران کے جنوب میں خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ہے۔ یہ خلیج فارس سے آزاد سمندری علاقے تک پہنچنے کا واحد سمندری راستہ ہے اور یہ دنیا کے اسٹراٹیجک حیثیت سے اہم چیک پوائنٹس میں سے ایک ہے۔ اس کے شمالی ساحل پر ایران واقع ہے تو جنوبی ساحل پر عراق، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور عمان واقع ہیں۔ آبنائے ہرمز کا سب سے کم عرض 54 کیلومیٹر ہے۔

اگرایران اس آبی راستے کو بند کر دیتا ہے یا اس علاقے میں تیل ٹینکروں کی آمد و رفت میں کسی طرح کا خلل پیدا ہوتی ہے تو پوری دنیا میں تیل کی قیمتوں میں آگ لگ جائے گی۔

سمندرکے ذریعے برآمد ہونے والے دنیا کے مجموعی تیل کا 40 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے ہوکر دیگر ممالک تک منتقل ہوتا ہے۔ ماہرین کا یہ خیال ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہوتا ہے یا کسی طرح تیل کے ٹینکروں کی آمد و رفت میں خلل پیدا ہوتا ہے تو عالمی بازار میں 2 کروڑ تک بیرل تک کی کمی واقع ہو جائے گی جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں 250 سے 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی یعنی موجودہ قیمت سے ڈھائی گنا۔

عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی دھمکی کا مطلب یہی نکالا جا رہا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی اقتصاد پر مزید دباؤ ڈالا تو ایران آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ امریکیوں کا دعوی ہے کہ وہ ایران کی تیل برآمد کو پوری طرح بند کر دیں گے، وہ اپنی بات کا خود ہی مطلب نہیں سمجھ رہے ہیں، اس لئے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ علاقے کے دیگر ممالک کا تیل برآمد ہو اور ایران کا تیل برآمد بند ہو جائے، اگر ایسا ہوا تو وہ نتیجہ دیکھ لیں گے۔ صدر روحانی کے اس بیان کا ایرانی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی آئی آر جی سی نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔

آئی آر جی سی کے ایک اعلی کمانڈر نے کہا کہ اگر ایرانی تیل برآمد پر امریکا نے پابندی عائد کی تو ایرانی فوج علاقائی تیل برآمد کو روکنے کے لئے تیار ہے۔ اس سے پہلے بھی ایرانی فوجی حکام دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ایران کے تیل کو عالمی بازار میں جانے سے روکا گیا تو آبنائے ہرمز ایک قطرہ تیل عالمی بازار میں نہیں پہنچ سکے گا۔

کیا ایرانی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟

ایرانی فوج نے علاقے میں اینٹی شپ میزائل، آبدوزیں، بارودی سرنگیں اور درجنوں جنگی بیڑے تعینات کر رکھے ہیں۔ اسی طرح کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے ایرانی بحریہ کی سیکڑوں کشتیاں اور اسپیڈ بوٹس ہر وقت تیار ہیں۔

حال ہی میں ایران کی بحریہ کے سابق سربراہ حبیب اللہ سیاری نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا، ایران کے لئے اتنا ہی آسان ہے جتنا ایک گلاس پانی پینا۔ ایرانی فوج نے علاقے میں فوجی مشقیں کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا اور متعدد اینٹی شپ میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔  

در ایں اثنا امریکی فوج نے ایران کی اس دھمکی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں تیل ٹینکروں کی بحفاظت آمد و رفت کو یقینی بنا سکتی ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے ایک ترجمان کیپٹن بل اربن نے دعوی کیا کہ امریکی فوج اور اس کے علاقائی اتحادی ممالک،  آبی راستے کو تیل ٹینکروں کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لئے تیار ہیں تاہم شام، عراق اور یمن میں امریکا اور اس کے علاقائی ممالک کی شکست کے مد نظر امریکا کا یہ دعوی کھوکھلا ہی نظر آتا ہے۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬