‫‫کیٹیگری‬ :
24 January 2019 - 21:36
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439604
فونت
آل شیعہ پارٹیز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ رہنماؤں نے کہا کہ حکومت اور ریاستی اداروں کو ملت جعفریہ کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی، انصاف کے حصول کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغٖ نہیں کیا جائے گا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام شہر قائد میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف آل شیعہ پارٹیز پریس کانفرنس کا انعقاد صوبائی سیکریٹریٹ کلیٹن گارڈن، سولجر بازار میں کیا گیا۔

اس موقع پر شیعہ رہنماؤں کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہر قائد میں ٹارگٹ کلنگ کی نئی لہر امن و امان کو خراب کرنے کی گھناؤنی سازش ہے، ملت جعفریہ پاکستان کی اہم اکائی ہے، بانیان پاکستان کی اولادوں کا دن دہاڑے قتل عام ہو اور ریاستی ادارے اس پر متوجہ نہ ہوں، یہ عمل افسوس ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ قتل و غارتگری میں جو عارضی وقفہ آیا تھا، وہ ختم ہو چکا ہے۔

شیعہ رہنماؤں نے کہا کہ علی رضا عابدی کی ٹارگٹ کلنگ سے دوبارہ شروع ہونے والا شہادتوں کا سلسلہ فدا حسین سے ہوتا ہوا محمد علی شاہ تک پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن کی عدم توجہی کی بدولت خطرناک دہشتگرد عدالتوں سے بری ہو رہے ہیں، جبکہ ملت تشیع کو ریاستی اداروں کے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں شیعہ اکابرین کا قتل ہونا اور شیعہ جوانوں کا ہی لاپتا ہونا قابل مذمت اور باعث تشویش ہے، ہم لاشیں بھی اٹھا رہے ہیں اور اپنے لاپتا جوانوں کو تلاش بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین چار برسوں میں ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے ہونے والے ریاستی اقدامات قابل تحسین ہیں، لیکن ان اقدامات کے پیچھے قاتل و مقتول کا فرق ختم کرنا غیر منطقی اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں امریکا سے دوری کے بعد ملک میں دہشتگردی میں کمی واقعی ہوئی تھی، لیکن اب دوبارہ ملک دشمن قوتیں قومی سلامتی کے درپے نظر آتی ہیں، دہشتگردی کی نئی لہر بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ سانحہ ساہیوال میں پولیس کی دہشتگردی کی ویڈیو فوٹیجز تو ریاستی اداروں کو مل جاتی ہیں، لیکن شہر قائد کی مصروف شاہراہوں پر دن دہاڑے قتل ہونے والے شیعہ اکابرین کی ٹارگٹ کلنگ کی سی سی ٹی وی ریکاڈنگ میڈیا تک نہیں پہچائی جاتیں۔

شیعہ رہنماوں کا کہنا تھا کہ شیعہ نسل کشی اور ملت تشیع کے خلاف حکومتی کے امتیازی اقدامات قوم کیلئے تشویش کا باعث ہیں، ہم امن پسند قوم ہیں، حکومت اور ریاستی اداروں کو ملت جعفریہ کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی، انصاف کے حصول کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغٖ نہیں کیا جائے گا۔

شیعہ رہنماؤں نے کہا کہ قائدؒ کے پاکستان کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم نہیں کرنے دیا جائے گا، سیاچن سے لے کر کوئٹہ تک ملت جعفریہ پاکستان متحد ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان یا فورتھ شیڈول کی آڑ میں عزاداری کے پروگراموں کو محدود کرنے یا دیگر کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے، ہم پُرامن اور محب وطن قوم ہیں، قانون و انصاف کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، لیکن قانون کے نام پر اپنے مذہبی آزادی کے آئینی حق سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا، ان شا اللہ ہمارے تمام روایتی جلوس و مجالس کے پروگرام مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ بغیر کسی قدغن کے جاری رہیں گے۔

شرکاء پریس کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ حالیہ دنوں شہر قائد میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے والے شیعہ رہنماؤں و عمائدین کے قتل میں ملوث سفاک دہشتگردوں کو فوری گرفتار کیا جائے، شیعہ عمائدین کے قتل میں ملوث دہشتگردوں کو سیاسی دباؤ میں چھوڑنے کا نوٹس لیا جائے اور ان دہشتگردوں کو دوبارہ گرفتار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شیعیان حیدرکرارؑ پر دہشتگرد حملوں کے کیسز کو فوری طور پر فوجی عدالتوں میں بھیجا جائے اور دہشتگردوں کو قرار واقعی سزا دی جائے، شیعہ علماء کرام اور شخصیات کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے اور وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے علماء و شخصیات کی واپس کی جانے والی سکیورٹی کو دوبارہ بحال کیا جائے۔

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی اہم قومی اور سلامتی کے اداروں میں فرقہ وارانہ تقسیم کرنے کی سازشوں کو فوری روکا جائے اور ملک کو مزید تقسیم سے بچایا جائے، نیشنل ایکشن پلان کو اسکی اصل روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، تاکہ پاکستان کے عوام کو دہشتگردی کے عفریت سے بچا کر ملک کو خوشحال بنایا جا سکے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت تمام کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور انکی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬