‫‫کیٹیگری‬ :
17 March 2020 - 19:51
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442323
فونت
حجت الاسلام ناصر عباس جعفری :
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ تفتان بارڈر پر زائرین کے معاملے میں احتیاط نہیں برتی گئی جس سے کرونا وائرس کے پھیلائو کے امکانات میں اضافہ ہوا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل حجت الاسلام ناصر عباس جعفری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتان بارڈر پر زائرین کے معاملے میں احتیاط نہیں برتی گئی جس سے کرونا وائرس کے پھیلائو کے امکانات میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے آنے والے زائرین کو تشخیصی عمل سے گزارے بغیر اکھٹے رکھا گیاجو کرونا سے بچائو کی تدابیر کی صریحاََ خلاف ورزی ہے۔حکومت کے اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی نقصان کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتان بارڈر پر بزرگوں،خواتین، بچوں اور مریضوں کی بڑی تعداد کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک نامناسب ہے۔ تفتان میں موجود زائرین کے فوری ٹیسٹ کرکے جو لوگ صحت مندہیں انہیں ان کے گھروں کی طرف روانہ کیا جائے جب کہ مریضوں کو قرنطینہ سینٹرز میں داخل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس عالمی وبا کی صورتحال اختیار کرچکا ہے۔جس کا مقابلہ حکومت اور عوام کو مل کر کرنا ہو گا۔عوام کو چاہیے کہ وہ محکمہ صحت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔کسی بھی آفت ناگہانی یا ہنگامی صورتحال کا مقابلہ جرات و استقامت سے کیا جاتا ہے۔ ہم سب ایک قوم بن کر کرونا کی وبا کو شکست سے دوچار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس انسانی المیہ کو سیاست کی نذر کرنے والوں کی سوچ پر افسوس ہوتا ہے ۔تفتان کے زائرین کے حوالے سے خواجہ آصف کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور حقیقت سے عدم آگہی کا ثبوت ہے۔متاثر مریضوں اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کے اظہار کی بجائے اسے انتقامی رنگ دیا جانا افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے سندھ حکومت کے اقدامات باقی صوبوں کی نسبت قدرے بہتر ہیں تاہم ان میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔پنجاب کی وزیر صحت کو چاہیے کہ وہ مختلف علاقوں اور صحت کے مراکز کا دورہ کریں اور حالات کو قابومیں رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔

بلوچستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے صوبے کے عملی اقدامات ناکافی اور غیر تسلی بخش ہیں۔بلوچستان حکومت کو چاہیے کہ محض بیانات سے کام چلانے کی بجائے جنگی حکمت عملی طے کرے تاکہ کرونا وائرس کو شکست دی جاسکے۔عوامی رہنمائی اور آگہی کے سلسلے میں بلوچستان کے علما اور دیگر موثر شخصیات کو بھی اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ نے شوری عمومی کے ملک گیر سالانہ کنونشن منعقدہ اپریل 2020 کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬