‫‫کیٹیگری‬ :
15 May 2016 - 14:08
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 422271
فونت
آیت ‎الله جوادی آملی:
حضرت آیت ‎الله جوادی آملی نے وحی الھی کے مخاطبین اور بعض افراد کی جانب سے آیات الھی کا استہزاء کئے جانے کی جانب اشارہ کیا اور کہا: جب عقل کا راستہ مسدود ہو اور انبیاء الھی کی باتیں دل کی تہوں میں نہ اتریں تو ہوا و ہوس انسان کے راھبر بن جاتے ہیں ۔
جوادی آملی



رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مرجع تقلید قم اور مفسر عصر حضرت آیت ‎الله جوادی آملی نے اپنے تفسیر کے درس میں جو مسجد آعظم قم میں سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ کی شرکت میں منعقد ہوا، سوره مبارکہ محمد(ص) کی آیات کی تفسیر کی ۔


انہوں نے وحی الھی کے مخاطبین اور بعض افراد کی جانب سے آیات الھی کا استہزاء کئے جانے کی جانب اشارہ کیا اور کہا : کچھ لوگ وحی الھی کے عاشق اور اس کے منتظر تھے اور یہ وہ لوگ تھے کہ جب وحی نازل ہوتی تھی تو ان کی آنکھوں سے آنسو کے سوتے پھوٹ پڑتے تھے اور وہ پورے ذوق و شوق کے ساتھ ایات کو سنتے تھے ۔


انہوں نے مزید کہا: آیات الھی کو سن کو کچھ لوگوں کی آنکھیں نم ہوتی تھیں تو بعض کے آنکھوں سے آنسوں بہتے تھے اور کچھ لوگوں کی آنکھوں سے آنسووں کا سیلاب پھوٹ پڑتا تھا «تری أعینهم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق» ۔


مفسر عصر قران کریم نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ کچھ لوگ رسول اسلام کے پاس اپنی باتیں بیان کرنے کی غرض سے آئے کہا: خداوند متعال نے فرمایا کہ بعض افراد تجھ سے مجادلہ کرنے کی غرض سے آتے ہیں کہ تجھ سے بحث کریں اور اپنی باتیں تم سے کہ سکیں، نہ یہ کہ تمھاری باتیں سنیں ، اور دوسرا گروہ آپ کے شاگردوں کا گروپ ہے جو آپ کی نشست میں اپ کی باتوں سے استفادہ کی غرض سے بیٹھتا ہے ۔


انہوں نے کہا: کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپ کی تحقیر کا ارادہ رکھتے ہیں ، لھذا یہ لوگ جب درس کی نشست ختم ہوجاتی ہے تو آپ کے محبوں سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے کیا بیان کیا میری تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا ، ان باتوں کے ذریعہ یہ لوگ آپ کی توھین کا ارادہ رکھتے ہیں ۔


حضرت آیت ‎الله جوادی آملی یہ کہتے ہوئے کہ جب عقل کا راستہ مسدود ہو اور انبیاء کی باتیں دل کی تہوں میں نہ اتریں تو ہوا و ہوس انسان کے راھنما بن جاتے ہیں کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عقل کا راستہ بند ہوجائے تو انسان باہر کی صدائیں نہیں سن پاتا اور فقط اپنے اندر موجود چیزوں کے ذریعہ اپنے فیصلے لیتا ہے وہ چاہے علم کی دنیا ہو چاہے عمل کا میدان، دونوں ہی ہوا و ہوس کا شکار ہوجاتے ہیں ۔


انہوں نے آیہ «والذین اهتدوا زادهم هدی و أتاهم تقواهم» کی تفسیر میں کہا: اس کے مقابل وہ لوگ ہیں جو آیات الھی کو سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔


حضرت آیت ‎الله جوادی آملی نے کہا: آیات الھی کا مذاق اڑانے والے افراد عذاب الھی کے منتظر ہیں ۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬