‫‫کیٹیگری‬ :
24 February 2014 - 09:58
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6451
فونت
رسا نیوز ایجنسی - رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران نے مضبوط و پائدار معیشت کو اسلام کے اقتصادی نظام کا الہام بخش نمونہ اور اقتصادی رزم کو عملی جامہ پہنانے کا مناسب موقع بتاتے ہوئے حکومت کو پائدار ، مزاحمتی اور مضبوط اقتصاد کی کلی پالیسیوں کا ابلاغ کیا ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامي


رسا نیوز ایجنسی کی رھبر معظم انقلاب اسلامی ایران کی خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق،  رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی امام خامنہ ای نے مجمع تشخیص مصلحت نظام  کے ساتھ مشاورت ، بنیادی آئین کی دفعہ 110 کی روشنی میں پائدار اور مضبوط معاشی و اقتصادی نظام  کی کلی پالیسیوں کا ابلاغ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی و انقلابی ثقافت سے برآمدہ مقامی اور علمی معاشی نمونہ کی پیروی کی بدولت ایران کے خلاف دشمن کی مسلط کردہ اقتصادی اور معاشی جنگ میں دشمن کی شکست و عقب نشینی یقینی ہوجائے گی، اور اسی طرح اسلام کےمعاشی و اقتصادی نظام سے الہام بخش معاشی نمونہ ،عالمی سطح پر روز افزوں اقتصادی بحرانوں میں مضبوط اور پائدار اقتصاد کو عینیت عطا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا اور اقتصادی رزم کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں اقتصادی ماہرین اور عوام کےفعال نقش ایفا کرنے کے لئے مناسب موقع فراہم ہو جائے گا۔

 

تینوں قوا کے سربراہان اور مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ  کے نام رہبر معظم انقلاب اسلامی کے ابلاغیہ کا متن حسب ذیل ہے :

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنی معنوی و مادی سرشار صلاحیتوں  اور اپنے دیگر قدرتی و طبیعی وسائل و ذخائر ، وسیع بنیادی ڈھانچے اور سب سے اہم اپنی مؤمن و متعہد ،تجربہ کار اور پختہ عزم کی حامل افرادی قوت سے بھر پور استفادہ کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ اسلامی و انقلابی ثقافت  پر مشتمل علمی و مقامی معاشی نمونہ کی پیروی کرنی چاہیے جو کہ پائدار اور مضبوط معاشی نظام ہے اس صورت میں تمام اقتصادی اور معاشی مشکلات پر کنٹرول حاصل ہوجائےگآ اور جو اقتصادی محاذ دشمن نے پوری طاقت اور قوت کے ساتھ ایرانی قوم کے خلاف کھول رکھا ہے ایرانی قوم دشمن کو اس اقتصادی و معاشی جنگ میں شکست دینے  اور عقب نشینی کرنے پر مجبور کردے گی بلکہ دنیا میں غیر اختیاری طور پر جاری اقتصادی عدم ثبات و اقتصادی عدم استحکام  " جیسے مالی ، اقتصادی اور سیاسی بحران۔۔۔" جو روز بروز بڑھ رہے ہیں، ملک کے مختلف شعبوں میں ثمر بخش نتائج کی حفاظت کے ساتھ، بنیادی آئین و اصولوں کو عملی جامہ پہنانے، ترقی کے مراحل طے کرنے ، بیس سالہ منصوبہ کی روشنی میں، علم و ٹیکنالوجی پر مشتمل ، عدالت محور اور اندرونی پیداوار و بیرونی برآمدات پر مشتمل ، متحرک و ترقی پسند اقتصاد محقق ہوجائےگا اور اسلام کے اقتصادی نظام کے الہام بخش نمونہ اس طرح حقیقت کا جامہ پہن لےگا۔

 

مجمع تشخیص مصلحت نظام کے ساتھ مشورت اور دقیق مطالعہ کے بعد مضبو ط وپائدار اقتصاد کی کلی پالیسیوں کی دستاویز کو ابلاغ کیا جاتا ہے جس کی تدوین گذشتہ پالیسیوں کی تکمیل بالخصوص بنیادی آئین کی دفعہ 44 کی کلی پالیسیوں کی روشنی میں اور اعلی اہداف کی سمت ملک کے اقتصاد کی صحیح  اور مؤثرحرکت کو مد نظر رکھ کر کی گئی ہے۔

 

ملک کے تینوں قوا کے لئے ضروری ہے کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے اور مشخص وقت کے اندر ان پالیسیوں کے نفاذ کے سلسلے میں ضروری اقدام عمل میں لائیں۔ اور مختلف شعبوں کے لئے روڈ میپ کی تدوین اور ضروری قوانین اور مقررات بنا کر اس مقدس جہاد میں تمام اقتصادی ماہرین اور عوام کی نقش آفرینی کے لئۓ مناسب موقع فراہم کریں، تاکہ ایرانی عوام کے سیاسی رزم و جہاد کی مانند ایرانی قوم کا اقتصادی رزم و جہاد بھی دنیا والوں کے سامنے نمایاں ہوجائے۔


پائدار و مضبوط اقتصاد کے معیاروں کو بہتر بنانے اور متحرک و ترقی پسند رشد کے پیش نظر  نیز بیس سالہ منصوبہ کے اہداف تک پہنچنے کے لئے جہادی، لچکدار، مواقع فراہم کرنے، پیداوار بڑھانے، اندرونی خلاقیت، ترقی اور بیرونی برآمدات کے اصولوں پر مشتمل پائدار اقتصاد کی کلی اور مجموعی پالیسیاں ابلاغ کی جاتی ہیں۔

اس اہم کام کے لئے اللہ تعالی کی بارگاہ سے سب کےلئے توفیق کا طلب کرتا ہوں۔

 

پائدار اور مضبوط اقتصاد کی مجموعی پالیسیوں کے بند مندرجہ ذیل ہیں:

 

1: کار و باری فروغ کے سلسلے میں تمام شرائط ، ملک کے علمی و  انسانی وسائل ،مالی وسائل کی فراہمی اور سہولیات کو بروی کار لانے، باہمی تعاون، شوق و نشاط  اور سہولیات کی فراہمی کے ذریعہ اقتصادی سرگرمیوں میں معاشرے کے ہر فرد کی زیادہ سے زیادہ شراکت، متوسط اور کم درآمد طبقات کے نقش اور ان کی درآمد کے فروغ و ارتقاء پر تاکید ۔

 

2: علم و دانش پر مبنی اقتصادی ترقی،ملک کے جامع علمی نقشہ کا نفاذ، ملک کے عالمی مقام کے ارتقاء کے پیش نظر قومی اختراعات کے نظام کی تنظیم نو،محصولات کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ، علم و دانش پر مبنی خدمات اور علاقہ میں علم و دانش کی بنیاد پر اقتصاد کے پہلےمقام تک رسائی کی تلاش و کوشش۔

 

3: پیداواری عناصر کی تقویت کے ساتھ اقتصادی پیداوارمیں اضافہ کرنے ، افرادی قوت کو توانا اور مؤثر بنانے، اقتصادی رقابت کو قوی و مضبوط بنانے، علاقوں اور صوبوں کے درمیان اقتصادی رقابت کے مواقع فراہم کرنے اور ملک کے مختلف علاقوں کی جغرافیائی توانائیوں اور ظرفیتوں سے استفادہ کرنے پر تاکید۔

 

4: پیداوار کو بڑھانے کے سلسلے میں سبسیڈی کو بامقصد بنانے کی ظرفیت سے استفادہ،روزگار و پیداوار، سماجی انصاف کے معیاروں کےفروغ اور توانائی کی شدت کم کرنے پر تاکید۔

 

5: پیداوار اورتخلیق کی قدر و قیمت کے پیش ںظر پیداوار سے لیکر مصرف تک شریک عناصر کی کارکردگی کے مطابق ان کا منصفانہ حصہ ، بالخصوص تعلیم ، تربیت، مہارت، خلاقیت ،کاروبار اور تجربہ کے فروغ کے ذریعہ اقرادی قوت میں اضافہ۔

 

6: بنیادی اجناس اور اندرونی پیداوار (خاص طور پر درآمداتی اشیاء )میں اضافہ، مؤثر محصولات و خدمات کی پیداوار پر ترجیحی بنیادوں پر توجہ، محدود اور خاص ممالک پر انحصار کم کرنے کے پیش نظر بندرگاہوں میں بنیادی اجناس کی درآمدات کے سلسلے میں تغیرات پر تاکید۔

 

7: اجناس کی کمی اور کیفی پیداوار میں اضافہ پر تاکید کے ساتھ  ضروری ذخائر کے قیام اور طبی و غذائی سلامتی کو یقینی بنانے پر تاکید۔

 

8: پیداوار میں رقابت اور کیفیت کے ارتقاء کے لئے منصوبہ بندی کے ساتھ اندرونی اجناس کے استعمال کی ترویج اور درست استعمال کی کلی پالیسیوں کے نفاذ اور درست استعمال کی مدیریت پر تاکید ۔

 

9: قومی اقتصادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں ملک کے مالی نظام کی ہمہ گیراصلاح اور تقویت، قومی اقتصاد میں ثبات کا قیام، اور حقیقی شعبہ کی تقویت میں پیشقدمی۔

 

10: اجناس کی برآمدات کے سلسلے میں ہمہ گیر بامقصد حمایت، افزودہ قیمت اور خالص نفع کے مطابق مندرجہ ذیل طریقوں سےخدمات رسانی:

 

٭ قوانین و مقررات میں سہولت، ضروری تشویق و ترغیبات میں فروغ۔

 

٭ غیر ملکی تجارت ، ٹرانزٹ اور ضروری بنیادی ڈھانچے کی خدمات میں فروغ۔

 

٭ برآمداتی ضروریات کے مطابق قومی پیداوار کی منصوبہ بندی، نئے بازاروں کی تشکیل و تنظیم، تمام ممالک بالخصوص علاقائی ممالک کے ساتھ  اقتصادی رشتوں میں تغیر و تحول۔

 

٭ ضرورت کی صورت میں تبادلے کی سہولت کے لئے جنس کے مقابلے میں جنس کی تجارت سے استفادہ۔

 

٭ دوسرے بازاروں تک ایران کی دستیابی کے سلسلے میں برآمدات کے بارے میں قوانین میں ثبات ۔

 

11: جدید و پیشرفتہ ٹیکنالوجی منتقل کرنے ، پیداوار میں سہولت اور فروغ دینے ، دیگر ممالک سے مالی وسائل ، ضروریات کی فراہمی ، خدمات اور اشیاء کی برآمدات کے لئے ملک کے خصوصی اقتصادی زون اور آزاد تجارتی علاقوں میں توسیع۔

 

12: ملک کی مندرجہ ذیل طریقوں سےاقتصادی مزاحمتی قدرت میں اضافہ اور خطرات میں کمی۔

 

٭ مؤثر رابطوں میں توسیع، باہمی تعاون میں فروغ، علاقائی و عالمی ممالک بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشارکت۔

 

٭ اقتصادی اہداف کی حمایت کے سلسلے  میں سفارتکاری سے استفادہ۔

 

٭ علاقائی اور بین الاقوامی اداروں کی ظرفیت سے استفادہ۔

 

13: مندرجہ ذیل طریقوں سے تیل اور گیس کی درآمد کو لاحق خطروں کا مقابلہ۔

 

٭ معتبر اور مؤثر خریداروں کا انتخاب۔

 

٭ تیل اور گیس کی فروخت کے طریقوں میں تغیر و تحول ۔

 

٭ تیل و گیس کی فروخت میں نجی شعبوں کو شریک بنانا ۔

 

٭ گیس کی برآمدات میں اضافہ۔

 

٭ بجلی کی برآمدات میں اضافہ۔

 

٭ پیٹرو کیمیکل کی برآمدات میں اضافہ۔

 

٭ پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ۔

 

14: تیل اور گیس کی عالمی منڈی پر اثر انداز ہونے کے لئے ملک کے تیل اور گیس کے مؤثر اور اسٹراٹیجک ذخائر میں اضافہ، گیس و تیل کی پیداوار کی ظرفیتوں میں اضآفہ بالخصوص تیل و گیس کےمشترکہ میدانوں میں اضافہ۔

 

15: گیس و تیل صنعت کی قدر و قیمت کی تکمیل کے ذریعہ افزودہ قدر میں اضافہ، زیادہ سے زیادہ استعمال والی اجناس کی پیداوار میں ( انرجی کے استعمال کے معیار کی بنیادپر)  اضافہ،  وسائل کی حفاظت اور درست استعمال کے پیش نظر بجلی ، پٹرولیم مصنوعات، اور پیٹروکیمیکل  مصنوعات کو  برآمد کرنےمیں اضافہ۔

 

16: ڈھانچوں میں بنیادی تغیر و تحول کے ساتھ سرکاری اخراجات میں بچت پر تاکید،حکومت کے منطقی ڈھانچے ، متوازی اداروں اور غیر ضروری اخراجات کے ختم کرنے پر تاکید۔

 

17: آمدنی ٹیکس میں اضافہ کے ساتھ حکومتی مالیاتی نظام کی اصلاح۔

 

18: بجٹ کے تیل پر انحصار کے خاتمہ تک تیل اور گیس برآمد کرنےسے حاصل ہونی والی آمدنی سے قومی ترقیاتی فنڈ کے سالانہ حصہ میں اضافہ۔

19: اقتصادی شعبوں میں شفافیت و سلامت،مالی و تجارتی اور کرنسی کے شعبوں میں کرپشن ، بدعنوانی اور فساد کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات پر تاکید ۔

 

20: افزودہ قدر ، ثروت کی پیداوار، کاروبار ، پیداوار ،سرمایہ کاری اور روزگار کی فراہمی میں جہادی ثقافت کی تقویت، اور اس شعبہ میں نمایاں کارنامہ انجام دینے والے افراد کو پائدار اور مزاحمتی اقتصاد کا نشان عطا کرنے پر تاکید ۔

 

21: پائدار، مقاومتی اور مزاحمتی اقتصاد کی تشریح اور علمی، تعلیمی اور تبلیغی ماحول میں اس کے بارے میں گفتگو و تبادلہ خیال اور اسے قومی اور ہمہ گیر گفتگو میں تبدیل کرنے پر تاکید۔

 

22: حکومت پر لازم ہے کہ وہ پائدار اور مقاومتی اقتصاد کی کلی پالیسیوں کو پایہ  تکمیل تک پہنچانے کے لئے ملک کے تمام وسائل سے بھر پور استفادہ کرے اور مندرجہ ذیل اقدامات کو عمل میں لائے۔

 

٭ اہم کارروائی اور مناسب اقدامات تک پہنچنے کے لئےعلمی ،فنی اور اقتصادی  ظرفیتوں کی شناخت و استفادہ ۔

 

٭ اقتصادی پابندیوں کے منصوبوں پر نظر اور دشمن کے اخراجات میں اضافہ۔

 

٭ ملکی اور غیر ملکی خطرات کے مقابلے میں بر وقت، سریع، فعال اور ہوشمند رد عمل کے منصوبوں کے ذریعہ خطرات کی مدیریت پر تاکید۔

 

23: بازار اور مارکیٹ پر نگرانی کے طریقوں ، تقسیم اور قیمتوں کے تعین میں جدت و شفافیت۔

 

24: تمام داخلی محصولات اور پروڈکشن کے معیار اور ان کی تبلیغ و ترویج میں اضافہ پر تاکید۔

 

سید علی خامنہ ای

 

18 فروری 2014 عیسوی مطابق 18 ربیع الثانی 1435 ھجری قمری
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬