‫‫کیٹیگری‬ :
16 January 2019 - 13:26
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439544
فونت
میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ یہ علماء کرام ائمہ مساجد، مفتیان عظام اور دینی تنظیموں کے سربراہان کی ملی اور دینی ذمہ داری ہیکہ وہ لوگوں کو کلمہ وحدت میں پرونے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

رسا ںیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کرام کے ایک وفد نے کل جماعتی حریت کانفرنس (م) کے چیئرمین میرواعظ ڈاکٹر مولانا محمد عمر فاروق، کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی اور لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک سے ملاقات کی۔

ملاقات میں مولانا غلام محمد گلزار، مولانا شیخ غلام حسین متو، مولانا علی محمد جان، مولانا حکیم سجاد حسین، مولانا نذیر احمد حلیمی، مولانا غلام مصطفی میر فاطمی، مولانا منظور احمد ملک، مولانا عاشق حسین میر شامل تھے۔ اس دوران میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ یہ علماء کرام ائمہ مساجد، مفتیان عظام اور دینی تنظیموں کے سربراہان کی ملی اور دینی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو کلمہ وحدت میں پرونے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ جو قوم بلند نصب العین کے لئے ہر روز اپنے لخت جگروں اور عزیزوں کی قربانی پیش کررہی ہے، اُس کو ثمر آور بنانے کے لئے وحدت بین المسلمین ضروری ہے اور ہم وحدت بین المسلمین سے ہی اس مقصد کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء اور ائمہ مساجد ایک فلاحی اور اتحاد و اتفاق سے مزین سماج میں کلیدی رول ہیں اور انہیں چاہیئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ملت کو صحیح رہنمائی کریں۔

میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ قوم اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کے حوالے سے جاری جدوجہد میں ایک انتہائی نازک اور فیصلے کُن مرحلے سے گزر رہی ہے، اس حالت میں کشمیر صدیوں سے قائم ملی بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو بگاڑنے کی کسی کو اجازت نہیں دے گی۔

سید علی شاہ گیلانی اور محمد یاسین ملک نے بھی وحدت اسلامی کی اہمیت و افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

اس دوران شیعہ علماء کرام نے کہا کہ آئندہ بھی وحدت اسلامی کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے پروگرامز کا اہتمام جاری رہے گا۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬