
رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای آج عمان کے بادشاہ سلطان قابوس سے ملاقات میں خطے میں بیرونی ملکوں کی مداخلت کو مسائل کی بنیادی وجہ جانا ۔
آپ نےعلاقے کے حالات کو بحرانی قراردیتے ہوئے کہا : خطے کا ایک خطرناک مسئلہ سیاسی اختلافات میں دینی، مسلکی اور مذہبی مسائل کو دخیل کرنا ہے۔
آپ نےافسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : علاقے کے بعض ملکوں کی حمایت سے ایک تکفیری گروہ تشکیل پاچکا ہے جو تمام مسلمانوں سے الجھا ہوا ہے۔
آپ نے فرمایا : تکفیری گروہ کے حامیوں کو جان لینا چاہئے کہ یہ آگ ان کے دامن تک بھی ضرور پنہچے گی۔
رہبرانقلاب اسلامی نے صیہونی حکومت کو بھی علاقے میں ایک دائمی خطرہ قراردیا جسے امریکہ کی بھر پور حمایت حاصل ہے کہا: فاسد صیہونی حکومت جس کے پاس نہایت خطرناک اور عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے گودام بھرے ہیں علاقے کےلئے بڑا خطرہ شمار ہوتی ہے۔
رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا : علاقے کو امن ہمہ گیر امن وسکیورٹی کی ضرورت ہے اور یہ ھدف صرف اس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب علاقے میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر پابندی لگادی جائے۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران اور عمان کے دوستانہ تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ملت ایران کے ذہن میں عمان کی حکومت و ملت کے بارے میں مثبت تصویر ہے۔
آپ نے فرمایا : دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بڑھانے کے لئے مختلف میدانوں بالخصوص تیل اور گیس کے شعبے میں مواقع موجود ہیں۔
سلطان قابوس نے بھی رہبرانقلاب اسلامی سے ہونے والی اس ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا : ایران اور عمان کے تاریخی اور تہذیبی رشتے کے پیش نظر ایران اور عمان کے تعلقات کو نہایت عمدہ قراردیا۔
عمان کے بادشاہ نے کہا: صدر کے ساتھ مذاکرات میں مختف شعبوں جیسے اقتصادی مسائل، ٹرانزیٹ و انرجی کے شعبے میں تعاون کا جائزہ لیا گیا ہے۔
سلطان قابوس نے علاقے کے حالات کے بحرانی ہونے اور صیہونی حکومت کےخطرے کے بارے میں رہبرانقلاب اسلامی کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا : ان حالات سے نکلنے کے لئے ضروری ہے کہ علاقے کے عوام کے مفادات کو مد نطر رکھنا اور علاقائی ملکوں کا باہمی تعاون ضروری ہے۔