‫‫کیٹیگری‬ :
09 December 2016 - 23:30
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424967
فونت
قاضی احمد نورانی :
جمعیت علماء پاکستان (نورانی) کراچی کے صدر نے کہا : وزیراعلیٰ سندھ فوری طور پر تمام انتظامیہ کو جشن عید میلاد النبیؐ کے جلوس کی گذرگاہوں اور جلسوں کے مقامات پر خاطر خواہ انتظامات کا حکم دیں۔
عید میلاد النبی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء پاکستان (نورانی) کراچی کے صدر قاضی احمد نورانی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی اسلام دشمنی، کوتاہیاں، غفلت اور لاپرواہیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بیان کیا : وزیراعلیٰ سندھ فوری طور پر تمام انتظامیہ کو جشن عید میلاد النبیؐ کے جلوس کی گذرگاہوں اور جلسوں کے مقامات پر خاطر خواہ انتظامات کا حکم دیں۔

یہ بات قاضی احمد نورانی نے جے یو پی کراچی کے زیر اہتمام جشن عید میلاد النبیؐ کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے بلائے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس سے جے یو پی کراچی کے جنرل سیکریٹری مفتی رفیع الرحمن نورانی، سینئر نائب صدر بشیر القادری، شکیل قاسمی، عبدالغفار اویسی، صاحبزادہ غلام غوث گولڑوی، پروفیسر انوار احمد شیخ، بابا فخر الدین نورانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر کراچی کے تمام اضلاع میں جلوس عید میلاد النبیؐ اور ریلیوں کے پروگرام کو حتمی شکل دی گئی۔

قاضی احمد نورانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس سال گورنر سندھ اور نہ ہی وزیراعلیٰ سندھ نے جشن عید میلاد النبیؐ کے انتظامات کے سلسلہ میں نہ تو کوئی اجلاس طلب کیا اور نہ ہی کوئی حکم نامہ جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے تمام شہروں میں صفائی ستھرائی کی صورتحال انتہائی ناقص ہے، جگہ جگہ گٹر اور نالے بھرے ہوئے ہیں، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، جبکہ ضلعی میونسپلٹیز اور دیگر ذمہ داران فنڈ نہ ہونے کا رونا روتے ہیں، خود میئر کراچی کے بلائے گئے اجلاس میں جو شکایات کی گئی تھیں، دس دن گذر جانے کے باوجود اُن کا ازالہ نہ ہو سکا۔

رہنما جے یو پی کا مزید کہنا تھا کہ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کی جانب سے بار بار یقین دہانیوں کے باوجود کراچی کے ڈپٹی کمشنرز، سابقہ اجازت نامہ ہونے کے باوجود جلوسوں اور جلسوں کے اجازت نامہ جاری کرنے کے بجائے ایس ایس پی آفس اور تھانوں کے چکر لگوا رہے ہیں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬