‫‫کیٹیگری‬ :
03 December 2017 - 11:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 432077
فونت
حجت الاسلام مظہر عباس علوی :
شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر نے کہا : زائرین کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے حکومت اور ریاستی اداروں کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں اور مستقبل میں بھی ہمارا تعاون جاری و ساری رہے گا ۔
شیعہ علما کونسل

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی کی ہدایت کی روشنی میں شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر اور شعبہ زائرین کے مسؤل حجت الاسلام مظہر عباس علوی کا کہنا ہے کہ تیس ہزار سے زائد زائرین کربلا بحفاظت اپنے اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں اور انشااللہ جو زائرین باقی رہ گئے ہیں ان کی واپسی بھی جلد ممکن ہو جائے گی ۔

حجت الاسلام مظہر عباس علوی کا کہنا تھا کہ حکومت اور وزارت داخلہ کے ذمہ داران سے روابط کرکے شہدائے کربلا کے چہلم پر بائی روڈآنے والے 45 ہزار سے زائد زائرین کربلا کی واپسی پرتفتان بارڈر سے کوئٹہ کیلئے روزانہ کی بنیاد پر کانوائے چلائے جانے کے لئے بر وقت خصوصی و ہنگامی طور پر انتظامات کرنے کا کہا تھا جس پر حکومت و انتظامیہ نے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر حکومت اور بلوچستان انتظامیہ سمیت لیویز کی جانب سے زائرین کی واپسی پر عملی تعاون پرعمل درآمد پہلے دن سے دیکھنے میں آیا اور تاحال پانچ قافلوں کے ذریعے تیس ہزار سے زائد زائرین بحفاظت اپنے اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں ۔

حجت الاسلام مظہر عباس علو ی کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور سیکرٹری داخلہ نے معاملہ کی اہمیت‘ سنگینی اور حساسیت کے پیش نظر تمام زائرین کی بروقت واپسی اور سیکورٹی انتظامات کو موثر بنایا ہے اور جنگی بنیادوں پر اقدامات عمل میں لائے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کا تعاون مثالی رہا ۔

حجت الاسلام مظہر عباس علوی نے کہاکہ ہم زائرین کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے حکومت اور ریاستی اداروں کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں اور مستقبل میں بھی ہمارا تعاون جاری و ساری رہے گا، تاکہ زائرین کے مسائل کے حل کے لئے ٹھوس‘ سنجیدہ اور دیرپا اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جا سکے ۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬