‫‫کیٹیگری‬ :
20 June 2017 - 14:33
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 428623
فونت
حجت‌الاسلام‌ والمسلمین رفیعی نے بیان کیا ؛
جامعہ المصطفی العالمیہ کے فیکیلٹی ممبر نے مومن کی پانچ نمایا خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : ایمان لفظ تنہا خاص و اہم معنی کا حامل نہیں ہے اس بنا پر ایمان متعلق کے ساتھ اپنی اصلی پہچان پیدا کرتا ہے ۔
رسا نیوز ایجنسی میں حجت الاسلام ڈاکٹر رفیعی کی تشریف فرمائی / قم

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق جامعہ المصطفی العالمیہ کے فیکیلٹی ممبر حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے ایران کے مقدس شہر قم کے آستانہ مقدس حضرت معصومہ قم (س) کے امام خمینی (ره) حال میں منعقدہ اپنی تقریر میں اس بیان کے ساتھ کہ حقیقی ایمان کے دو بازو ہیں بیان کیا : علم اور عمل دو بازو ایمان کی حقیقت کو معین کرنے کے لئے ہیں ۔

جامعہ المصطفی العالمیہ کے فیکیلٹی ممبر نے اس بیان کے ساتھ کہ علم ایمان کا بعض حصہ ہے کہ جو تنہا انسان کی کامیابی کے لئے کافی نہیں ہے بیان کیا : قوم یہود رسول اکرم (ص) کے زمانہ میں نبی اکرم (ص) کی رسالت اور حقانیت کا علم رکھتے تھے لیکن یہ علم ان کی نجات و ہدایت کا سبب نہیں ہوا یہ اس حالت میں ہے کہ عمل بغیر علم کے بھی دین میں نفاق و انحراف کا مقدمہ ہے جیسا کہ تاریخ اسلام میں خوارج عمل بغیر علم کی علامت ہیں ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : علم اور عمل ایک ساتھ انسان کے ایمان کو مشخص کرنے کے لئے دو بازو ہیں اور اس دو بازو کا پایا جانا مومن کے لئے سماجی و فردی زندگی میں زمہ داری فراہم کرنے کا مقدمہ ہوگا ۔

حضرت معصومہ (س) کے روضہ مقدس کے مقرر نے اس بیان کے ساتھ کہ ایمان کی حقیقی پہچان عقیدہ ہے بیان کیا : ایمان لفظ تنہا خاص و اہم معنی کا حامل نہیں ہے اس بنا پر ایمان متعلق کے ساتھ اپنی اصلی پہچان پیدا کرتا ہے مثال کے طور پر خدا پر ایمان جس کی اسلام میں تاکید کی گئی ہے جیسا کہ یہ حقیقت امام لفظ کے لئے بھی صادق آتا ہے ؛ اس وجہ سے ایمان اور امام لفظ تنہا مثبت و منفی معنی نہیں بیان کرتا ۔

حجت‌الاسلام ‌والمسلمین رفیعی نے اس اشارہ کے ساتھ کہ ایمان کی دو قسم ہے بیان کیا : ایمان «مستقر» و «مستودع» یا دوسرے لفظوں میں ایمان اجارہ ای اور ایمان ملکی دو قسم قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ، جہاں تک کہ خداوند عالم سورہ مبارک انعام کی آیت ۹۸ «وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ؛ میں فرماتا ہے : وہ خدا ہے جس نے تم لوگوں کو ایک شخص سے پیدا کیا ہے پھر ہر شخص کی اقرار کی جگہ باپ کی پشت اور سوپنے کی جگہ ماں کا شکم مقرر کیا ہے ہم نے سمجھدار لوگوں کے لئے اپنی قدرت کی نشانیاں خوب تفصیل سے بیان کر دی ہیں ۔

جامعہ المصطفی العالمیہ کے فیکیلٹی ممبر نے اس اشارہ کے ساتھ کہ مومن کی پانچ نمایا خصوصیت ہے بیان کیا : مومن کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں خدا کی یاد اثر انداز ہوتی ہے یہ اس حالت می ہے کہ قرآن کریم کو سننے سے ان میں اثر ہوتی ہے یہ حقیقی مومن کی دوسری صفت بیان کی گئی ہے ۔  

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے یبان کیا : خداوند عالم پر توکل ، نماز پڑھنا اور انفاق مومن کی دوسری اہم خصوصیت ہے کہ جو سورہ انفال کی ابتدائی آیات میں بیان کیا گیا ہے جیسا کہ خداوند عالم ان آیات میں فرماتا ہے « حقیقی مومن وہ ہیں کہ جیسے ہی خداوند عالم کا ذکر ہوتا ہے ان کے دل میں خوف و لرز پیدا ہو جاتا ہے اور جب ان پر خداوند عالم کی آیات تلاوت ہو ان کی ایمان کا مقام بلند ہوتا ہے اور اپنے خدا پر ہر کام میں توکل کرتے ہیں ؛ وہ لوگ کہ نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو چیز بھی ان کو روزی دی گئی ہے اس میں سے انفاق کرتے ہیں ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۶۸۲/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬