‫‫کیٹیگری‬ :
01 January 2017 - 19:41
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425432
فونت
ڈاکٹر علی اکبر ولایتی:
سابق وزیر خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا: آج دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ایران اور حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم کے علاوہ کوئی اور پناہ گاہ نہیں ہے جس کی دلیل داعش، القاعدہ اور النصرہ جیسے منحرف و افراطی گروہوں کا وجود ہے۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا: منحرف اور افراطی لوگوں کی کوشش ہے کہ اسلام کے چہرے کو بدترین حالت میں داغدار کریں اور اس کا ایک وحشی دین کے طور پر تعارف کرائیں۔

انہوں نے کہا: عصر حاضر میں ایران کے علاوہ دنیا بھر کے تمام اسلامی ممالک میں معقول و مناسب افراد کی قلت ہے اورایران کے علاوہ کوئی ملک بھی دین اسلام کے لئے پناہ گاہ و مقام امن نہیں ہے۔

مجمع تشخیص مصلحت نظام کے ادارہ تحقیقات کے سربراہ نے کہا: دنیائے اسلام میں کہیں بھی شیعہ و سنی افراد کے لئے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ منورہ کے علاوہ مرکز نہیں ہے اور آج یہ روضہ منورہ رضوی دنیائے اسلام کے لئے عظیم ظرفیت میں تبدیل ہوچکا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی خراسان میں تشریف آوری بہت زیادہ برکتوں کی حامل تھی اور اس سلسلہ میں حضرت کے مختلف زاویوں میں کردار کے عنوان سے ایک دائرۃ المعارف تیار کیا جائے ۔

ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے اسلام کو ملحدوں ، مشرکوں، شک کرنے والے اور یونان و دنیا بھر کے فلسفہ کے ماننے والوں سے نجات دی کہ جس کی وجہ سے مسلمانوں میں اتحاد قائم ہوا اور مذہب شیعہ کو اپنی اصلی راہ پر گامزن کیا اور حضرت کی شہادت کے بعد حضرت کا یہ روضہ منورہ مسلم امت کے لئے آج تک بہت سی برکتوں کا منشاء رہا ہے ۔

انہوں نے کہا: دنیا بھر کے مسلمانوں کی امید ایران سے وابستہ ہے اور اس ملک کی برکتیں بھی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ منورہ کی بدولت ہیں کہ جس کی وجہ سے اسلام کو شرک و انحراف و شک وشبہات سے نجات ملی ہے اور سنی و شیعوں کے آپس میں قریب کردیا ہے ۔

مجمع تشخیص مصلحت نظام کے ادارہ تحقیقات کے سربراہ نے کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی اسی ابتدائی ہجرت سے مدینہ سے مروتک آپ کا وجود خیر و برکت کا سبب رہا اور مامون کے جبر وزور زبر دستی کے باوجود بھی حضرت کی خراسان میں تشریف آوری کی وجہ سے اس زمانے میں شہر مرو عظیم اسلامی روابط کا مرکز بن گیا تھا۔

بین الاقوامی امور میں مقام معظم رہبری کے مشاور نے کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے شہر مرو میں ایک دینی مدرسہ قائم کیا کہ مورخین کے بقول اس مدرسہ میں چار ہزار طالب علم علوم دینی حاصل کرنے میں مشغول تھے، لیکن جب مامون نے لوگوں کے استقبال کوروز بروز بڑھتے ہوئے دیکھا تو مدرسہ کو بند کردیا ۔

ولایتی نے کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے دنیا کے مختلف علاقوں کے لئے اسلام کی صحیح تبلیغ اور بنی عباس و بنی امیہ کے انحرفات کو ختم کرنے کے لئے متعدد مبلغ و وکیل اعزام فرمائے۔

انہوں نے مزید کہا: بہت سی تاریخ دلائل و شواہد موجود ہیں کہ جس معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا روضہ منورہ ہمیشہ شیعہ و سنی حضرات کے لئے قابل احترام رہا ہے اور حضرت کا خراسان میں تشریف لانا فرقہ اسماعیلیہ و زیدیہ اور مذہب شیعہ کے اتحاد اور سب کےشیعہ اثناعشری مذہب پر گامزن ہونے کا سبب بنا ہے ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۶۱۹/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬