‫‫کیٹیگری‬ :
08 July 2018 - 10:32
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436528
فونت
آیت‌الله مصباح یزدی :
امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے سربراہ نے کہا : اس زمانہ میں انقلابیوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ معاشرہ اور محرک اسباب کی اچھی شناخت حاصل کریں اوراس اسباب کو اسلامی انقلاب کے مقاصد و امید کے لئے استفادہ کریں ۔
آیت الله مصباح یزدی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے سربراہ آیت ‌الله محمد تقی مصباح یزدی نے امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ میں منعقدہ تقریب میں اصول کافی کی ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : جب دو مومن ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں تو ایک دوسرے کا نور ایک دوسرے پر منعکس ہوتا ہے اور یہ نور ایک دوسرے پر اثر انداز بھی ہوتا ہے ۔

امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے سربراہ نے اس بیان کے ساتھ کہ مومنین کا ایک دوسرے کے درمیان ایمان ، الفت ، اہل بیت اور آئمہ اطہار ع سے محبت میں بہت زیادہ اشتراک پایا جاتا ہے کہا : بصیرت کا تبادل اور مومنین بھائی کے درمیان یکجہتی و شراکت داری معاہدہ کے مفید و مثبت آثار پائے جاتے ہیں ۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : ایک صحیح انتخاب کے لئے دو بنیادی مقولہ پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ، پہلا مقولہ شناخت ہے اور اگر کسی مسئلہ کے سلسلہ میں کافی و صحیح شناخت حاصل نہیں ہو سکے تو اس میدان میں فعالیت نہیں کی جا سکتی ہے ، دوسرا مقولہ جاذبہ اور کشش ہے ، کیونکہ جاذبہ و کشش نہ ہونے کی صورت میں انسان کسی بھی طرح کی کوئی فعالیت و اقدام نہیں کر پاتا ہے ، اس لئے اگر ایک مسئلہ کی صحیح شناخت اور معقول جاذبہ ایک کام کو انجام دینے کے لئے پایا جائے تو وہ اتنخاب صحیح ہوگا ۔  

آیت ‌الله مصباح یزدی نے گروپ اور تنظیم کی صورت میں کام کرنے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : انفرادی طور پر کسی کام کو انجام دینے میں بہت زیادہ مشکلات و سختی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی کام کو تنظیم و گروپ کے ساتھ انجام دینے میں ہمت و قدرت اور شخص کی صلاحیت میں اصافہ ہوتا ہے ۔

انہوں نے سورہ مبارکہ مائدہ کی دوسری آیت کی طر اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : گروپ کے ساتھ فعالیت کو انجام دینے کے لئے خاص اہتمام کرنا اور اس میں تعاون ایک ضروری امر ہے ، کیوں کہ گروپ کے ساتھ کام کے نتائج کا انفرادی کام سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ۔

آیت ‌الله مصباح یزدی نے وضاحت کی : ایک اسلامی معاشرے کو تشکیل دینے کے لئے حسد و خود خواہی سے دوری اختیار کرنا چاہیئے کیوں کہ ہم لوگ اس کوشش میں ہیں کہ نہ تنہا خود بہشت میں جائیں اور خوشی حاصل کریں بلکہ دوسروں کو بھی اس راہ پر ساتھ لے کر چلیں ، اسی وجہ سے نہ صرف شناخت پر اکتفا کریں بلکہ دینی جذبہ کا فروغ لوگوں کے درمیان ایک ضروری امر ہے ۔/۹۸۹/ف۹۷۳/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬