‫‫کیٹیگری‬ :
07 September 2017 - 17:46
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429840
فونت
آیت الله وحید خراسانی کے درس خارج میں :
حضرت ‌آیت الله وحید خراسانی نے اس بیان کے ساتھ کہ امیر المومنین علی علیہ السلام قیامت کے روز میزان ہیں ، بیان کیا : حضرت آدم سے لے کر عیسا ابن مریم علیہم السلام تک تمام انبیا و اوصیا کی پیمائش کا معیار علی علیہ السلام ہیں ۔
آیت الله وحید خراسانی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد حضرت آیت ‌الله حسین وحید خراسانی نے ایران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم میں منعقدہ درس خارج میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی عظیم و اعلی مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ہم لوگوں نے علی علیہ السلام کو نہیں پہچانا ہے ۔

انہوں نے خصوصا واقعہ غدیر کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی : اس ایام میں خداوند عالم نے دین کو مکمل کیا ہے اور دین خداوند عالم کے نزدیک اسلام ہے لیکن اس دین کے مکمل علی علیہ السلام ہیں ، اس دین کی تکمیل علی علیہ السلام کی ولایت سے ہوئی ہے ؛ غدیر کے روز نعمت تمام ہوئی ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد نے اس بیان کے ساتھ کہ یہ اسرار معلوم نہیں ہو سکا ہے بیان کیا : کس شخص نے علی علیہ السلام کو پہچانا ہے ، حضرت فرماتے ہیں خدا کی قسم اگر سات اقلیم علی کو دے دیا جائے اس چیز کے ساتھ جو اس اقالیم کے تحت افلاک ہیں تا کہ چونٹی کے منہ سے جو کا چھلکا نکال لو تو میں ایسا نہیں کر سکتا ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے کہا : یہ عدل مطلق عالم عقل کو حیران کر دیا ہے ، اقالیم ھفت گانہ وہ بھی افلاکوں کے تحت ، چیونٹی کے منہ سے جو کا چھلکا نکالتا ، ایسا نہیں کر سکتا ، کون شخص حضرت کو پہچان سکا ہے ؟ عقل حیران ہے ۔

حضرت آیت الله وحید خراسانی نے بیان کیا : اس دنیا میں کسی کو بھی اس طرح کی خوشی و خوش نصیبی حاصل نہیں ہوئی ہے کہ امیرالمومنین کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی اور مسجد میں شہادت ہوئی ، حضرت کی خانہ کعبہ میں ولادت ہوئی اور کوفہ میں عبادت کے محراب میں سجدہ کی حالت میں سر شکاف ہوا اور شہادت کے اعلی مقام کو حاصل کی ۔

انہوں نے بیان کیا : اہم یہ ہے کہ جبرئیل آسمان و زمین کے درمیان آواز بلند کی «تهدمت و الله أرکان الهدی» لیکن خود انہوں نے اپنے شگاف شدہ سر پر ہاتھ رکھ کر کہا «فزت و رب الکعبه» یہ علی ابن ابی طالب ہیں ، کس نے ان کو پہچانا ہے ؟

مرجع تقلید نے بیان کیا : اہم یہ تمام چیزیں نہیں ہیں اہم یہ ہے کہ «و السماء رفعها و وضع المیزان» عقل یہاں پر حیران ہے ؛ آسمان مرفوع خاتم النبین(ص) اور میزان موضوع امیر المؤمنین(ع) ہیں ۔

انہوں نے وضاحت کی : قیامت کے روز حضرت علی علیہ السلام ترازو ہیں یعنی حضرت آدم سے لے کر عیسا ابن مریم علیہم السلام تک تمام انبیا و اوصیا کی پیمائش کا معیار علی علیہ السلام ہیں کہ ان لوگوں کی ان سے کیا نسبت ہے ، یہ عقل کو حیران کرتا ہے ؛ ختم کلام ، کلام خاتم ہے کہ فرمایا اے علی خدا کو کسی نے نہیں پہچانا سوائے میں نے اور تم نے ، مجھے کسی نے نہیں پہچانا سوائے خدا نے اور تم نے ، تم کو کسی نے نہیں پہچانا سوائے خدا نے اور میں نے ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۶۱۶/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬