‫‫کیٹیگری‬ :
14 October 2017 - 16:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 430377
فونت
شیخ ماهر حمود:
علمائے استقامت لبنان کے سربراہ نے کہا: دشمن، شام وعراق میں دھشت گردوں کی کھلی ہار کے بعد علاقے میں صھیونیوں سے وابستہ کُرد نظام حکومت کی آگ کو شعلہ ور کرنا چاہتا ہے ۔
شیخ ماهر حمود

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علمائے استقامت لبنان کے سربراہ شیخ ماهر حمود نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبے میں جو مسجد قدس صیدائے لبنان میں کثیر نمازیوں کی شرکت میں منعقد ہوئی کہا : فلسطین کا مسئلہ ، وعدہ الھی کے محقق ہونے اور ملت فلسطین کی پیروزی تک کہ جو بہت قریب ہے ملت اسلامیہ کے اہم مسئلہ کے عنوان سے باقی رہے گا ۔

انہوں نے مزید کہا: دشمن کی چالبازیوں کے پیش نظر اس تاریخی ، دینی اور انسانی حقیقت کی یاد دہانی ، خاص اہمیت رکھتی ہے  ۔

سرزمین لبنان کے اس سنی عالم دین نے فلسطینی گروہوں میں ہونے والی مصالحت کا پرتپاک استقبال کیا اور کہا: مصر میں فلسطینی گروہوں میں انجام پانے والی مصالحت ، اتحاد و یکجہتی صھیونی چالبازیوں سے مقابلہ کا عظیم و اہم سنٹر شمار کیا جاتا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: البتہ بعض گروہ اس موقع سے سوء استفادہ کرتے ہوئے عالمی سامراجیت کی چالوں کے عین مطابق استقامت کے خاتمہ اور مسئلہ فلسطین کو فراموشی کے حوالے کئے جانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

شیخ ماهر حمود نے فلسطین کی پیروزی کو الھی اور غیبی وعدہ جانا اور کہا: دشمن کی کوئی بھی چال ملت فلسطین کو پیروز ہونے سے نہیں روک سکتی ، پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اگر استقامت کا کوئی گروہ تھکن کا احساس کرنے لگا ہے تو دوسرے گروہ نے اٹھ کر اس کی جگہ لے لی ہے اور اس اسقامت کا اسلحہ ہاتھوں میں اٹھا لیا ہے ۔

علمائے استقامت لبنان کے سربراہ نے اس بات کی یاد دہانی کی کہ غاصب صھیونیت زوال کے قریب ہے اور ملت عربی و اسلامی کی طاقت یقینا ایک دن نمایاں ہوکر رہے گی ۔

انہوں نے غاصب صھیونیت سے بعض عرب ممالک کے بڑھتے ہوئے دوستانہ تعلقات پر انہیں متنبہ کیا اور کہا: غاصب صھیونیت سے مصالحت تمام عرب ممالک کے لئے خطرناک ہے ۔

اس لبنانی عالم دین نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ دشمن کی شازسیں اب بھی موجود ہیں ، دشمن، شام وعراق میں دھشت گردوں کی کھلی ہار کے بعد علاقے میں صھیونیوں سے وابستہ کُرد نظام حکومت کی آگ کو شعلہ ور کرنا چاہتا ہے کہا: اوباما اور کلنٹن نے جنگ داخلی کے آپشن سے استفادہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دیا البتہ وہ اپنی چالوں میں مکمل طور سے کامیاب نہ ہوسکے مگر ڈونلڈ ٹرمپ براہ راست میدان میں اترے اور انہوں نے خود کو یونسکو سے اس لئے الگ کرلیا کہ یونسکو نے فلسطین میں اسرائیل کی جنایتوں کا اقرار کیا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: امریکی صدر جمھوریہ کھلم کھلا اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ استقامت کے رھبروں کی جو بھی مخبری کرے گا اسے لاکھوں کا انعام دیا جائے گا ، ان تمام اقدامات کا مقصد فلسطین ، استقامت اور مجاھدین کے جزبات کو صدمہ پہونچانا ہے ۔

شیخ ماهر حمود نے اپنے خطبے کے آخر میں کہا: اسلام کو پہونچنے والی چوٹ کے بعد اسلامی ثقافت کی ترویج خاص اہمیت کی حامل ہے ، البتہ اس سلسلے میں مناسب پروگرامینگ ضروری ہے کہ تعلیم و ثقافت مکمل طور سے اسلامی ہو امریکا و مغربی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۵۹۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬