
رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق قم کے امام جمعہ آیت الله رضا استادی نے مدرسہ فیضیہ میں پیامبر اکرم (ص) اور امام علی علیہ السلام کے با وفا صحابی حجربن عدی کے قبر پر حملہ و بے احترامی کی مذمت میں منعقدہ اعتراضی اجلاس میں بیان کیا : عالمی ادارہ ایسے مظالم پر اپنی خاموشی کی وجہ سے اس سے زیادہ رسوائی اور اپنی بے عزتی نہ کرائیں ۔
انہوں نے وضاحت کی : اگر اس وقت ایران میں ایک مجرم کو پھانسی کی سزا دی جاتی ہے تو تمام عالمی ادارہ کی طرف سے آواز بلند ہونا شروع ہو جاتا ہے سب کے منہ میں زبان دکھنے لگتی ہے مگر اس وقت شام میں وسیع پیمانہ پر قتل و غارت کا بازار گرم ہے مگر کوئی ادارہ اس سلسلہ میں اپنا رد عمل پیش نہیں کر رہا ہے ۔
قم کے امام جمعہ نے عالمی میڈیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس کو سامراجی نوکر جانا ہے جو کہ شام اور بحرین میں رونما ہو رہے واقعات کو پوشیدہ کر رہی ہے بیان کیا : یہ عالمی میڈیہ یہاں تک کہ ایران اسلامی کو بھی کام کرنے کا اجازت نہیں دے رہی ہے لیکن ان لوگوں کو جان لینا چاہیئے کہ عوام ان حقیقت سے با خبر ہے ۔
انہوں نے اس سلسلہ میں اسلام کے علماء کی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : 14 صدیوں سے مزار و مقبریں موجود تھیں اور اھل سنت کے کسی بھی عالم دین نے اس سلسلہ میں اعتراض نہیں کیا ہے ۔
آیتالله استادی نے بیان کیا : اس وقت ایک مذہب پیدا ہوا ہے جس کے علماء نے جہالت اور نادانی کی بنا پر اس طرح کا فتوی دیا ہے اور اس فتوای کی وجہ سے یہ مظالم رو نما ہو رہے ہیں اور ہم لوگ علماء اسلام سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے فتوی دینے والے لوگوں کی مذمت کی جائے ۔