‫‫کیٹیگری‬ :
17 July 2018 - 10:52
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436621
فونت
آیت الله جوادی آملی :
حضرت آیت الله جوادی آملی نے کہا : خداوند عالم جو کائینات اور ہم لوگوں کو خلق کرنے والا ہے اس نے ہم لوگوں کے لئے فرمایا ہے کہ انسان موت کو مار دیتا ہے نہ یہ کہ خود مر جاتا ہے ؛ انسان موت کے ذریعہ قید سے رہا ہوتا ہے نہ یہ کہ تباہ و نابود ہو جاتا ہے ! تب انسان ایک موجود ابدی و ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور ابدی موجود کو ابدی کام کرنا چاہیئے ۔
آیت الله جوادی آملی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد و قرآن کریم کے مشہور مفسر حضرت آیت الله جوادی آملی سے چین کے صوبہ ھنان کے علمیہ مدارس کے طلاب و اساتید نے ملاقات کی ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے اس ملاقات میں بیان کرتے ہوئے کہا : قرآن کریم خداوند عالم کی اہم کتاب ہے ، اس کتاب نے خلقت کے راز کو بیان کیا اور انسان کا اچھی طرح تعارف کرایا ہے ، دنیا کو راہ عبور جانا ہے اور آخرت کو مقصد کے عنوان سے تعارف کرایا ہے ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : دین اور دوسرے تمام مکاتب کی بنیادی فرق یہ ہے کہ خداوند عالم جو کائینات اور ہم لوگوں کو خلق کرنے والا ہے اس نے ہم لوگوں کے لئے فرمایا ہے کہ انسان موت کو مار دیتا ہے نہ یہ کہ خود مر جاتا ہے ؛ انسان موت کے ذریعہ قید سے رہا ہوتا ہے نہ یہ کہ تباہ و نابود ہو جاتا ہے ! تب انسان ایک موجود ابدی و ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور ابدی موجود کو ابدی کام کرنا چاہیئے ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے بیان کیا : انسان ذمہ دار خلق ہوا ہے کیوں کہ ہاتھ ، ارادہ اور فکر سب کھلے و آزاد ہیں لہذا جو اعمال بھی وہ انجام دیتا ہے اس کے لئے سوال کیا جائے گا اور اس کو اس کا جواب دینا ہوگا ۔ چین کے مسلمان امن و آزامش کے ساتھ فکر کرنے کی الہی ثقافت کی تبلیغ کریں ، تعلیم دین اور اس پر عمل کریں تا کہ اس طرح کے مسائل کے ذریعہ دوسرے لوگوں کے درمیان بھی جانے جائیں اور اس طریقہ سے لوگوں کے جسم میں تازہ روح پھوکی جائے کیوں کہ قران کریم فرماتا ہے دین آیا ہے تا کہ تم لوگوں کو زندہ کرے اور تم لوگوں کو حقیقی زندگی عنایت کرے ۔ /۹۸۹/ف۹۷۵/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬