‫‫کیٹیگری‬ :
23 September 2016 - 19:13
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423407
فونت
قائد ملت جعفریہ نے بیان کیا : یہ دن تکمیل دین کی سند کے طور پر اور امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کی ولایت کے اعلان کے طور پر تاریخ اسلام میں بے پناہ اہمیت رکھتا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے ’’عید غدیر‘‘ کی مناسبت سے اسلامیان عالم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا : جس دین کامل کو خدا کے نزدیک پسندیدہ ترین دین قرار دیا گیا ہو اور جس کی ترویج و اشاعت کے لئے رحمت اللعالمین جیسی ہستی نے تکالیف اور مصائب برداشت کئے ہوں ‘ حج بیت اللہ کے بعد غدید جیسے تاریخی میدان میں اس کی تکمیل کازبان وحی سے اعلان غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے ۔ عالم انسانیت کو اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ جلد یا بدیر بالاخر دنیائے عالم کو دین حق کی جانب ہی رخ کرنا پڑے گا کیونکہ دین اسلام ہی بالاخر انسان کی دنیوی و اخروی فلاح اور نجات کا ضامن ہے۔

انہوں نے بیان کیا : یہ دن تکمیل دین کی سند کے طور پر اور امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کی ولایت کے اعلان کے طور پر تاریخ اسلام میں بے پناہ اہمیت رکھتا ہے۔

حجت الاسلام ساجد نقوی نے کہا یوم غدیر امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی ولایت و امامت کے اعلان کا بھی دن ہے جنہوں نے پیغمبر گرامی کے جانشین کے طور پر بعد از پیغمبرؐ بیک وقت تطہیر نفس اور تطہیر نظام کی طرح ڈالی اور اسے عملی طور پر ثابت کردکھا۔

انہوں نے کہا : آپؑ نے تطہیر نفس کے لئے تقوی‘ شب بیداری‘ عبادت‘ حسن سلوک‘ عاجزی‘ انکساری اور تواضع جیسی صفات اختیار کیں جبکہ تطہیر نظام و معاشرہ کے لئے عدل و انصاف‘ اعتدال‘ توازن‘ حقوق کا حصول اور اسلامی نظام حیات کے نفاذ کے لئے بھرپور عملی اقدامات اٹھائے یہی وجہ ہے کہ آپ کے اندر ذاتی اور اجتماعی رہنمائی کے لئے تمام خصوصیات اور شرائط موجود تھیں جس سے ایک عام انسان سے لے کر دنیا پر حکمرانی کرنے کے خواہش مند شخص کے لئے مکمل استفادے کا سامان موجود ہے اور آپ کی سیرت و کردار اور عمل اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

حجت الاسلام ساجد نقوی نے کہا : عید غدیر کی بابرکت ساعتوں میں ہمیں اس عہد کی تجدید کرنا ہوگی کہ دین حق کی سربلندی اور ترویج اور امام برحق حضرت علی ابن ابی طالبؑ کے سیرت و کردار کو نمونہ عمل بناتے ہوئے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں گے۔ ۹۸۹/ ۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬