‫‫کیٹیگری‬ :
16 August 2018 - 21:05
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436898
فونت
حجت الاسلام سید حسن نصر اللہ :
حزب اللہ لبنان کے جنرل سیکرٹری نے یبان کیا : ایران کے نظام کو ختم کرنے کی آرزو یا اس کے فیصلوں کو پابندیوں کے ذریعے تبدیل کرنے کی خواہش کبھی بھی پوری نہیں ہو گی۔
سید حسن نصر اللہ

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے جنرل سیکرٹری حجت الاسلام سید حسن نصر اللہ نے کہا : ہم لبنان کی تمام جماعتوں، مکاتب فکر، انٹیلیجنس اداروں، فوج اور صدر جمہوریہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے مقاومت کی حمایت کی۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا : ہم اسلامی جمہوریہ ایران اور شام کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے مزاحمت کی سپورٹ کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا : اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے سامنے صرف ایک ہی راستہ باقی رہ گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ایران کے خلاف پابندیاں عائد کر دیں لیکن ان کو علم ہونا چاہیئے کہ آج ایران ماضی کی نسبت زیادہ مضبوط ہے اور خطے کے مضبوط ترین ممالک میں سے ہے۔

حزب اللہ لبنان کے جنرل سیکرٹری نے بیان کیا : ایران کا نظام مضبوط ، مستحکم اور پائیدار ہے۔ ایران کے نظام کو ختم کرنے کی آرزو یا اس کے فیصلوں کو پابندیوں کے ذریعے تبدیل کرنے کی خواہش کبھی بھی پوری نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا : اسطرح سے نہیں ہے کہ ایران اور حزب اللہ کے خلاف لگائی جانے والی پابندیوں کا کوئی اثر نہ ہو لیکن یہ پابندیاں ہماری طاقت کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ اب تک جو کچھ بھی ایران کے خلاف انجام پایا ہے اس کے نتیجہ میں ایران مزید طاقتور ہوا ہے، ایران کے خلاف پابندیاں اس ملک کے عزم و ارادہ کو کمزور نہیں کر سکتیں۔

حزب اللہ لبنان کے جنرل سیکرٹری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : اگر 2006ء میں حزب اللہ کی شکست ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں شام کے سقوط کی غرض سے اسکا محاصرہ کر لیا جاتا۔ اسرائیل شام کے خلاف جنگ میں شریک تھا اور مسلح گروہوں کی مدد کرتا تھا۔ اس کو شام میں بہت زیادہ توقعات تھیں جن میں بعض خواہشات شام کی افواج کی نابودی اور دمشق کو گولان کی واپسی پر مجبور کرنا تھا۔

سید حسن نصر اللہ نے بیان کیا : آج حزب اللہ، اسرائیلی فوج سے زیادہ طاقتور ہے۔ ہم اس زمانے میں کامیابی کے حصول کیلئے دیئے گئے وعدے پر زیادہ پختہ ایمان رکھتے ہیں۔ /۹۸۹/ف۹۷۹/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬