‫‫کیٹیگری‬ :
19 October 2013 - 16:33
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6060
فونت
حجت الاسلام سید احمد خاتمی:
رسا نیوز ایجنسی – ایران کے دار الحکومت تہران کے عارضی امام جمعہ حجت الاسلام سید احمد خاتمی نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبہ میں تاکید کی : ایرانیوں کے اتحاد اور یکجہتی کی بنیاد ولایت فقیہہ تھی اور رہے گی ۔
آيت اللہ سيد احمد خاتمي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس ھفتہ ایران کے دار الحکومت تہران کی نماز جمعہ حجت الاسلام سید احمد خاتمی کی امامت اور لاکھوں مومنین کی شرکت میں ادا کی گئی۔


حجت الاسلام سید احمد خاتمی نے پہلے خطبے میں حمد باری تعالیٰ اور صلواۃ و سلام کے بعد تقویٰ اور پرہیز گاری کی تلقین کرتے ہوئے کہا: قرآن مجید میں خداوند متعال نے فرمایا ہے کہ دو عوامل ایسے ہیں جو دشمنوں پر فتح اور غلبے کا باعث بنتے ہیں۔ پہلا عنصر صبر کا ہے، یعنی اللہ کی راہ میں سختیوں کا مقابلہ کرنا اور تکلیفیں جھیلنا، دوسرا عنصر تقویٰ و پرہیز گاری ہے، سورہ آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے  وَإِن تَصْبِرُ‌وا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّ‌کُمْ کَیْدُهُمْ شَیْئًا ۗ إِنَّ اللَّـهَ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیطٌ ﴿١٢٠﴾ اگر تم صبر اور تقویٰ کی راہ اختیار کرو گے تو ان کی تدبیریں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں ۔
 
حجت الاسلام خاتمی نے اپنے گذشتہ خطبہ ہائے جمعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : اس سے قبل خطبوں کے دوران میں نے طرز زندگی سے متعلق گفتگو کی تھی۔ انہوں نے سورہ فتح کی آخری آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان آیات میں انسان کی روش زندگی سے متعلق بیان کیا گیا ہے۔ خداوند متعال کا ارشاد ہے
 
مُّحَمَّدٌ رَّ‌سُولُ اللَّـهِ  وَالَّذِینَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ‌ رُ‌حَمَاءُ بَیْنَهُمْ ۖ تَرَ‌اهُمْ رُ‌کَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِ‌ضْوَانًا ۖ سِیمَاهُمْ فِی وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ‌ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِکَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرَ‌اةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِی الْإِنجِیلِ کَزَرْ‌عٍ أَخْرَ‌جَ شَطْأَهُ فَآزَرَ‌هُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ یُعْجِبُ الزُّرَّ‌اعَ لِیَغِیظَ بِهِمُ الْکُفَّارَ‌ ۗ وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَ‌ةً وَأَجْرً‌ا عَظِیمًا ﴿٢٩﴾
 
محمد(ص) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئے سخت ترین اور آپس میںانتہائی رحمدل ہیں تم انہیں دیکھوگے کہ بارگاہ ِاحدیّت میںسر خم کئے ہوئے سجدہ ریز ہیںاور اپنے پروردگارسے فضل وکرم اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں ،کثرتِ سجود کی بنا پر ان کے چہروں پر سجدہ کے نشانات پائے جاتے ہیںیہی ان کی مثال تورےت میں ہے اور یہی ان کی صفت انجیل میں ہے جیسے کوئی کھیتی ہو جو پہلے سوئی نکالے پھر اسے مضبوط بنائے پھر وہ موٹی ہو جائے اور پھر اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے کہ کاشتکاروں کو خوش کرنے لگے تاکہ ان کے ذریعہ کفار کو جلایا جائے اور اللہ نے صاحبانِ ایمان وعمل صالح سے مغفرت اور عظیم اجر کا وعدہ کیا ہے
 
یعنی اسلامی معاشرہ کفار کے ساتھ سخت رویہ رکھتا ہے، میں نے یوم القدس کے خطبے میں اس پہلو کی طرف اشارہ کیا تھا، جب کہ اس کے بعد کے خطبے میں میں نے رُ‌حَمَاءُ بَیْنَهُمْ  کے بارے میں روشنی ڈالی تھی، میں نے وعدہ کیا تھا کہ تین مرحلوں میں اس موضوع کا جائزہ لوں گا، پہلا مرحلہ گھرانے کے اندر انسان کی روش ہے یعنی گھر اور خاندان کے ماحول میں رُ‌حَمَاءُ بَیْنَهُمْ  کی تفسیر کیا ہو گی؟
 
دوسرا مرحلہ اس بات سے مربوط ہے کہ رُ‌حَمَاءُ بَیْنَهُمْ  کے صفات سے متصل لوگوں کو معاشرے میں کس قسم کا رویہ اختیار کرنا چاہئے اور تیسرا مرحلہ حکومت اور عوام کے درمیان تعلقات کا ہے، یعنی عوام کو حکومت سے کس قسم کی محبت ہونی چاہئے اور حکومت کو عوام کے ساتھ کس قسم کی رواداری رکھنی چاہئے۔
 
تہران کے خطیب جمعہ نے خاندان کے دائرے میں مہر و محبت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا:
 
خاندان میں مہر و محبت کے دو مراکز ہیں، ایک میاں بیوی کے درمیان پیار و محبت اور دوسرا والدین اور اولاد کی محبت۔
 
حجۃ الاسلام خاتمی نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں میاں بیوی کے تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا:
 
قرآن کی نظر میں میاں بیوی کے تعلقات کے اہم عناصر میں دو عناصر کو زیادہ اہمیت حاصل ہے، آرام و سکون اور پیار محبر اور جس گھر میں یہ دونوں عناصر پائے جاتے ہوں وہ قرّنی گھرانہ کہلا سکتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
 
اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان سے آرام پاٗو، اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کی، حجۃ الاسلام خاتمی نے اس سلسلے میں حضرت علی ؑ اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر کو خاندان میں آرام و سکون اور مہر و محبت کے حوالے سے مثالی گھر قرار دیتے ہوئے گذشتہ دنوں ان دو عظیم ہستیوں کے یوم نکاح کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میاں بیوی بالخصوص نئی زندگی شروع کرنے والے جوڑوں کو قرآنی تعلیمات اور احادیث و روایات کی روشنی میں آرام و سکون اور پیار و محبت کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو استوار کرنا چاہئے۔
 
تہران کے خطیب جمعہ نے حضرت امام جعفر صادق ؑ کی ایک روایات کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ صرف مال و دولت، سہولیات اور سامان آسائش، گھریلو سکون اور خوشگوار زندگی کے اسباب نہیں ہوتے بلکہ بنیادی عنصر اخلاق ہے، جس کی بنیاد پر خاندانی بنیادوں کو استحکام ملتا ہے۔ امام صادق ؑ نے فرمایا: انسان کو اپنے گھر میں تین صفات سے متصف ہونا پڑتا ہے اور اگر یہ صفات اس کی سرنوشت میں نہیں ہوتیں تو ان صفات کو پیدا کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔ اور وہ صفات یہ ہیں اچھا اور خوبصورت برتاو، منصوبہ بندی اور تدبیر اور مناسب غیرت اور عزت کا اظہار۔
 
انہوں نے کہا دوسرا بنیادی اخلاق عنصر گھر کے افراد کے درمیان باہمی احترام ہے، اس سلسلے میں حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث ہے:" جو اپنے خاندان کی تحقیر کرتا ہے وہ اپنی زندگی کی خوشحالی گنوا دیتا ہے"۔
 
ان احادیث و روایات کی تشریح کرتے ہوئے حجۃ الاسلام خاتمی نے کہا کہ خاندان کے افراد میں تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور تکریم و تحسین پر استوار ہونا چاہئے۔
 
حجۃ الاسلام خاتمی نے خاندانی بنیادوں کے استحکام کے لئے ضروری تیسرا عفو و درگذر کو قرار دیتے ہوئے حضرت علی ؑ کی یہ روایت نقل کی: " جس نے سہل انگاری نہیں کی اور بست سے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا، اس نے اپنی زندگی کو نقصان پہنچایا ہے"َ۔
 
لہٰذا عفو و درگزر اور رواداری کا راستہ، شدت پسندی، ترش روئی اور بد خلقی کے طریقے سے بہتر ہے، اس سے خاندان کے افراد کے درمیان تعلقات کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔
 
حجۃ الاسلام خاتمی نے اسلامی نقطہ نگاہ سے میاں بیوی کے درمیان باہمی احترام اور پیار و محبت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ حدیث بیان کی۔
 
میاں کا اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھنا، خداوند عالم کو میری مسجد( مسجد نبوی) میں اعتکاف سے زیادہ پسند ہے۔
 
انہوں نے کہا باہمی مشورے اور محبت سے تمام خاندانی امور بنحو احسن طے پا سکتے ہیں، قرآن مجید نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ جدال احسن کے بجائے حوار کا راستہ اختیار کرو۔ جدال کا مطلب ہے بحث اور زبانی جھگڑا جب کے حوار کے معنیٰ ہیں دوستانہ گفتگو۔
 
جناب خاتمی نے آگے چل کر کہا، خاندانی بنیادوں کو مستحکم کرنے والا چوتھا اہم عنصر پیار و محبت اور رحمت کا ہے، چنانچہ رحمت کی بنیاد پر اظہار کی جانے والی محبت کو خداوند عالم نے خاندان کا بنیادی عنصر قرار دیا ہے۔
 
حجۃ الاسلام خاتمی نے دوسرے خطبے میں حالات حاضرہ کے امور پر تبصرہ کیا، اس سلسلے میں انہوں نے قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے ملک کے داخلی استحکام کے بارے میں بیانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
 
در حقیقت ملکی استحکام دشمنوں کے سامنے سب سے کار آمد اور طاقتور ہتھیار ہے، اور اسی کے زریعے ان کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
 
انہوں نے ملکی استحکام کے بنیادی عناصر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
 
پہلا عنصر خدا پر یقین کا عنصر ہے جس کی رو سے ایرانی عوام گذشتہ 35 برسوں سے استحکام کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں جب کہ عوام بالخصوص نوجوان طبقے کی صلاحیتیں اوت توانائیاں دوسرا اہم عنصر ہے۔ انہوں نے کہا: ہمارے نوجوانوں نے ان 35 برسوں کے دوران " ہم ہر قسم کی صلاحیت رکھتے ہیں"  کے نعرے کو عملی جامہ پہنایا، چنانچہ انہوں نے غیر ملکی پابندیوں کے جواب میں ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں ترقی کی، خاص طور پر جوہری پروگرام، فضائی اور خلائی شعبے، نیز میڈیکل اور دوا سازی کے شعبوں میں ترقی اور پیشرفت نے دشمنوں کو انگشت بدندان کر دیا ہے۔
 
حجۃ الاسلام خاتمی نے ملکی استحکام کا تیسرا عنصر اتحاد اور یک جہتی قرار دیتے ہوئے کہا: اس قوم کے اتحاد اور یک جہتی کی بنیاد ولایت فقیہہ تھی اور ہے۔
 
اس سلسلے میں انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: آئین کے مطابق چار قوانین ایسے ہیں جن میں کبھی بھی تبدیلی یا ترمیم نہیں کی جاسکتی، وہ ہیں ، اسلامی نظام، ولایت کا قانون، جمہوریت اور سرکاری مذہب۔
 
انہوں نے کہا آئین کے تناظر میں " مردہ باد دشمن ولایت فقیہہ" کا نعرہ صرف نعرہ ہی نہیں بلکہ اسلامی انقلاب کی شناخت ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ مردہ باد امریکہ در حقیقت ان لوگوں کے خلاف مردہ باد کا نعرہ ہے جو اسلامی نظام کو سر نگوں کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔
 
حجۃ الاسلام خاتمی نے کہا کہ مردہ باد دشمن ولایت فقیہہ کا نعرہ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رح کے دس سالہ دور میں لگتا رہا اور ان کی رحلت کے بعد، قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے دور میں بھی لگاتار جاری ہے اور خدانوند متعال کی مشیت سے تا بہ ابد جاری رہے گا۔
 
حجۃ الاسلام خاتمی نے ملکی استحکام کا چوتھا عنصر عدل و انصاف اور شفافیت بیان کیا، اس سلسلے میں حضرت امام علی ؑ کا یہ فرمان سنایا کہ عدل و انصاف دلوں کو قریب تر کر دیتا ہے اور معاشرے میں دوستی اور محبت میں اضافہ کرتا ہے اور اس کی روشنی میں ذاتی عناد اور کینہ پروری ختم ہو جاتی ہے۔
 
صدر اسلامی جمہوری ایران جناب روحانی کے حالیہ دورہ امریکہ پر تبصرہ کرتے ہوئے حجۃ الاسلام خاتمی نے کہا: اخباری اطلاعات کے مطابق ایران کے سفارتی وفد نے جو آٹھ اراکین پر مشتمل تھا، نیویارک کا دورہ کیا اور مصروف دن گذارے، اس دوران صدر مملکت نے اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مدلل انداز میں ایران کے صاف شفاف مواقف سے دنیا والوں کو روشناس کروایا۔
 
اس کے علاوہ انہوں نے صہیونی حکومت کے خلاف دو ٹوک موقف اختیار کیا اور ایسے خوش آئند اقدامات ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جسکتا، تاہم قائد انقلاب اسلامی نے یہ فرمایا: " نیویارک میں رونما ہونے والے بعض واقعات درست نہیں تھے۔" یہ ہے انصاف پسندی، لہٰذا اگر سرکاری حکام سچائی کے ساتھ کہدیں کہ کونسا اقدام درست نہیں تھا، لوگ اس کی تعریف کریں گے۔
 
حجۃ الاسلام خاتمی نے نماز جمعہ کے خطبے میں ملکی استحکام کے پانچویں عنصر کو تنقید پذیری قرار دیا اور کہا کہ موجودہ حکومت آزادی کے نعرے کے ساتھ بر سر اقتدار آئی ہے، اور اس نے تنقید کی فضا کو ہموار کیا ہے، کیوں کہ تعمیری تنقید سے جدتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا انصاف پسندی کے ساتھ تنقید کرنا چاہئے اور محترم حکام کو چاہئے کہ وہ خوشدلی سے تنقید کو قبول کریں۔
 
میڈیا پر تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے حجۃ الاسلام خاتمی نے کہا : " اپنے زیر اثر ذرائع ابلاغ کو ہدایت کرنی چاہئے کی میڈیا کو مقید نہ کریں اور ناقدین کو انتہا پسند کے خطاب سے نہ نوازیں، کیوں کہ حکومت نے کھلے دل سےتعمیری تنقید قبول کرنے کی ٹھان لی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ میڈیا کو مثبت اور منفی نکات کا خیلا رکھتے ہوئے تنقید جاری رکھنا چاہئے، لیکن جس شخص کے اوپر تنقید کی جا رہی ہے اس کی ہتک کرنا درست نہیں ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض قلم کار زہر اگلتے ہیں۔
 
حجۃ الاسلام خاتمی نے خطبہ جمعہ میں ملک میں آنے والی سیاسی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں انتقال کا مسلسل عمل، خداوند عالم کی طرف سے تحفہ ہے، چنانچہ معمول کے مطابق اور جمہوری انداز میں عوامی آرا سے حکومت کی تبدیلی عمل میں آتی ہے اور جو بھی حکومت بر سر اقتدار آتی ہے وہ نئی امنگوں اور نت نئے منصوبوں کے ساتھ کام کرتی ہے۔
 
آیت اللہ خاتمی نے سرکاری حکام پر زور دیا کہ وہ بے روزگاری کے خاتمے میں کمی اور مہنگائی کے لئے عملی اقدام کرے۔ خارجہ پالیسی کا جواب دیتے ہوئے خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ، قائد انقلاب کا یہ کہنا کہ نیویارک میں ہونے والے بعض اقدامات درست نہیں تھے اس سے مراد ہمارے حکام نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکی حکومت کو جھوٹی حکومت سمجھتے ہیں جو دکھاوے اور عہد شکنی کی سیاست پر انحصار کرتی ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور یہ جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ پابندیاں اٹھانے کا مسئلہ مذاکرات سے مشروط کرتے ہیں۔ اوباما نے نتن یاہو سے ملاقات میں کہا کہ ایران کے خلاف تمام آپشنز اور فوجی طاقت کا آپشن بھی کھلا ہوا ہے، انہوں نے اس بات کی جانب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے بھی تما  آپشنز کھلے رکھے ہیں اور ان میں سے ایک آٹھ سالہ طویل دفاع مقدس کا تجربہ ہے، یہ قوم ہرزہ سرائی کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا جانتی ہے۔
 
انہوں نے امریکہ کی استعماری پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سب سے بڑا شیطان ہے، اور جہاں ہمیں کوئی مسئلہ در پیش ہے اس میں کہیں نہ کہیں امریکہ کا ہاتھ ضرور ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ کی شرارتیں جاری ہیں مردہ باد امریکہ کے نعرے بھی جاری رہیں گے۔
 
حجۃ الاسلام خاتمی نے فرمایا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں اصل فیصلہ قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای کریں گے۔
 
خطبہ جمعہ کے آخر میں حجۃ الاسلام خاتمی نے چند روز بعد کی اہم مناسبتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اور حجرت مسلم ابن عقیل کی شہادت کے ایام آنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند روز بعد عید قربان ہے، جو حضرت ابرہیم ؑ کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کئی برس قبل سعودی اہلکاروں کے ہاتھوں شرک و کفر کے خلاف اظہار برات کرنے والے حجاج شہید ہوئے تھے۔
 
حجۃ الاسلام خاتمی نے 9 ذی الحج روز عرفہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دن مسلمان رب کریم کی بارگاہ میں دست دعا بلند کرتے ہیں۔
 
 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬