‫‫کیٹیگری‬ :
02 August 2018 - 11:39
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436761
فونت
آیت الله جوادی آملی :
حضرت ‌آیت الله جوادی آملی نے تاکید کی ہے کہ ہم سب لوگوں کو ہوشیار رہنا چاہیئے تا کہ ہمارے اندر تکبر و خود نمائی اور فخر کرنا اپنی جگہ نہ بنا لے ۔
آیت الله جوادی آملی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد حضرت آیت الله جوادی آملی نے بیان کیا : جو شخص بھی اسلامی نظام میں کسی مقام تک پہوچا تو اس کو ہوشیار رہنا چاہیئے ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے امام رضا علیہ السلام کی ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : امام رضا علیہ السلام کے شاگرد زیادہ تھے ان میں سے ایک نصر بزنطی تھے کہ جنہوں نے برسوں مسلسل امام سے درس حاصل کی تھی ، ایک روز امام رضا علیہ السلام نے اپنا مخصوص سواری ان کے لئے بھیجا اور ان کو اپنے گھر پر دعوت کی ۔

جب ابی نصر کو اس کی خبر ہوئی تو وہ بہت خوش ہوئے کہ امام رضا ( سلام الله علیہ ) نے اپنی خصوصی سواری میرے بھیجا ہے اور مجھ کو اپنے گھر دعوت بھی دی ہے ۔ ابی نصیر نزنطی امام رضا ( سلام الله علیہ ) کے خصوصی سواری پر سور ہو کر امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور رات کا کھانا امام کے ساتھ ہی تناول کی ، اس کے بعد امام نے فرمایا کہ اگر آرام کرنا چاہتے ہو تو یہاں آرام کر لو ، ابی نصر نزنطی نے کہا کیا فخر کی بات ہوگی کہ امام کے گھر میں مہمان رہوں اور جب وہ سونے کے لئے بستر پر گئے تو ان کو یہ خیال آیا کہ میرا بھی کیا مقام ہے ! ۔

تبھی ان کے کان میں ایک آواز آئی «اجب مولاک اجب مولاک» امام بلا رہے ہیں ان کی خدمت میں حاضر ہو تم سے کچھ کہنا چاہتے ہیں ۔ ابی نصر بزنطی امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امام نے فرمایا فکر کر رہے ہو کہ کسی مقام پر پہوچ گئے ہو ؟ یہ کونسی فکر تمہارے ذہن میں آ گئی ہے ؟ یہ تم نے کیا خیال کر لیا ہے ؟ ۔

اس زمانہ میں اس زمانہ میں کوئی فرق نہیں ہے ہم سب لوگ امتحان کے مقام میں ہیں اس حدیث سے استفادہ ہوتا ہے کہ جو بھی اسلامی نظام میں کسی مقام پر پہوچ گیا ہے تو اس کو بہت ہی ہوشیار رہنے کی ضروت ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد نے بیان کیا : اصل یہ ہے کہ ہم لوگوں کی ذمہ داری خدمت کرنا ہے اور اگر قدرت و اقتدار و عزت حاصل ہوئی «مَا بِنَا مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْك‏» تو ہمیشہ خداوند عالم کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے ۔ /۹۸۹/ف۹۷۴/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬