‫‫کیٹیگری‬ :
21 August 2018 - 13:56
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436935
فونت
حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی :
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے پہلے پالیسی خطاب میں ریاست مدینہ کا تذکرہ کیاگیا البتہ ریاست مدینہ ماڈل کیلئے میثاق مدینہ طرز کا معاہد بھی ناگزیر ہے ۔
 ساجد علی نقوی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے الیکشن 2018ءپر تحفظات کے باوجود ترجیحات پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے پہلے پالیسی خطاب میں ریاست مدینہ کا تذکرہ کیاگیا البتہ ریاست مدینہ ماڈل کیلئے میثاق مدینہ طرز کا معاہد بھی ناگزیر ہے، قانون کی حکمرانی ،خارجہ پالیسی کے بنیادی امورکا تذکرہ ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے وضاحت کی : بنیادی انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور قانون سے ماوریٰ جبری نظام کے خاتمے کے حوالے سے بھی اظہار نہ کیاگیا ،فلاحی ریاست کے قیام کیلئے خود احتسابی کیساتھ معاشرے کےتمام افرا د کو یکساں مواقع اور حقوق فراہم کرنا بھی ضروری ہیں۔

حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ وزیراعظم کے قومی اسمبلی کے خطاب کے بعد قوم سے خطاب کا انتظار تھا ، وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کرپشن کے خاتمے، فلاحی ریاست کے قیام، سادگی اپنانے کی ترجیحات کا تذکرہ کیا جوخوش آئند ہے البتہ وزیراعظم کے خطاب میں بنیادی انسانی حقوق ،شہری آزادیوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا، انتہائی تعجب خیز کہ رول آف لاءجو معاشرے میں امن کے قیام کیلئے انتہائی ضروری ہے اس کا تذکرہ بھی نہیں ہوا، قانون سے ماوریٰ جبر کا نظام، وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے ، لاپتہ افراد ، معاشی و معاشرتی ناہمواری ، داخلی ہم آہنگی ، ہر قسم کے استحصال کے خاتمے ، اقلیتی برادری کے حقوق سمیت دیگر امور کا تذکرہ نہیں کیاگیا ۔

انہوں نے بیان کیا کہ  جب تک داخلی استحکام نہیں آئیگا، اس وقت تک معاشی استحکام ممکن نہیں، نومنتخب وزیراعظم اس جانب بھی اپنی توجہ مرکوز کریں اور معاشرے کی ناہمواریوں کے خاتمے کیلئے جامع روڈ میپ تشکیل دیں ،ریاست مدینہ ضرور رول ماڈل ہونا چاہیے لیکن اس کیلئے میثاق مدینہ طرز کا معاہدہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے اوراس کی پابند ی کی جائے تبھی اس خیال کو حقیقت کا روپ ملے گا، صرف ہمسائیہ ممالک سے بہتر تعلقات کا تذکرہ کیا گیا البتہ پاک بھارت تعلقات، مسئلہ کشمیر جیسا کور ایشو، افغانستان کے تعلقات بارے جامع پالیسی کا تذکرہ نہ کیاگیا۔

حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے بنیادی امور کے حوالے سے پاک امریکہ تعلقات، اسرائیل فلسطین تنازعہ، ایران سعودیہ تنازعہ اور یمن و بحرین و شام کے مسائل کے بارے میں پالیسی کا اعلان نہ کیاگیا ، اس بات کا ضرور اعادہ کیاگیا کہ مدارس میں اصلاحات لاکر ان طلباءکو جج، جرنیل، انجینئر اور ڈاکٹرز بنایا جائے گا لیکن قابل، تربیت یافتہ اور باصلاحیت عالم دین بھی معاشرے کی ضرورت ہیں جو بہرحال کسی دوسرے شعبے کا ماہر پوری نہیں کرسکتا ۔

انہوں نے بیان کیا کہ امید ہے نومنتخب حکومت ان اہم اور بنیادی نکات پر توجہ ضرور مرکوز کریگی کیونکہ ایک فلاحی ریاست کے قیام کیلئے خوداحتسابی کے ساتھ معاشرے کے تمام افراد کو یکساں موقع فراہم کرنا بھی لازم ہیں۔صحیح صورتحال اس وقت سامنے آئے گی جب عملی اقدامات کیے جائیں گے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬