‫‫کیٹیگری‬ :
25 December 2017 - 18:41
News ID: 432403
فونت
حوزه علمیہ اصفهان کے سربراہ نے معاشرہ میں بڑھتی ہوئی رشوت خوری اور سود خوری پر افسوس کا اظھار کیا اور کہا: حالت یہاں تک پہونچ چکی ہے اب بغیر رشوت دئے اور پارٹی بازی کے بغیر کوئی کام انجام پانا دشوار ہے نیز بڑھتی ہوئی سودی خوری معاشرہ کی دیگر مصیبت ہے ۔
آیت الله مظاهری

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی اصفھان سے رپورٹ کے مطابق، حوزه علمیہ اصفهان کے سربراہ حضرت آیت الله حسین مظاهری نے مسجد امیرالمؤمنین(ع) جی روڈ اصفھان پر ہونے والی تفسیر قران کریم کی نشست میں کہا: بعض ڈاکٹر ہلتھ منسٹری کی طرف سے معین شدہ تنخواہوں پر قانع  نہیں ہیں اور اپنے کام کے لئے مریضوں سے رشوت لیتے ہیں ۔

انہوں نے سوره بقره کی ۱۸۸ویں آیت «وَلا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُکَّامِ لِتَأْکُلُوا فَرِیقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ۔ ترجمہ : اور تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ اورنہ ہی اسے حکام کے پاس پیش کرو تاکہ تمہیں دوسروں کے مال کا کچھ حصہ دانستہ طور پر ناجائز طریقے سے کھانے کا موقع میسر آئے » کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: اس آیت کریمہ میں رشوت لینے اور رشوت دینے کے سلسلے میں بہت اہم باتیں بیان کی گئی ہیں ، رشوت لینا اور رشوت دینا ناحق اور باطل عمل ہے، قران کریم نے متعدد آیات اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی روایتوں میں اس کی حرمت کی تاکید کی گئی ہے اور اسے ایک عظیم گناہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے بیان کیا: رشوت چاہے کسی نوعیت کی وہ سب کی سب حرام ہے اور گناہ کی کیفیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ، افسوس ان دنوں معاشرے میں عنوان بدل کر رشوت دینا اور رشوت لینا معمولی عمل بن چکا ہے نیز سود خوری بھی عام ہوچکی ہے ۔

انہوں نے معاشرہ میں بڑھتی ہوئی رشوت خوری اور سود خوری پر افسوس کا اظھار کیا اور کہا: حالت یہاں تک پہونچ چکی ہے کہ اب بغیر رشوت دئے اور پارٹی بازی کے کوئی بھی کام انجام پانا دشوار ہوگیا ہے نیز بڑھتی ہوئی سودی خوری معاشرہ کی دیگر مصیبت ہے ، روایت میں منقول ہے کہ رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا اور جو ان دونوں کے درمیان واسطہ ہے تمام کے تمام جہنم میں جائیں گے ۔

حوزه علمیہ اصفهان کے سربراہ نے رسول اسلام کے دور حکومت کے ایک واقعہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت کے دور حکومت میں ایک شھر کے گورنر نے تحفہ قبول کرلیا تو حضرت اسے سن کر بہت ناراض ہوئے ، آپ نے گورنر کو حاضر کیا اور اس سے تحفے قبول کرنے کا سبب دریافت کیا ، اس شخص نے جواب دیا کہ مجھے ھدیہ دیا گیا ہے تو حضرت نے کہا کہ اگر تو گورنر نہ ہوتا تو کیا تجھے ھدیہ ملتا ، یہ ایک طرح کی رشوت ہے مگر ھدیہ کے طور پر تجھے دی گئی ہے ۔

[انہوں نے مزید کہا: امیرالمؤمنین علی (ع) نے اس فرد کے ساتھ جس نے حضرت کے دور خلافت میں شھد کو رشوت کے طور پر قبول کیا تھا تاکہ فیصلے میں اس کی جانبداری کرسکے سخت برتاو کیا اور اس کے بعد مفصل خطبہ دیا اور رشوت کی مذمت کی ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ رشوت خوری اور سود خوری ایک طرح سے نجس خوری ہے کہا: سوره مائده کی ۴۲ ویں آیت میں آیا ہے کہ «سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ أَکَّالُونَ لِلسُّحْتِ... ترجمہ : یہ لوگ جھوٹ (کی نسبت آپ کی طرف دینے )کے لیے جاسوسی کرنے والے، حرام مال خوب کھانے والے ہیں » رشوت خوری اور سود خوری ایک طرح سے نجس خوری ہے لہذا ہمیں اپنی انکھیں کھلی رکھنی چاہئیں ۔

انہوں نے آخر میں یاد دہانی کی: جس کی جان یا عزت کو خطرہ ہو یا مجبور انسان رشوت دے سکتا مگر رشوت لینے والا یقینا حرام کا مرتکب ہوا ہے ۔/۹۸۸/ ن۹۷۱

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬