‫‫کیٹیگری‬ :
03 June 2017 - 21:08
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 428374
فونت
آیت الله جعفر سبحانی:
حضرت آیت الله سبحانی نے کہا: انبیاء الھی اس لئے گناہ نہیں کرتے کہ وہ گناہ اور معصیت کے آثار سے آگاہ ہیں ، لہذا کبھی علم انسان کے اندر عصمت پیدا کرتا ہے ۔
حضرت آ‌یت الله سبحانی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله جعفر سبحانی نے مدرسہ حجتیہ قم میں اپنی سلسلہ وار تفسیر قران کریم کی نشست میں سوره ملک کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: انبیاء الھی کی عصمت کی ایک وجہ ان کا گناہ اور معصیت کے آثار سے آگاہ ہونا ہے ، لہذا کبھی علم انسان کے اندر عصمت پیدا کرتا ہے ۔

اس مرجع تقلید نے واضح طور سے کہا: تمام انسانوں میں سے کسی کو بھی اگر عربوں کے ڈالر کے بدلے یہ کہا جائے کہ تم ہائی ٹینشن کیبل پکڑ لو تو وہ ھرگز ایسا کام نہیں کرے گا، کیوں کہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اس کا نتیجہ موت ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے برجستہ استاد نے مزید کہا: جہاں بھی علم ہوگا انسان وہاں نقصان اٹھانے سے محفوظ ہوگا لہذا اگر ہم بھی گناہوں کے آثار سے اگاہ ہوں گے تو گناہ نہیں کریں گے ، یہ عصمت کا ایک مرحلہ اور پہلی سیڑھی ہے ، حضرت یوسف(ع) اپنی جوانی میں بھی علم کی خاص منزل پر تھے ، جوانی میں آپ پر ایک عورت فریفتہ ہوگئی کہ اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو دھوکہ کھا جاتا مگر آپ ھرگز تسلیم نہیں ہوئے ، کیوں کہ آپ گناہ کے اثرات سے آگاہ اور واقف تھے ، تمام انبیاء اور اولیاء الھی اس علم کے مالک ہیں ، اور ممکن ہے ہم بھی نفسانی کمالات کے ذریعہ اس مرحلے تک پہونچ جائیں ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے بیان کیا: اگر انسان گناہ کے آثار کو اپنی نگاہوں سے دیکھ لے تو وہ ھرگز گناہ نہیں کرے گا اور اس کا گناہ نہ کرنا اس کی عصمت کا حصہ شمار کیا جاتا ہے ، قران کریم نے  سوره ملک کی 12 ویں آیت میں فرمایا کہ « إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ جو لوگ غائبانہ اپنے پروردگار کا خوف کرتے ہیں یقینا ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے » خشیت اور خوف کی بظاھر کوئی اہمیت نہیں ہے ، بہت سارے لوگ بظاھر خدا سے ڈرتے ہیں مگر تنہائی میں اس کی معصیت اور گناہ کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا: اس آیت میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیوں مغفرت کو پہلے لایا گیا اور پھر اجر کو بیان کیا گیا ؟ تو اس کا جواب واضح ہے کی کسان جب کھیتی کرتا ہے تو پہلے زمین پر حل چلاتا اور پھر اس میں بیج بوتا ہے ، نفس کی تربیت اور کمال کی دنیا میں بھی ایسا ہی ہے اس میں تخلیہ ، تحلیہ پر مقدم ہے ، پہلے نفس کی طھارت ہوگی تب اجر ملے گا ۔

اس مرجع تقلید نے واضح طور سے کہا: خداوند متعال نے جب بھی کفار سے گفتگو کی ہے اس کے فورا بعد مومنین سے گفتگو کی ہے یا جب بھی مومنین سے گفتگو کی اس کے فورا بعد کفار کو مخاطب کیا ہے ، یہ انداز قران میں بارہا و بارہا تکرار کیا گیا ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے برجستہ استاد نے مزید کہا: یہ انسان کا فقط ایک وہم ہے کہ خدا کو غیب کا علم ہے مگر ظاھر کا اسے کوئی علم نہیں ہے ، یا یہ کہ وہ اسے ظاھر کا علم اور غیب سے لا علم ہے ، اس سورہ « وَ أَسِرُّواْ قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُواْ بِهِ  إِنَّهُ عَلِيمُ  بِذَاتِ الصُّدُور ترجمہ : اور تم لوگ اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ظاہر کرو یقینا وہ تو سینوں میں موجود رازوں سے خوب واقف ہے » اپنی گفتگو آشکار کرو یا پنہاں اس کی ذات دونوں ہی آگاہ ہے ، وہ انسانوں کے سینے میں چھپے راز اور گزرتی باتوں کو جانتا ہے ، یہ آیت ظاھر و باطن کا فرق مٹانا چاہتی ہے ، کیوں کہ انسان ظاھر دیکھتا ہے مگر باطن نہیں دیکھ سکتا ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے سوره ملک 14 ویں آیت کی تفسیر میں کہا: خداوند متعال نے اس آیت میں فرمایا کہ « أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ترجمہ : کیا جس نے پیدا کیا اس کو علم نہیں؟ حالانکہ وہ باریک بین، بڑا باخبر بھی ہے » جبکہ وہ اسرار سے آگاہ ہے ، کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کو عدم سے وجود میں لانے والی ذات (خداوند متعال) اس کے دل میں گزرتی باتوں سے لاعلم ہو ۔

انہوں نے کہا: لطیف اور بہت نازک چیزیں آنکھوں سے دیکھنے میں نہیں آتی بلکہ انہیں آئی گلاس اور دوربینوں سے دیکھا جاتا ہے ، خداوند متعال کہ جس کی صفت «لایری» یعنی وہ ان ظاھری آنکھوں سے نہیں دیکھتا اسی کی صفت «خبیر» یعنی آگاہ اور با خبر ہے ، آسمانوں میں موجود چیزیں وہ حقیقت ہیں جسے انسان کی زبان بیان کرنے سے عاجز و ناتوان ہے مگر اس کی ذات ان تمام کی تمام چیزوں سے آگاہ ہے ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے بیان کیا: حضرت امام علی(ع) نے علم الھی کے سلسلے میں فرمایا کہ خداوند متعال کی ذات خلوت اور تنہائی میں کی جانے والی گناہوں سے واقف ہے ، وہ دریاوں کی تہوں میں چلتی ہوئی مچھلیوں کی چالوں سے آگاہ ہے ، جب ہم خدا کو ایسا سمجھیں گے تب گناہ سے دور رہیں گے ، انہیں بنیادوں پر امام خمینی(ره) نے فرمایا کہ عالم محضر خدا ہے اور محضر میں گناہ نہ کریں ۔/ ۹۸۸/ ن۹۳۰ / ک۹۴۳

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬