‫‫کیٹیگری‬ :
19 September 2016 - 23:54
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423338
فونت
آیت اللہ عباس کعبی :
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن نے کہا : آل سعود بنی امیہ خاندان کے سلسلے کا ایک کڑی ہے جو آج بھی شجرہ خبیثہ اور ملعونہ کا مظہر ہے ۔
آیت اللہ عباس کعبی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے ممبر آیت اللہ عباس کعبی نے آل سعود کے شجرہ خبیثہ اور ملعونہ کو خطے میں وہابی تکفیری دہشت گردانہ افکار کی پیداوار، تبلیغ اور ترویج  کا اصلی مرکز قراردیتے ہوئے کہا : شجرہ خبیثہ کا قرآن مجید کے سورہ مبارکہ ابراہیم کی آیت نمبر ۲۴ سے ۲۶ تک ذکر موجود ہے ۔

آیت اللہ کعبی نے کہا : قرآن مجید کے اندر دو شجروں یا دو خاندانوں کا ذکر موجود ہے جن میں ایک شجرہ طیبہ ہے جس سے مراد پیمغبر اسلام  اور ان کے اہلبیت (ع) ہیں اورجو حق کا مظہر ہے جس میں محمد اور آل محمد (ص) شامل ہیں جبکہ شجرہ خبیثہ سے مراد بنی امیہ کا خاندان ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا : یہ خاندان اپنی بد اعمالی کی وجہ اور پیغمبر اسلام کے ساتھ دشمنی اور عداوت کی وجہ سے اللہ تعالی کی لعنت کا مستحق قرارپایا اور آل سعود اسی بنی امیہ خاندان کے سلسلے کا ایک کڑی ہے  جو آج بھی شجرہ خبیثہ اور ملعونہ کا مظہر ہیں ۔

عباس کعبی نے تاکید کرتے ہوئے کہا : آل سعود کا رجحان آج بھی باطل پرستی اور طاغوت پرستی کی جانب ہے اسی لئے وہ امریکی شیطانی اتحاد کا حصہ ہیں اور وہ اس دور کے بڑے شیطان کے معاون اور مددگار ہیں۔

انہوں نے کہا : آل سعود نے امریکہ اور اسرائیل کی پیروی ، دہشت گرد گروہوں کی تشکیل، منی میں حجاج کرام کا قتل عام ، حج کے انتظامی امور میں نااہلی ، یمن پر وحشیانہ اور مجرمانہ بمباری  اور مسلمانوں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی حمایت کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ بنی امیہ کے خاندان کے پیروکار اور ملعون ہیں ۔

آیت اللہ کعبی نے کہا : منی کے المناک واقعہ میں آل سعود نے تشنہ لب حجاج کو پانی تک فراہم نہیں کیا اور آل سعود نے اللہ تعالی کے بہترین انسانوں کو بہترین جگہ پر بےرحمانہ طور پر شہید کردیا اور اس المناک واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے بجائے اس میں رکاوٹ اور خلل ڈال دیا تاکہ دنیا اس المناک واقعہ کے حقائق کی تہہ تک نہ پہنچ سکے۔

آیت اللہ عباس کعبی نے کہا : آل سعود کے کارنامہ ایسے ہو چکے ہیں کہ اس پر اللہ تعالی کا دردناک عذاب نازل ہوگا جس سے انھیں دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکے گی۔/۹۸۹/۹۳۰/ک۴۵۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬