‫‫کیٹیگری‬ :
11 November 2016 - 20:25
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424391
فونت
آیت اللہ سید احمد خاتمی:
ایران کے دارالحکومت تہران کے امام جمعہ نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبے میں امریکہ کے صدارتی امیدوار کے اعترافات کی بنیاد پر اس ملک کو بھاری قرضوں کے بوجھ کے باعث دیوالیہ ہونے کے قریب بتایا اور کہا : نو منتخب صدر گذشتہ سربراہوں کے مانند سامراجی رویہ اختیار کریں گے تو بلاشبہ وہ بھی اقوام عالم کی نظر میں قابل نفرت قرار پائیں گے ۔
آیت اللہ سید احمد خاتمی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دارالحکومت تہران کے امام جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبے میں جو سیکڑوں نماز گزاروں کی شرکت میں مصلائے تہران میں منعقد ہوا کہا: نو منتخب صدر گذشتہ سربراہوں کے مانند سامراجی رویہ اختیار کریں گے تو بلاشبہ وہ بھی اقوام عالم کی نظر میں قابل نفرت قرار پائیں گے ۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ امریکہ کے صدارتی امیدوار نے خود اعتراف کیا ہے کہ ان کا ملک بھاری قرضوں کے بوجھ کے باعث دیوالیہ ہونے کے قریب ہے کہا: امریکا ایک ایسا ملک ہے جس کی آواز بعض ممالک کے لئے سہانی ہے ، اگر ہم نے امریکا کے صدارتی امیدواروں کی ان باتوں سے کم بھی کہا ہوتا تو لوگ کہتے کہ نارے بازی کر رہے ہیں ۔  

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ماضی میں جھوٹ کا میدان محدود تھا مگر آج سوشل میڈیا جیسا جھوٹ کا نیا میدان مل گیا ہے جھان اربوں اور کھربوں کی مقدار میں جھوٹ بولا جاسکتا ہے ۔

تہران کے امام جمعہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ سوشل میڈیا اپنی باتوں کے نقل و انتقال کا بہترین موقع اور بہت بڑا خطرے کا میدان بھی ہوسکتا ، اگر اقدار اور اچھی باتیں سوشل میڈیا میں ڈالی جائیں تو ھدایت کا سبب بن سکتی ہیں ، اور اگر بری باتیں اس میں پوسٹ کی جائیں تو بحران کا سبب بھی بن سکتی ہیں ، جھوٹ بھی بحران پیدا کرنے والی چیزوں میں سے ہے ، سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ مستند گفتگو کریں کیوں کہ ضروری نہیں کہ ھر سنی باتیں سایٹوں اور سوشل میڈیا کی پیجز کے حوالے کردی جائیں ۔

آیت الله خاتمی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ممکن ہے کوئی موضوع درست ہو مگر اس کا نشر کیا جانا مناسب نہ ہو تاکید کی: اگر بات اختلافی ہو تو اس کا نشر کیا جانا مناسب نہیں ہے ، جیسا کہ حضرت امام علی (ع) کا فرمان ہے کہ جو کچھ تم سنو فورا اسے نقل نہ کردو کیوں کہ خود یہ ایک قسم کا جھوٹ ہے ، اگر سوشل میڈیا میں کسی نے حقیقت کے برخلاف بات کہی ہو تو بہادری یہ ہے کہ فورا معذرت خواھی کرے ، مگر افسوس آج ایک غلط ثقافت بن گئی ہے اور وہ یہ کہ اگر معذرت خواھی کروں گا تو ھمارا اعتبار خدشہ دار ہوگا ، مگر اگاہ رہنا چاہئے کہ خود جھوٹ کے تسلسل سے بھی انسان بے اعتبار ہوجاتا ہے ۔  

انہوں نے مزید کہا: باتوں کے قبول کرنے میں بھی اس بات کو سامنے رکھنا چاہئے کہ ھر بات ماننے اور قبول کرنے کے لائق نہیں ہوتی ، پیپرس اور کتابوں میں جھوٹ تحریر کیا جائے تو اسے عام کرنا ضروری نہیں اور سوشل میڈیا میں بھی اس معیار کو باقی رکھا جائے ۔

خبرگان رھبر کونسل کے رکن نے اربعین کے عظیم اجتماع کی جانب اشارہ کیا اور کہا: یہ عظیم اجتماع سید و سالار کربلا حضرت امام حسین(ع) سے بیعت کی نشانی ہے ، یہ پیادہ روی دنیا کی بے مثال پیادہ روی ہے ، ان نعمتوں کے لئے شکر ادا کرنا چاہئے کیوں کہ دشمن اس اجتماع کو برداشت نہیں کرپا رہا ہے ۔

انہوں نے علاقے حالات خصوصا عراق کے شہر موصل کے حالات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: خدا کے شکر سے عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس مسلسل کامیابیوں کی جانب گامزن ہے اور علاقہ کو داعش کے وجود سے پاک کرنے میں مصروف ہے ، دنیا کو عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے ، کیوں کہ وہ پوری بہادری کے ساتھ داعش کے مقابل ڈٹے ہوئے ہیں ۔

تہران کے امام جمعہ نے یاد دہانی کی: ایران ، عراق اور شام داعش نامی دھشت گرد ٹولے سے بر سر پیکار ہے ، اور وہ اتحاد جو داعش اور دیگر دھشت گردوں سے مقابلے کے لئے بنایا گیا خاموش تماشائی ہے ، نہیں بلکہ ان کی حمایت بھی کر رہا ہے ، امید ہے کہ بہت جلد پورا موصل کے فتح ہوجائے گا ۔

انہوں نے مزید کہا: عراقی فوج کو ان کی کارروائیوں میں کسی بھی ملک کی مدد کی ضرورت نہیں ہے پھر بھی امریکہ اور بعض دیگر علاقائی ممالک نے بلاسبب اپنی فوج موصل کی جانب روانہ کیا ہے کہ جن کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، موصل عراق کی سرزمین کا حصہ تھا اور ھمیشہ اسی سرزمین کا حصہ باقی رہے گا ۔

آیت اللہ احمد خاتمی نے ایرانی قوم امریکہ میں برسر اقتدار آنے والی کسی بھی حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد نہیں کرے گی کہا: امریکہ کے صدارتی انتخابات علاقے کی قوموں کے تعلق سے اس ملک کی یکطرفہ، ہٹ دھرمی اور مداخلت پسندی پر مبنی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں لا سکتے ۔

انہوں نے ایران کے خلاف دھمکی آمیز اور جارحانہ پالیسیاں اختیار کرنے کی بابت امریکہ کے منتخب صدر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران  ان پالیسیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا کہا: اقوام عالم اپنے ملکوں میں امریکہ کی فوجی مداخلتوں اور مہم جویانہ پالیسیوں سے تنگ آچکی ہیں ، امریکہ کے منتخب صدر کے لئے بہتر یہی ہے کہ ان پالیسیوں کو جاری رکھنے کے بجائے  اپنے ملک کے عوام کی مشکلات کو حل کرنے پر توجہ دیں ۔

تہران کے امام جمعہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکہ کے صدارتی امیدوار کے اعترافات کی بنیاد پر یہ ملک بھاری قرضوں کے بوجھ کے باعث دیوالیہ ہونے کے قریب ہے کہا : اس ملک میں بدامنی حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے اور سالانہ متعدد افراد خاص طور پر سیاہ فام باشندے  ہتھیاروں کے ذریعے تشدد کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔

انہوں نے علاقے کے بحرانوں کے حل میں مدد کے لئے امریکہ سے بعض ملکوں کی درخواست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : جو ملک اپنی مالی اور سیکورٹی کی مشکلات کو حل کرنے پر قادر نہیں ہے وہ ہرگز علاقے کی سلامتی میں کوئی مدد نہیں کرسکتا ۔

تہران کے امام جمعہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ داعش دہشت گرد گروہ امریکہ کی مالی اور اسلحہ جاتی مدد و حمایت سے علاقے میں وجود میں آیا اور اسے وجود میں لانے میں عوام کے ٹیکس کے پیسے خرچ کئے گئے ہیں کہا: اگر امریکہ کے نو منتخب صدر بھی گذشتہ سربراہوں کی مانند سامراجی رویہ اختیار کریں گے تو بلاشبہ  وہ بھی اقوام عالم کی نظر میں قابل نفرت قرار پائیں گے ۔

انہوں نے مزید کہا: امریکا کا کوئی بھی صدر جمھوریہ ہو سب کی سیاست ایک ہے اور سب کے سب صھیونیوں کے غلام ہیں ۔

آیت اللہ احمد خاتمی نے کہا: افسوس جمھوریت کا دم بھرنے والے خود ملتوں کا احترام نہیں کرتے ، ہم دیکھیں گے شام کی حکومت کی ساتھ ان کا برتاو کیسا ہوگا، بشار اسد جو 70 پرنسٹ ووٹوں سے اس ملک کے صدر جمھوریہ بنیں ہیں ان کا احترام کریں گے یا نہیں ۔/۹۸۸/ن۹۳۰/ک۱۲۵۵

 

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬