
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حاره حریک لبنان کے امام جمعہ حجت الاسلام سید علی فضل الله نےاس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبے میں جو مسجد امامین حسنین (ع) میں کثیر تعداد میں نماز گزاروں کی شرکت میں منعقد ہوا، لبنان میں جلد از جلد نئی حکومت کے تشکیل کی تاکید کی اور کہا : توقع ہے کہ سیاسی پارٹیاں صدر جمھوریہ کے انتخاب کی طرح کابنیہ کے انتخاب میں طول نہ دیں گی اور بہت جلد اپنی کابنیہ بنا کر حکومت بنائیں گی ۔
انہوں نے مزید کہا: ہم قومی اور متحد حکومت بنائے جانے کے خواھاں ہیں ، کابینہ میں ھر قبیلہ ، مذھب اور سیاسی پارٹی کو اپنا نمائندہ پیش کرنے کا حق ہے مگر انہیں پیش کیا جائے تو با تجربہ ہوں ، ذمہ داریاں بخوبی انجام دینے کی توانائی رکھتے ہوں اور ان میں قوم کی خدمت کا بھی جزبہ ہو ۔
لبنان کے اس شیعہ عالم دین نے امریکا کے حالیہ صدر جمھوریہ الیکشن کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ہم نے اس سے پہلے یہ کہا تھا کہ علاقے اور خود امریکا میں بحران پیدا کرنے میں اس ملک کی حکومت کا بہت بڑا ہاتھ ہے ، لھذا ایک ایسا امیدوار جیتے گا جو لوگوں کی اقتصادی مشکلات کو حل کرنے کی توانائی رکھتا ہوگا ۔
حجت الاسلام فضل الله نے مزید کہا: ہمیں جس بات کا اندیشہ ہے وہ اسلام سے مقابلہ ہے کہ ایڈورٹائزنگ کے مرحلہ میں ہم نے اسے ملاحظہ کیا ، امریکا کے نئے صدر جمھوریہ نے بھی مھاجرین سے مقابلہ اور سیاہ فام قوموں کی مخالفت کی بات تھی کہ جو خود اس ملک کے حق میں بہتر نہیں ہے ۔
حاره حریک لبنان کے امام جمعہ نے بعض گروہوں کی جانب سے امریکا کی سیاست میں تبدیلی رونما ہونے کی جانب اشارہ کیا اور کہا: جیسا کہ ہمیں پہلے سے شناخت تھی امریکا فقط و فقط اپنے منافع کی تکمیل کے درپہ رہا ہے ، امریکا خود کو دنیا کا سب سے طاقتور ملک بنانا چاہتا ہے اسی بنیاد پر اپنی سامراجی اور تسلط پسندانہ سیاست سے کوتاہ نہیں آرہا ہے ۔
انہوں نے غاصب صھیونیت کو امریکا کی سب سے بڑی تشویش بتایا اور کہا: تجربہ نے بتایا ہے کہ بڑی طاقتوں کی سیاست میں تبدیلی فقط حکومت اور ملت کے ارادے میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰ / ک۴۴۰