‫‫کیٹیگری‬ :
19 December 2016 - 18:33
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425170
فونت
سپیکر جی بی اسمبلی نے گلگت میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علمی اور تحقیقی محافل کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت اور جی بی کی قسمت بدلنے میں یقیناً تحقیق و تخلیق کا عمل دخل ہے۔
کانفرنس



رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہفتہ وحدت کی مناسبت سے شیعہ اثناء عشری انٹلیکچولز فورم گلگت بلتستان کے زیر اہتمام "سیرت رسول اکرم ؐ " کے موضوع پر ایک اہم کانفرنس مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی۔

کانفرنس میں ادبی، سماجی، سیاسی و مذہبی شخصیات کے علاوہ بڑی تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی سپیکر قانون ساز اسمبلی جی بی فدا محمد ناشاد تھے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس قسم کی مذہبی، تعلیمی، علمی اور تحقیقی محافل کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور جی بی کی قسمت بدلنے میں یقیناً تحقیق و تخلیق کا عمل دخل ہے۔ اس محفل میں ایم ڈبلیو ایم جی بی کے رکن اسمبلی حاجی رضوان علی نے خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس میں اہلسنت، اہل تشیع، نوربخشیہ اور اسماعیلی مکتب فکر کے سکالرز نے مقالے پیش کئے۔

اس موقع ڈاکٹر عزیز علی دینار نے اپنے مقالے میں مسلمانوں کی شاندار ماضی کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ حالات میں دوبارہ تحقیق و تخلیق کی جانب متوجہ ہونے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر نے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے بنیادی نقائص کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تزکیہ نفس کی طرف متوجہ کیا۔

کانفرنس سے ڈاکٹر سیدہ فضہ مسلم نے خواتین کی بنیادی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیرت رسول اکرم ﷺ پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ امیر جان حقانی نے سیرت رسول اکرم ؐ کے معاشی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی معاشی زبوں حالی کو دور کرنے کی طرف متوجہ کیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ مشتاق حسین انصاری نے چاروں مکاتب فکر کے اسکالرز کی کاوشوں کو سراہا اور موجودہ حالات میں مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق پر زور دیا۔ /۹۸۸/ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬