‫‫کیٹیگری‬ :
16 November 2018 - 11:42
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 437665
فونت
حجت ‌الاسلام‌ والمسلمین محمد همتیان :
حوزہ علمیہ میں اخلاق کے استاد نے بیان کیا : ایمان کو کمزور کرنے کی ایک علت جھوٹ بولنا ہے ، جو شخص جھوٹ بولتا ہے اس کے دل میں ایمان کی جگہ نہیں ہے ۔
حجت ‌الاسلام‌ والمسلمین محمد همتیان

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ میں اخلاق کے استاد حجت ‌الاسلام‌ والمسلمین محمد همتیان نے بیدار اسلامی ہال میں حوزہ علمیہ کے طلاب و مدارس کے درمیان دعای مکارم الاخلاق کے اول حصہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : امام سجاد علیہ السلام اس دعا میں اپنی پہلی درخواسب کامل ایمان ہونے کو پیش کرتے ہیں اور فرمایا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَي مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ بَلِّغْ بِإِيمَانِي أَكْمَلَ الْإِيمَانِ؛ خداوند کریم محمد و آل محمد پر درود بھیج اور ہمارے ایمان کو کامل ترین درجہ پر پہونچا دے ۔

حوزہ علمیہ کے استاد نے یاد دہانی کی : بعض مواقع پر ایمان انسان کو کمزور کر دیتا ہے اور بعض اعمال ایمان کے درجات کو بلندی عطا کرتا ہے ، حسد ایمان کو کھا جاتا ہے اس کو نابود کر دیتا ہے جیسے آگ خشک لکڑی کو جلا کر نابود کر دیتی ہے ، اسی طرح اسلامی روایت میں بیان ہوا ہے کہ اس کے عجیب اثرات ہیں کہ وہ ایمان کو فاسد کر دیتا ہے جیسا کہ سرکہ شہد کو فاسد کر دیتا ہے ۔

حجت‌الاسلام‌ و المسلمین همتیان نے اس وضاحت کے ساتھ کہ کوشش کریں خود بینی ، حسد ، خود پسندی کو خود سے دور کریں ، بیان کیا : ایمان کو کمزور کرنے کی ایک علت جھوٹ بولنا ہے ، جو شخص جھوٹ بولتا ہے اس کے دل میں ایمان کی جگہ نہیں ہے ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ صبر ایمان کو زیادہ کرتا ہے بیان کیا : امیر المومنین امام علی علیہ ‌السلام ‌فرماتے ہیں : «عَلَيْكُمْ بِالصَّبْرِ فَإِنَّ الصَّبْرَ مِنَ الْإِيمَانِ كَالرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ وَ لَا خَيْرَ فِي جَسَدٍ لَا رَأْسَ مَعَهُ وَ لَا [خَيْرَ] فِي إِيمَانٍ لَا صَبْرَ مَعَه؛ ہمیشہ صبر کو اپناو کہ ایمان میں صبر کا مقام بدن میں سر کے مانند ہے ۔ وہ بدن جس میں سر نہ ہو اس کا وجود بے معنی ہے اور وہ ایمان جس میں صبر نہ ہو وہ بھی بے فائدہ ہے ۔

حوزہ علمیہ کے استاد نے وضاحت کی : اگر صبر نہ ہو تو ایمان کی حیات باقی نہیں رہ سکتی ، اسی وجہ سے خداوند عالم سورہ مبارکہ العصر میں چار تاکید کے بعد انسان کو صبر کی سفارش کی ہے ، اگر انسان حق پر یقین رکھتا ہو تو اس کو صبر کرنی چاہیئے ۔

حجت‌الاسلام ‌و المسلمین همتیان نے تاکید کی : بعض روایت میں حسن خلق کو راس الایمان کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے اور اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس کا ایمان ثابت و باقی رہے تو اس کو حسن خلق اختیار کرنی چاہئے ، بد اخلاقی ایمان کے لئے آفت ہے اور اچھے و نیک لوگوں کے ساتھ اٹھنا اور بیٹھنا ایمان کے تقرب کا سبب ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : خداوند کریم سورہ مبارکہ انفال کی آیت نمبر دو میں ارشاد فرماتا ہے : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ؛ مومنین وہ لوگ ہیں کہ جب خداوند عالم کا نام لیا جائے تو ان کے دل میں خوف کے آثار پائے جائیں اور جب ان کے سامنے خداوند کریم کی ایات پڑھی جائے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو اپنے پروردگار پر توکل کریں ۔

حوزہ علمیہ کے استاد نے بیان کیا : ایمان کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان گناہ پر ناراحت و دکھ ہو اور اس کے نفرت کا اعلان کرے؛ با ایمان انسان جب گناہ کے منظر کے سامنے ہوتا ہے تو ذمہ داری کا احساس کرتا ہے ۔/۹۸۹/ف۹۷۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬