‫‫کیٹیگری‬ :
26 October 2017 - 22:00
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 430544
فونت
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر :
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر نے ایرانی حکومت سے اپیل کی ہے کہ زائرین کو ویزے جاری کرنے کے عمل کو تیز تر کیا جائے۔
شیعہ علماء کونسل

 کے مرکزی نائب صدر :

زائرین کی مشکلات ختم کرنے کے لئے وفاقی حکومت مداخلت کرے

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر نے ایرانی حکومت سے اپیل کی ہے کہ زائرین کو ویزے جاری کرنے کے عمل کو تیز تر کیا جائے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر اور مسئول شعبہ حج و زیارات حجت الاسلام الحاج مظہر عباس علوی نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم میں شرکت کیلئے کربلا جانیوالے زائرین کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قونصل خانوں میں لوگوں کے پاسپورٹ پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ حکومت بلوچستان زائرین کی بسوں کو تفتان لے جانے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے، 600 بسوں کے قافلے مختلف علاقوں سے روانہ ہوچکے ہیں۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے کربلا جانیوالے زائرین میں سے پاکستانی سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں، ویزا جاری کرنیوالے سفارتخانوں کے باہر ایجنٹس نے رشوت کا بازار گرم کر رکھا ہے، لاکھوں زائرین عراقی ویزہ حاصل کرچکے ہیں، لیکن ایرانی قونصلیٹ کے فرسودہ نظام کی وجہ سے ہزاروں زائرین کے پاسپورٹ پھنسے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ زائرین اربعین (چہلم امام مظلوم ؑ) پر نہیں پہنچ سکیں گے، لوگوں نے جو ائر ٹکٹس خرید رکھی ہیں، ان کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے اور وہ کربلا اور نجف نہیں پہنچ سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری بڑی مصیب بائی روڈ جانیوالے پاکستانی زائرین کیلئے بلوچستان حکومت نے سکیورٹی کے نام پر پیدا کر رکھی ہے، ابھی تک صرف 140 بسوں کو جانے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ شعبہ حج و زیارات کے اعداد و شمار کے مطابق 600 بسوں پر قافلے روانہ ہوچکے ہیں، چونکہ 25000 زائرین کو ویزے جاری کئے جا چکے ہیں۔

حجت الاسلام مظہر علوی نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے اپیل کی ہے کہ وفاقی حکومت مداخلت کرکے بائی روڈ جانیوالے قافلوں کیلئے سہولیات فراہم کرے، تاکہ وہ کربلا وقت پر پہنچ سکیں۔

انہوں نے ایرانی حکومت سے بھی اپیل کی ہے کہ زائرین کو ویزے جاری کرنے کے عمل کو تیز تر کیا جائے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬