‫‫کیٹیگری‬ :
09 July 2014 - 16:58
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6993
فونت
رہبر معظم انقلاب اسلامی:
رسا نیوز ایجنسی – رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران نے ملک کے اعلی سول اور فوجی حکام سے ملاقات میں دشمن کی طرف سے اقتصادی پابندیاں جاری رکھنے کے پیش نظر اقتصادی منصوبہ بندی پر تاکید کرتے ہوئے کہا: یقینی طور پر مذاکراتی ٹیم قوم کےحقوق کو پائمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی ۔

 

رسا نیوز ایجنسی کی رھبر معظم انقلاب اسلامی کی خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملک کے مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے اعلی سول اور فوجی حکام اور بعض اعلی ڈائریکٹروں کے ساتھ ملاقات میں داخلی اور خارجی مسائل کے سلسلے میں اہم نکات پیش کئے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام اور اداروں میں چند جانبہ خلل ایجاد کرنے اور پیچیدہ کوشش کو سامراجی طاقتوں بالخصوص امریکہ کا موجودہ اہم ہدف قراردیا اور عالمی اور علاقائی حساس حالات و شرائط اور تاریخ کے اہم موڑ پر قرارپانے ک طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران اپنے عقلانی محاسبات یعنی اللہ تعالی کی ذات اور خلقت کے سنن پر اعتماد نیز دشمن کی شناخت اور اس پر عدم اعتماد کے اصلی عناصر کے پیش نظر ، عوام پر تکیہ ،تجربات، مجاہدت اور تلاش و کوشش کی روشنی میں اپنے اعلی اہداف تک پہنچنے اور اپنے اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جد وجہد جاری رکھےگی۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ماہ رمضان المبارک کو تقوی، عبودیت اور رحمانی رفتار کے ساتھ شیطان اور شیطانی رفتار کے مقابلہ کا میدان قراردیتے ہوئے فرمایا: مقابلے کے اس  میدان میں شیطان کا ایک اہم ہدف ہے جبکہ تقوی کا بھی بھی ایک بہت بڑا ہدف ہے، شیطان انسان کے محاسبات میں خلل  پیدا کرکے اور اسے محاسباتی خطا کی طرف کھینچ کر  اس سے اس خطا کی بنیاد پر اقدام کروانے کی تلاش و کوشش میں ہے جبکہ تقوی انسان میں دانائی اور آگاہی کی راہ ہموار کرتا ہے اور حق و باطل کے درمیان پہچان کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انسانوں میں محاسباتی خطا پیدا کرنے کے سلسلے میں لالچ اور دھمکی کو شیطان کے دو اصلی وسیلے قراردیتے ہوئے فرمایا: شیطان ایک طرف انسان کو دھمکی دیتا اور ڈراتا ہے اور دوسری طرف انسان کو جھوٹے وعدوں کا سراب دکھا کر اسے اپنے فریب کے جال میں گرفتار کرتا ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اس حصہ میں  امریکہ اور تسلط پسند سامراجی طاقتوں کی رفتار پہچاننے کے سلسلے میں ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ اور تسلط پسند سامراجی طاقتوں کی رفتار شیطان جیسی رفتار ہے کیونکہ وہ ہمیشہ دھمکی ، لالچ اور جھوٹے وعدوں کے ذریعہ جنھیں انھوں نے کبھی بھی عملی جامہ نہیں پہنایا، دوسرے ممالک کو مرعوب کرکے اپنے زیر اثر رکھنا چاہتے ہیں اور شیطان بھی دھمکی اور لالچ کے ذریعہ انسانی کے محاسبات میں خطا  پیدا کرکے انسان کو محاسباتی خطا میں مبتلا کردیتا ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے محاسبہ میں خطا کو سب سے بڑا خطرہ قراردیتے ہوئے فرمایا: سب کو اس عظیم اور بڑے خطرے سے باخـبر رہنا چاہیے کیونکہ محاسبہ میں خطا اس بات کا باعث بنتی ہے کہ غلط اور اشتباہ فیصلہ کی وجہ سے انسان کی توانائی اور عزم عملی طور پر برباد اور ضائع ہوجاتا ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں حفاظت اور آگاہی کو حکام کے لئے بہت  ہی حساس اور ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: محاسباتی عظیم خطاؤں میں سے ایک خطا یہ ہےکہ انسان الہی  سنتوں اور معنوی عوامل کو نظر انداز کردے اور صرف مادی اور محسوس دائرے میں محدود رہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سعادت ، شقاوت ،پیشرفت اور عدم پیشرفت کو صرف مادی عوامل کے دائرے میں محدود قرار نہ دیتے ہوئے فرمایا: معنوی عوامل اور اللہ تعالی کی ناقابل تبدیل سنتیں بہت ہی مؤثر عوامل ہیں اور ان کا نظر انداز کرنا ناقابل تلافی خطا اور غلطی ہوگی۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اللہ تعالی کی سنتوں اور معنوی عوامل کے مقام و اہمیت کی تشریح کے سلسلے میں قرآن مجید کی چند آیات کا حوالہ دیا  اور معاصر دور میں اس کے تحقق کے عینی مصادیق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ اگر تم اللہ تعالی کے راستے پر گامزن رہوگے اور اس کے دین کی مدد اور نصرت کروگے تو اللہ تعالی بھی یقینی طور پر تمہاری مدد کرےگا۔ اور اللہ تعالی کی یہ سنت تاریخ میں بارہا تکرار ہوئی ہے اور اس کا سب سے قریبی اور نزدیکی نمونہ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی ہے کہ جو دنیا کے ایک ممتاز تاریخی دور کا مظہر ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس حصہ میں اپنے خطاب کو سمیٹتے ہوئے حکام کو محاسباتی خطا میں مبتلا ہونے سے دور رہنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: آپ دشمن کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ دھمکی اور لالچ کے ذریعہ آپ کے محاسباتی سسٹم  پر اپنے اثرات مرتب کرے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں سامراجی طاقتوں کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کی پیہم اور مسلسل جنگ و لڑائی کو طاغوتی طاقتوں اور شیاطین جن و انس کے ساتھ پیغمبروں (ع) کی لڑائی قراردیتے ہوئے فرمایا: شیاطین کے تمام ظاہری زرق و برق کے باوجود ایرانی قوم کی الہی حرکت روزبروز آگے کی جانب گامزن ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کی طرف سے فوجی دھمکی اور پابندیوں کے غیر مؤثر واقع ہونے کو سامراجی طاقتوں کی طرف سے ایرانی حکام اور اداروں کے محاسباتی نظام میں گڑ بڑ پھیلانے کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: پابندیوں کو مجاہدت کے ساتھ پائدار اور مزاحمتی و مقاومتی اقتصاد کے ذریعہ غیر مؤثر بنانا چاہیے اور فوجی دھمکی بھی وسیع پیمانے پر اخراجات اور غیر سودمند واقع ہونے کی وجہ سے صرف لفظی دھمکی کی حد تک باقی رہےگی۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پابندیوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی اصلی راہ کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرمایا: جیسا کہ محترم صدر جمہوریہ نے کہا ہے : اقتصادی منصوبہ بندی اس بات کے پیش نظر ہونی چاہیے کہ دشمن اقتصادی پابندیوں کو ذرہ برابر بھی کم نہیں کرےگا۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ممکنہ ایٹمی معاہدے پر اتفاق ہونے کے باوجود اقتصادی پابندیوں کے باقی رہنے کے بارے میں بعض امریکی حکام کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ ایٹمی معاملہ صرف ایک بہانہ ہےاور اگر یہ بہانہ نہ بھی  ہو تو وہ کوئی دوسرا بہانہ جیسے انسانی حقوق کا بہانہ اور عورتوں کے حقوق کا بہانہ اور اسی طرح دیگر مسائل کے بارے میں بہانے تلاش کرلیں گے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ کے دوسرے اصلی وسیلہ یعنی فوجی دھمکی کے بارے میں بھی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عوامی قتل و غارت اور جرم و جنایت جیسے مسائل امریکیوں کو جرائم سے روکنے کا عامل شمار نہیں ہوتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فوجی کارروائی آج ان کے لئے سنگین اخراجات کا باعث اور بے سود و غیر مفید ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایرانی قوم کی طرح دوسرے عالمی مبصرین بھی امریکہ کی فوجیوں دھمکیوں کو سنجیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتےہیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ کی طرف سے صدام جیسے گرگ اوربھیڑیئے کی حمایت ، ایران کے مسافر طیارے پر حملہ، سیکڑوں بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام، عراق و افغانستان میں ہزاروں افراد کا بے رحمانہ قتل، اور امریکہ کی طرف سے مختلف ممالک میں  رنگین انقلاب کے عنوان سے خونی بحران پیدا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکیوں کے لئے دوسری قوموں کی سلامتی، امن و امان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے اور اگر فوجی حملے سے اسے کوئی فائدہ نظر آئے تو وہ ایک لمحہ بھی دیر نہیں کرےگا۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو ایران پر حملے سے روکنے کے سلسلے میں بعض افراد کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر یہ بات درست بھی ہو تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ حملہ کو سود مند تصور نہیں کرتے ہیں اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کسی کے بھی فائدے میں نہیں ہوگا۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: دشمن کا ہاتھ اقتصادی پابندیوں اور فوجی کارروائی دونوں کے سلسلے میں خالی ہے بشرطیکہ ہم اہل ایمان ہوں اور حقیقت میں میدان میں موجود رہیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی  نے اس کے بعد اپنے خطاب کے اصلی محور یعنی ایرانی حکام کے ذہن میں محاسباتی خطا ایجاد کرنے کے لئے تسلط پسند طاقتوں بالخصوص امریکہ کی کوشش کے سلسلے میں ایک ظریف نکتہ بیان کیا۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دشمن جانتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران جس ہدف تک پہنچنا چاہیے اس تک ضرور پہنچ جاتا ہے لہذا دشمن ایرانی حکام کے محاسباتی نظام میں خلل ایجاد کرنے کی کوشش میں ہے دشمن اس کوشش میں ہے کہ وہ ایسا کام نہ کریں جو امریکی مفادات کے خلاف ہو،اور یہ وہی نرم جنگ ہے جس کے بارے میں کئی سال پہلے بیان کیا جاچکا ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ کے اس منصوبہ کو بھی سرانجام شکست خوردہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران نے روز اول سے ہی دونوں عناصر یعنی " اللہ تعالی اور سنن آفرینش پر اعتماد "  اور " دشمن کی شناخت اور اس پر عدم اعتماد  " کی عقلانی منطق کی بنیاد اپنی رفتار اور پالیسیوں کو قوہ عاقلہ پر متمرکز کرلیا اور اس کے بعد بھی ایسا ہی کرےگی۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ان دونوں  عقلانی عناصر کے عوامل کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: عوام پر اعتماد  اور ان کے صادقانہ جذبوں اور محبتوں پر اعتماد ، "ہم کرسکتے ہیں"  پر اعتقاد ،عمل پر تکیہ اور سستی اور غفلت سے پرہیز، اللہ تعالی کی نصرت پر اعتماد، ذمہ داری کی راہ میں مجاہدت ، تجربات سے استفادہ ،استقلال پر استقامت ، قوموں کے ساتھ مستکبروں کی رفتار کے بارے میں غور و دقت، منجملہ ایسےعوامل ہیں جنھوں نےاسلامی جمہوریہ ایران کے قوہ عقلانی یعنی اسلامی نظام کے اقدامات اور پالیسیوں کے بنیادی اور اساسی ڈھانچہ کو تشکیل دیا ہے اور تشکیل دیتے ہیں۔

 

رہبر معظم نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ استکبار کی مخالفت در حقیقت اسی عقلانیت کی مخالفت ہے ورنہ صرف اسلامی نام اور تشریفات سے انھیں کوئی مخالفت نہیں ہے اور نہ ہی ان کے لئے اس کی کوئی اہمیت ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحت ہونے اور اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحت نہ ہونے پر مبنی امریکی حکومت کے ایک ماہر کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ بات صحیح اور درست ہے کیونکہ امریکہ کو پہلوی دور کے وابستہ ایران کے ساتھ کوئی مشکل نہیں تھی لیکن وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دشمنی اور عداوت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران استقلال، ایمان، ظلم و ستم کے مقابلے میں استقامت وپائداری اور اسلامی اتحاد کی دعوت دیتا ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے اسلامی نظام کے اعلی حکام اور اہلکاروں کو کچھ اہم سفارشات اور ہدایات کیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پہلی سفارش کے طور پر دنیا اور علاقہ کے حساس حالات کی طرف ملک کے تمام حکام کی توجہ مبذول کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حقیقت میں ہم آج ایک اہم تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں اگر ہم قوی اور مضبوط نہیں ہوں گے تو سبھی ہم سے اپنی بات منوائیں گے لہذا ہمیں سب سے زیادہ مضبوط اور قوی ہونا چاہیے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی طاقت و قدرت بڑھانے کے عناصر کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرمایا: ایران کی قدرت و طاقت کے اضافہ کے عناصر میں جذبہ فداکاری، امید افزا نگاہ، کام و تلاش و کوشش، ثقافتی،اقتصادی اور سکیورٹی مشکلات کی شناخت اور ان کا ازالہ، اداروں کے درمیان باہمی تعاون، اداروں اور عوام کے درمیان باہمی تعاون جیسے امور شامل ہیں۔

 

ملک کے تمام حکام کو رہبر معظم انقلاب اسلامی کی دوسری سفارش، عوام کی خدمت کرنے اور کام و تلاش کے لئے فرصت ملنےکی قدر و قیمت پہچاننے پر مبنی تھی۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یہ نہ کہیں کہ کام کرنے نہیں دیتے ، کیونکہ یہ بات گذشتہ ادوار میں بھی کہی جاتی تھی جو قابل قبول نہیں ہےاور موجودہ وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ایک لمحہ کے لئے بھی کام و تلاش کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کے تمام حکام کو تیسری سفارش کرتے ہوئے فرمایا: اپنے اقدامات اور حرکات کو انقلاب اسلامی کے اصولوں کی بنیاد پر مرتب اور منظم کریں، اور جزوی اور فرعی مسائل سے پرہیز کرتے ہوئے عوام کی مشکلات کو حل کرنے پر اپنی توجہ مبذول کریں۔

 

تینوں قوا کے درمیان باہمی تعاون چوتھی سفارش تھی جس کی طرف رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حکام کی توجہ مبذول کی، تینوں قوا کے درمیان مشترکہ جلسات کا انعقاد، قوا کے درمیان مشترکہ دوطرفہ جلسات کی تشکیل، خیالات اور نظریات کا باہمی تبادلہ ، باہمی مشوروں سے  استفادہ، اور جہادی مدیریت کے اہم نکات تھے جن کی طرف رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے اشارہ کیا۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے جند نکات حکومت کے ساتھ رفتار کے سلسلے میں بیان کئے اور چند سفارشیں حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حکومت کے ساتھ رفتار کے سلسلے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: میں حکومت کی تائید اور اس کی حمایت کرتا ہوں اور اپنی تمام توانائی سے حکومت کی حمایت کے سلسلے میں استفادہ کروں گا اور میں حکومت کے اعلی ارکان پر اعتماد رکھتا ہوں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے رہبری کی طرف سے گذشتہ تمام حکومت کی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: گذشتہ تمام حکومتوں میں مثبت اور منفی نقاط موجود تھے، اور گذشتہ حکومتوں پر تنقید ماہرانہ صورت میں ہونی چاہیے اور عام جگہوں اور منبروں سے تنقید میں مصلحت نہیں ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی  نے فرمایا: البتہ موجودہ حکومت کے بارے میں بھی ہر قسم کی تنقید منصفانہ، محترمانہ، اور ہمدردانہ ہونی چاہیے جس سے حکومت کو کسی قسم کی کوئی اذیت محسوس نہ ہو۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کچھ سفارشیں حکومت کو بھی کیں ، پائدار اور مقاومتی اقتصاد کی پالیسیوں پر سنجیدگی کے ساتھ عمل پہلی سفارش تھی جس کی طرف رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: محترم صدر اور بعض حکام نے پائدار اور مزاحمتی  اقتصاد کی پالیسیوں کی حمایت کے بارے میں کم و بیش بات کی ہےلیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ہم لفظی طور پر پائدار اور مقاومتی و مزاحمتی اقتصاد کی حمایت کریں لیکن عملی طور پر اس سلسلے میں ہماری رفتار سست ہو۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: پائدار اور مقاومتی اقتصاد کا مبنا اندرونی پیداوار اور اندرونی اقتصاد کے استحکام پر استوار ہونا چاہیے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اقتصادی رونق بھی صرف پیداوار اور اندرونی ظرفیتوں کو فعال کرنے سے حاصل ہوتی ہے نہ کسی دوسری چیر سے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پائدار اور مقاومتی اقتصاد کی پالیسیوں کے نفاذ کے سلسلے میں بینکوں اور صنعت ومعدن شعبہ کو بھی بعض شفارشات کیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بینکوں کے بارے میں فرمایا: پائدار اور مقاومتی اقتصاد کی پالیسیوں کے نفاذ میں بینکوں کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیےاور انھیں ان پالیسیوں کے نفاذ کے لئے حکومت کی منصوبہ بندی اور پروگرام کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صنعت و معدن شعبہ کے اہلکاروں کو دگنی اور مضاعف تلاش و کوشش کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: اقتصادی جمود سے خارج ہونے کا اصلی بار صنعت اور معدن شعبہ کے دوش پر ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے زراعت کے شعبہ کو بھی حیاتی شعبہ قراردیا اور اس اہم شعبہ کے سلسلے میں حکومت کی حمایتی پالیسیوں پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: زراعت کے شعبہ کی حمایت کے ساتھ کسانوں اور مویشیوں کو پالنے والوں کی مشکلات کو بھی برطرف کرنا چاہیے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے گیارہویں حکومت کے اعتدال کے نعرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اعتدال کا نعرہ بہت ہی اچھا اور قابل تائید نعرہ ہے کیونکہ افراط اور انتہا پسندی ہمیشہ قابل مذمت ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایک سفارش حکومت کو اعتدال کے نعرے کے سلسلے میں کرتے ہوئے فرمایا: ہوشیار اور چوکنا رہیں کہ کہیں سیاسی میدان میں بعض افراد اعتدال کے نعرے کے ذریعہ مؤمن افراد کو باہر نہ کردیں کیونکہ یہی مؤمن افراد ہیں جو خطرات کے موقع پر سینہ سپر ہوجاتے ہیں  اور مشکلات میں بھی حکومت کی حقیقی مدد کرتے ہیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اعتدال وہی اسلام ہے یعنی کفار کے ساتھ شدید مقابلہ اور آپس میں ایکدوسرے کے ساتھ مہر و محبت ، یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، اعتدال کا یہ مطلب نہیں ہے ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مؤمن افراد جو کام کرنا چاہتے ہیں ان کو نہ کرنے دیا جائے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس کے بعد سیاسی اور ذرائع ابلاغ کے افراد کو ایک اہم سفارش کی اور انھیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: عوام کے لئے  ذہنی اور فکری سلامتی بہت ہی مہم ہے اور بعض غیر واقعی موضوعات  اور غیر ملکی تکراری باتوں کو بیان کرکے عوام کے نفسیات سے بازی نہیں کرنی چاہیے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی موضوع کو حساس مسئلہ قراردیا اور ایٹمی موضوع کے بارے میں صدر محترم کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: ہمارے مد مقابل فریق ہم سے بڑا مطالبہ کررہا ہے تاکہ ہم کم پر راضی ہوجائیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے یورینیم کی افزودگی کی ظرفیت کے مسئلہ کو فریق مقابل کے ساتھ اختلافی  موارد میں قراردیتے ہوئے فرمایا: ان کا مقصد یہ ہے کہ یورینیم افزودگی کے موضوع میں  اسلامی جمہوریہ ایران کو 10 ہزار سو پر راضی کرلیں البتہ انھوں نے 500 سو اور 1000 سو سے آغاز کیا ہے کہ دس ہزار سو،  قدیمی ساخت کے دس ہزار سنٹریفیوجز کی محصول ہے جو ہمارے پاس تھی اور ہے جبکہ متعلقہ حکام کے مطابق ملک کو 190 ہزار سو کی ضرورت ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام اور مقامی سطح پر پر امن ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کو ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ جوڑنے کے سلسلے میں امریکی تشویش کو باطل ، غیر منطقی اور ناحق قراردیتے ہوئے فرمایا: ایٹمی ہتھیاروں سے روکنے کے سلسلے میں مشخص راہیں اور مشخص ادارے موجود ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کو اس  سلسلے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور اس کی ضمانت بھی دی گئی ہے لیکن امریکہ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ممکنہ طور پر دوسرے ممالک کو  ایٹمی ہتھیاروں تک پہنچنے کا بہانہ بنا کر ان کو پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول سے منع کرے ، کیونکہ امریکہ کے پاس فراواں مقدار میں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اور وہ  ایٹمی ہتھیاروں سے استفادہ بھی کرچکا ہے اور اب بھی اس کے پاس ہزاروں ایٹم بم موجود ہیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ایٹمی ہتھیاروں سے امریکہ استفادہ کرچکا ہے اور اس سلسلے میں امریکہ کی فائل سنگین ہے لہذا ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں تشویش کا امریکہ سے کوئی ربط نہیں ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: البتہ ہمیں اپنی مذاکراتی ٹیم پر مکمل اعتماد ہے  اور ہم مطمئن ہیں کہ وہ ایران اور ایرانی قوم کی کرامت اور اس کے حقوق کو پامال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے سلسلے میں تحقیق و ریسرچ کے معاملے کی مذاکرات میں رعایت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ایک اور مورد جس پر دشمن کی بہت زیادہ حساسیت ہے وہ اس تشکیلات کی حفاظت ہے جس کو تباہ کرنا دشمن کے بس کی بات نہیں ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: وہ فردو پلانٹ کے بارے میں بات کرتے ہیں کیونکہ اس پلانٹ کو نقصان پہنچانا اور تباہ کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے لہذا وہ کہتے ہیں کہ فردو کو بند کردینا چاہیے اور ان کی یہ بات مضحکہ خیز ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقہ کے مسائل بالخصوص عراق میں جاری فتنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی کی مدد اور نصرت سے عراقی عوام اس  فتنہ کی آگ کو خاموش کردیں گے اور علاقائی اقوام بھی روزبروز مادی اور معنوی رشد اور ترقی کی راہ پرگامزن رہیں گی۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں رمضان المبارک کو توبہ اور انابہ کا مہینہ قراردیا اور برے کردار اور بری فکر و سوچ کے دوزخ سے نیک کردار اور نیک فکر و سوچ کے بہشت کی طرف حرکت کا مہینہ قراردیتے ہوئے فرمایا: رمضان المبارک کے مہینے کی دعائیں جو انسان کو اعلی معارف کا درس دیتی ہیں وہ معرفت کے ساتھ عمل ، سستی اور بیکاری سے دوری، غفلت سے پرہیز، رجعت پسندی و تحجر سے دور رہنے پر مشتمل ہے اور ان گرانقدر اور عظیم معارف کے سلسلے میں حکام کی ذمہ داری عام افراد سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل صدر جمہوریہ جناب حجۃ الاسلام والمسلمین حسن روحانی نے رمضان المبارک کی برکات اور اخلاقی و ثقافتی ہدایات کی طرف اشارہ کیا،انقلاب اسلامی کے اصلی ہدف کو وہی انبیاء (ع) کی بعثت کا ہدف یعنی اخلاقی مکارم کی تکمیل قراردیتے ہوئے کہا: حکومت اپنی اہم ذمہ داری کو ثقافتی ذمہ داری اور اسی طرح پائدار اقتصاد کی کلی پالیسیوں کے نفاذ کو اپنی اہم ترین ذمہ داری سمجھتی ہے بالخصوص اس سال میں جسے اقتصاد اور ثقافت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔

 

صدر حسن روحانی نے ثقافتی شعبہ میں ، تعلیم و تربیت کے شعبہ میں اور ممتاز شخصیات کے شعبہ میں تین اہم دستاویزات کے نفاذ کو رواں سال میں حکومت کے اجرائی منصوبوں کا اہم حصہ شمار کرتے ہوئے کہا: ثقافت کی ذمہ داریوں کا بڑا حصہ حوزہ علمیہ ، ممتاز شخصیات، ہنرمندوں اور ثقافت کے دوستوں کے دوش پر عائد ہے۔

 

صدرحسن روحانی نے اس سلسلے میں مراجع عظام کے نقش کو گرانقدر ،بےمثال اور بے نظیر قراردیتے ہوئے کہا: آج صہیونی اور استکباری سازشوں کے مقابلے میں مرجعیت ایک مضبوط و مستحکم قلعہ ہے جس کا اہم  نمونہ عراق میں سب کے سامنے ہے۔

 

صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں کہا: حکومت نےعلم محور کمپنیوں کی تقویت کو اپنے ایجنڈے میں قراردیا ہےاور ان کمپنیوں کی حمایت کے سلسلے میں ہزار ارب تومان مخصوص کئے ہیں۔

صدر حسن روحانی نے حکومت کے اقتصادی عمل کے سلسلے میں مہنگائی پر کنٹرول اور اقتصادی رونق کے دو موضوعات کی طرف اشارہ کیا۔

 

 

جناب حسن روحانی نے گذشتہ 11 ماہ میں حکومت کی اقتصادی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بعض معیاروں کو توقع سے بالا تر قراردیا اور 1392 میں خرداد کےمہینے سے 45 فیصد مہنگائی کے مرحلہ وار کمی اور رواں سال خرداد میں 14/6 تک پہنچنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: گذشتہ ایک سال میں اتنی مقدار میں مہنگائی پر کنٹرول کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں پارلیمنٹ ، مجمع تشخیص مصلحت نظام ، عدلیہ اور مسلح افواج کا بھر پور تعاون حاصل رہا ہے جو گذشتہ حکومتوں کی تاریخ میں بے نظیر اقدام ہے۔

 

صدر حسن روحانی نے اسی سلسلے میں کہا: حکومت نے مہنگائی کو سال 1394 ہجری شمسی میں 20 فیصد تک کم کرنے اور سال 1395 ہجری شمسی میں اسے ایک رقمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

صدر حسن روحانی نے پائدار اقتصادی رونق کے ایجاد کو مہنگائی پر کنٹرول کرنے سے سخت قراردیتے ہوئے کہا: حکومت پائدار اور مزاحمتی اقتصاد کی پالیسیوں کے نفاذ کے ذریعہ اقتصادی جمود کو توڑنے  اور پیداوار کو رقابت کی سمت ہدایت کرنے پر مصمم ہے اور جمود سے خارج ہونے کے پروگرام سے عنقریب عوام کو آگاہ کیا جائےگا۔

 

جناب روحانی نے کہا: اقتصادی رونق کے لئے دنیا بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعمیری اور اچھا رابطہ ضروری ہے اور حکومت نے اس سلسلے میں مؤثر اقدامات انجام دیئے ہیں۔

 

صدر حسن روحانی نے صحت و سلامت اور اس میں تغییر و تحول کے بارے میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا: ایک ملین دو لاکھ افراد صحت کے پروگرام  کی سہولیات سے استفادہ کررہے ہیں جبکہ 4 ملین سے زائد افراد بیمہ سلامت لے چکے ہیں۔

 

صدر روحانی نے خارجہ پالیسی میں حکومت کی اسٹراٹیجک کارکردگی کی وضاحت کی  اور استکبار کی طرف سے ایران سے ڈرانے اور بہانہ کی تلاش کے منصوبوں کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ظالمانہ پابندیوں کی دیوار میں بھی عظیم شگاف پیدا ہوگیا ہے جس کی ترمیم ممکن نہیں ہے۔

 

صدر حسن روحانی نے کہا: ایران ایٹمی مذاکرات میں منطق اور مکمل تیاری کے ساتھ حاضر ہوا ہے اور ایرانی قوم کے حقوق سے ذرہ برابر پیچھے نہیں ہٹے گا اور ایرانی قوم کے مسلّم اور پرامن ایٹمی حقوق کے حصول کے ساتھ سرمایہ کاری کے بازار اور ٹیکنالوجی کے حصول کے حق تک پہنچنے کی تلاش میں بھی ہے۔

 

صدر نے کہا: اگر آج دشمن کی زیادتیوں کی وجہ سے مذاکرات ناکام بھی ہوجائیں، تو دنیا کو علم ہے کہ اس کی ذمہ داری امریکہ کے دوش پر ہے اور ایران  اپنے قانونی راستے کو ایرانی قوم کی پشتپناہی کے ساتھ جاری و ساری رکھےگا۔

 

صدر حسن روحانی نے حکومت کی ایک اور اہم اسٹراٹیجک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: رواں سال اور آئندہ سالوں میں حکومت کا اقتصادی منصوبہ پابندیوں کے خاتمہ پر استوار نہیں ہے حتی اگر دشمن ضد اور لجبازی بھی کرے پھر بھی اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پیشرفت اور ترقی کا سلسلہ جاری رہےگا۔

صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب کے آخری حصہ میں علاقہ میں جاری کشیدگی کی طرف اشارہ کیا، صدر روحانی نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات ڈالنے والے گروہوں  کی تشکیل اور جہاد اسلامی جیسے مقدس عناوین سے سؤ استفادہ کو امت اسلامی کے دشمنوں کی سازش قراردیا جو انقلاب اسلامی کے پیغام کو روکنے اور دینی عوامی حکومت کی تشکیل ، استقلال، ، پائداری اور امت واحدہ کی تشکیل کو روکنے کی گھناؤنی سازش کرہے ہیں انھوں نے کہا :اسلامی جمہوریہ ایران، جہالت، تعصب ، دہشت گردی، انتہا پسندی اور علاقہ میں امن و ثبات قائم کرنے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرےگا اور عوام کا قتل عام اور علاقہ میں عدم ثبات کسی کے فائدے میں نہیں ہوگا۔

صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب کے اختتام میں کہا: حکومت اپنی تمام کامیابیوں کو عوام کی حمایت ، تعاون ، شراکت انسجام اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کی ہدایات اور حضرت ولی عصر(عج) کی توجہات اور اللہ تعالی کے فضل و کرم کے سائے میں سمجھتی ہے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬