‫‫کیٹیگری‬ :
20 December 2018 - 22:28
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 438939
فونت
حجت الاسلام حسن روحانی :
ایران کے صدر جمہور نے ایران کے سلسلہ میں امریکا کی طرف سے ظالمانہ پابندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ایران کے خلاف امریکہ کے اقدامات سو فیصد دہشت گردانہ ہیں اس لئے کہ وہ دیگر ملکوں کو قرارداد بائیس اکتیس پر عمل درآمدع اور آزادانہ تجارت کرنے سے روک ر
حجت الاسلام حسن روحانی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حجت الاسلام حسن روحانی نے انقرہ میں اپنے ہم منصب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا : اقوام متحدہ کی قرارداد بائیس اکتّیس کے تحت دنیا کے تمام ملکوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کی حمایت کریں اور ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے ماحول سازگار بنائیں۔

انہوں نے ایران کے سلسلہ میں امریکا کی طرف سے ظالمانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا : امریکہ کے ساتھ ساتھ صرف چند ممالک ایسے ہیں کہ جنھوں نے ایرانی عوام کے حق کو نظرانداز کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد اور بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔

حجت الاسلام حسن روحانی نے بیان کیا : دنیا میں اکڑ دکھانے اور داداگیری کا دور اب ختم ہو چکا ہے اور تمام قومیں اپنے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہی فیصلے کرتی ہیں۔

انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کے بارے میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور ان کی حکومت کے کھلے اور دو ٹوک مواقف کی قدردانی کرتے ہوئے کہا : ایران کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ پسندی اور غیر قانونی پابندیوں کے بارے میں ٹھوس مواقف قانون و اخلاق پر دونوں ملکوں کے کاربند رہنے کے مترادف ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جمہور نے شام میں دوسرے ممالک کی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ایران اور ترکی کا خیال ہے کہ شام کا مسئلہ اس ملک کے عوام کے ہاتھوں ہی حل اور اس ملک کی ارضی سالمیت کا تحفظ ہونا چاہئے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : دونوں ملکوں کے درمیان یہ بھی طے پایا ہے کہ شام کے سلسلے میں روس، ایران، اور ترکی کا آئندہ اجلاس روس میں منعقد ہو گا۔

حجت الاسلام حسن روحانی نے یمن کے سلسلہ میں دونوں ممالک کے موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ایران اور ترکی سمجھتے ہیں کہ بحران یمن یمنی فریقوں کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے اور ایران اور ترکی یمنی عوام کو انسان دوستانہ امداد فراہم کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

اس پریس کانفرنس میں رجب طیب اردوان نے کہا : ایران مخالف امریکی پابندیوں نے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ترکی کے صدر نے کہا : عالمی جوہری توانائی ادارے کی متعدد رپورٹس کے مطابق ایران نے اب تک جوہری معاہدے سے متعلق اپنے تمام وعدوں پر عمل کیا ہے لہذا ترکی، جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی اور اس کے دوسرے ممالک پر دباؤ کو صحیح نہیں سمجھتا۔

انہوں نے ترکی کا ایران کے ساتھ تعاون پر تاکید کرتے ہوئے کہا : امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کے پیش نظر ترکی ایرانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

رجب طیب اردوان نے کہا : امریکی پابندیوں سے خطے کے امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچے گا اور ہم ایک بار پھر اعلان کرتے ہیں کہ ترکی، امریکی پابندیوں کا ساتھ نہیں دے گا۔

انہوں نے ایران و ترکی کے درمیان کے تعلقات کو کافی اہم جانا ہے اور بیان کیا : علاقائی امن و سلامتی کے لئے ایران اور ترکی کے مشترکہ تعاون نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس حوالے سے مشترکہ کوششوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے دعوت پر ایران کے صدر حجت الاسلام حسن روحانی ترکی دورہ پر ہیں ۔/۹۸۹/ف۹۷۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬