‫‫کیٹیگری‬ :
11 April 2017 - 10:25
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 427426
فونت
حضرت علی (ع) کی ولادت با سعادت کے موقع پر پوری دنیا میں خوشی کے ساتھ ساتھ عقیدت مندوں نے جشن و محفل کا انعقاد کرتے ہوئے ان کی شان میں اشعار و مدح سرائی سے اپنے وجود کو منور و ایمان کو تازہ کیا ۔
حضرت علی (ع) کی ولادت باسعادت

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حضرت علی(ع) اسلامی تاریخ کی وہ درخشاں ہستی ہیں کہ جن کا کردار ہر اعتبار سے نمایاں اور ممتاز رہا ہے۔ آپؑ نے آنکھ کھولی تو کعبے میں، اور یوں مولود کعبہ کہلائے۔

سب سے پہلے جس ہستی کو دیکھا وہ رسالت مآب ہی تھے۔ انہی کے سایہ عاطفت میں گھٹنوں کے بل چلے اور آغوشِ رسالت میں نشوونما پا کر بالآخر میدان جہاد کے شہسوار بن گئے۔

اسے آپ حسن اتفاق کہئے یا قدرت کی مصلحتِ خاص کہ ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی حضرت علیؑ کی پرورش کا ذمہ دوشِ رسالت نے اٹھایا۔

مولود کعبہ نے کائنات کی ہرشے کو اسلام کی ہی روشنی میں دیکھا۔ درسگاہِ نبوی میں تعلیم و تربیت پائی۔ معلم انسانیت جیسا معلم و مربی ملا۔ رہنے کو نبوت کا گھرانہ اور بود و باش کے لئے سرزمینِ وحی ملی۔ قرآنی آیات کی شانِ نزول کے چشم دید گواہ بنے۔

نہج البلاغہ میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ میں بچپنے میں ہی رسول اکرم کی شخصیت سے اس قدر مانوس و متاثر تھا "کہ میں وحی و رسالت کی روشنی دیکھتا تھا اور نبوت کی بو سونگھتا تھا"(نہج البلاغہ ترجمہ از مفتی جعفر حسین)۔ کمسنی میں آنحضورؐ کی ذاتی محافظت کا بار گراں اپنے دوش ہائے نازک اندام پر اٹھایا۔

مولائے متقیان مولا امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی روز ولادت باسعادت پر پورا عالم اسلام جشن و نور ہے۔جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران میں سرکاری اور نجی عمارتوں اور سڑکوں کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا ہے۔ عاشقان حیدر کرار جگہ جگہ لوگوں میں شربت اور مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں۔

جشن مولود کعبہ کے مرکزی اجتماعات مشہد المقدس میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم مطہر اور قم المقدسہ میں جناب فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم مطہر میں جاری ہیں جہاں بڑی تعداد میں عاشقان اہلبیت اطہار(ع) جشن علوی میں شریک ہیں۔

مولائے کائنات کی ولادت باسعادت  کے موقع پر عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف، کربلائے معلی، کاظمین اور سامرہ میں بھی وسیع پیمانے پر جشن کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جبکہ نجف اشرف میں لاکھوں کی تعداد میں عراقی اور غیر ملکی زائرین حضرت امام علی علیہ السلام کا جشن ولادت بڑی ہی دھوم سے منا رہے ہیں اور ذاکرین و شعرائے کرام  بارگاہ علوی میں اپنے اپنے مخصوص انداز میں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان میں بھی جگہ جگہ محافل میلاد کا اہتمام کیا گیا ہے اور گھر گھر نذر و نیاز کا سلسلہ جاری ہے۔ اور اس مشرت کے موقع پر سب ایک دوسرے کے گھر جا کر مبارک باد پیش کر رہے ہیں ۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬