‫‫کیٹیگری‬ :
29 November 2016 - 22:53
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424775
فونت
حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی :
امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک کے متولی نے کہا: عراق کے شہر حلہ میں داعش تکفیری گروہ کا زائرین حسینی پر خوش کش حملہ ان کی شکست کی علامت ہے۔
سید ابراھیم رئیسی

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت کی شب امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت پر تسلیت و تعزیت پیش کی ۔

 انہوں نے  سورہ مبارکہ انفال کی چوبیسویں آیت کہ جس میں خداوندعالم ارشار فرماتا ہے " «یا ایها الذین آمنو استجیبو لله و للرسول اذا دعاکم لما یحییکم» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : اس آیت کی بنیاد پر خداوند عالم اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانوں کو حیات طیبہ کی دعوت دیتے ہیں ایسی بلند و بالا حیات کہ جو بشریت کو ربانی بناتی ہے اور دنیوی ہدایت اخروی سعادت کا سبب بنتی ہے۔

حوزہ علمیہ مشہد کے مشہور و معروف استاد نے کہا: انبیاء و آئمہ معصومین علیہم السلام ہدایت کے لئے آئے تاکہ انسان کو ملکوتی بنا سکیں، اس طرح کہ انسان سعادت کو اپنے لئے ایک ربانی زندگی کا سبب فراہم کرے اور اگر انسان صراط ہدایت الہی پر قدم رکھے اس وقت اس کی زندگی گمراہوں کے اہداف کے راستہ میں نہیں قرار پائے گی اور یہ اجازت نہیں دے گی کہ دنیا کے کفار و منافقین اس کے لئے زندگی کا راستہ معین کریں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : دوران جاہلیت وہ زمانہ ہے کہ جب انسان کا عمل، اخلاق اور افکار جہالت سے آلودہ ہوجائے ؛ جب انسانیت میں الہی افکار ، اخلاق کریمہ اور عمل صالح کا فقدان ہوجائے اور انسانی عواطف پر حیوانی زندگی کا غلبہ ہوجائے ؛ قتل وغارت، خودخواہی، خودبینی رائج  ہوجائے، انسانی اقدار حیوانی شہوات کے زیر پا پائمال ہونے لگیں وہ زمانہ جاہلیت ہے ۔

سید ابراھیم رئیسی نے حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو بشریت کی جانب سے  قبول کرنے کو انسانیت کے لئے سعادت مندی قرار دیا اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد اسلامی امت کی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سورہ آل عمران کی ایک سو چوالیسویں آیت کی تفسیر میں بیان کیا : اسلامی امت کے لیے حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد دو راستہ تھے ایک ہدایت الہی کا راستہ اور نبوی تعلیمات کی پیروی تاکہ ربانی زندگی حاصل کرسکیں اور دوسرا راستہ زمانہ جاہلیت و قہقرا کی طرف پلٹنا اور حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روگردانی کرنا ۔

انہوں نے «یا ایها الذین آمنو ان تطیعو الذین کفروا یردوکم علی اعقابکم فتنقلبوا خاسرین» آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی: خداوندعالم نے اس آیت شریفہ میں مسلمانوں کے زمانہ جاہلیت کی طرف پلٹنے کو کفار کی اطاعت و پیروی میں قراردیا ۔

حجت الاسلام والمسلمین رئیسی نے کہا : اسلامی معاشرہ اگر کفار و منافقین اور مستکبرین کی پیروی کرے اور تعلیمات نبوی و رضائے الہی  و اطاعت ہادیان برحق کو چھوڑدے تو اس وقت اسلام کو ہاتھ سے کھوکر زمانہ جاہلیت کی طرف پلٹ جائے گا۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۵۶۲/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬