‫‫کیٹیگری‬ :
08 July 2018 - 21:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436540
فونت
آیت الله مهدوی :
اصفہان کے مشہور و معروف استاد نے کہا : کلمہ ہونا یعنی معنی کو نقل کرنے کا ذریعہ ہونا ہے اور حضرت عیسی (ع) اس وجہ سے کہ جس شخص کی بھی نگاہ ان پر پڑتی اس کو خداوند عالم کی یاد آتی ہے وہ کلمہ خداوند ہیں اور حالانکہ تمام الہی حجت کلمہ خداوند عالم ہیں ۔
آیت الله مهدوی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ اصفہان کے مشہور و معروف استاد آیت الله سید ابوالحسن مهدوی نے اصفہان شہر میں منعقدہ اپنے درس اخلاق کے جلسہ میں کہا : عقیدہ میں غلو ہونا ادیان کی پیروی کرنے والوں کے لئے بہت مشکل پیدا کی ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : انسان کی دینی تاریخ میں ایک بہت ہی اہم موضوع عقیدتی مسائل میں انسان کا شدت پسندی و انتہا پسندی کا رجحان رہا ہے اور اس زمانہ میں بھی ایسا ہے ؛ اس انتہا پسندی نے دیندار افراد کے لئے بہت زیادہ مشکلات پیدا کی ہیں ۔   

آیت الله مهدوی نے بیان کیا : عیسائی دین کی پیروی کرنے والوں میں زیادہ تر افراد کا یقین اس پر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خداوند عالم کے بیٹے ہیں اور اسلام دین کے ماننے والوں کے درمیان بہت ہی مختصر تعداد میں ایسے لوگ تھے جو امیرالمومنین علیہ السلام کو خدا خطاب کرتے تھے ، یہ لوگ اپنے افراد اپنے انتہا پسندی عقیدہ کی وجہ سے غالی کے نام سے مشہور ہیں ۔

اصفہان کے مشہور و معروف عالم دین نے اس بیان کے ساتھ کہ اہل بیت علیہم السلام ولایت میں غلو کرنے سے برا مانتے تھے بیان کیا : اہل بیت علیہم السلام کے سلسلہ میں جو غلو بیان ہوا ہے اس کو تین مرحلہ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ، پہلی غلط فکر اہل بیت علیہم السلام کو خدا جاننا ہے ، دوسری غلط فکر ان کو خداوند عالم کی اولاد جاننا ہے اور تیسری غلط فکر یہ ہے کہ بعض کا عقیدہ یہ ہے کہ خداوند عالم اہل بیت علیہم السلام میں حلول کی ہے یعنی ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام میں جو روح پائی جاتی ہے وہ حقیقت میں خداوند عالم کا روح ہے ۔

اصفہان کے امام جمعہ نے بیان کیا : امیر المؤمنین (ع) نے جو لوگ ان کو خدا کہتے تھے ان کے لئے ایک گڑھا کھودی اور اس گڑھے کو آگ سے پر کر دیا اور اس کے بعد غالیوں سے فرمایا ، اگر اپنے غلط عقیدہ سے باز نہیں آتے ہو تو تم لوگوں کو اسی آگ میں ڈال کر سزا دونگا ، تو غالیوں نے امیر المؤمنین (ع) سے خطاب ہو کر بیان کیا کہ خداوند عالم کے علاوہ کوئی بھی اپنے بندے کو آگ میں نہیں ڈال سکتا ہے ، ایسی صورت میں امیر المؤمنین (ع) نے دیکھا کہ یہ لوگ کسی بھی طرح سے اپنے غلط غالی عقیدہ کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں تو انہوں نے اپنے وعدہ پر عمل کرتے ہوئے ان کو آگ میں ڈال دیا ۔

حوزہ علمیہ میں اخلاق کے استاد نے اپنے اختمامی مراحل میں سورہ مبارک نساء کی ایک سو اکہترویں آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بیان کے ساتھ کہ خداوند عالم نے احسن طریقہ سے اپنے حجت کا تعارف کرایا ہے وضاحت کی : یہ آیت اہل کتاب کو دین میں غلو کرنے کی ممانعت کرتا ہے اور فرماتا ہے حضرت عیسی (ع) حضرت مریم کے بیٹے ہیں اور خداوند عالم کے رسول اور خداوند عالم کے کلمہ ہیں ، کلمہ ہونا یعنی معنی کو نقل کرنے کا ذریعہ ہونا ہے اور حضرت عیسی (ع) اس وجہ سے کہ جس شخص کی بھی نگاہ ان پر پڑتی اس کو خداوند عالم کی یاد آتی ہے وہ کلمہ خداوند ہیں اور حالانکہ تمام الہی حجت کلمہ خداوند عالم ہیں ۔/۹۸۹/ف۹۷۱/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬