‫‫کیٹیگری‬ :
08 January 2018 - 12:49
News ID: 432563
فونت
آیت الله مظاهری:
حوزہ علمیہ اصفھان کے سربراہ نے یہ کہتے ہوئے کہ دنیا و آخرت دونوں ہی ساتھ ساتھ ہونا چاہئے کہا : دنیا میں اهل بیت(ع) کی شناخت، آخرت میں عاقبت بخیر ہونے کی نشانی ہے ، ہمیں اس طرح زندگی بسر کرنی چاہئے کہ جب موت کے وقت حضرت امیرالمومنین علی(ع) ہماری بالیں پر آئیں تو ہم ان سے روبرو ہوسکیں اور آخرت میں اهل بیت(ع) ہماری مدد کریں ، یہ ہیں عاقبت بخیر ہونے کے معنی ۔
آیت الله مظاهری

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ اصفھان کے سربراہ حضرت آیت الله حسین مظاهری نے مسجد امیرالمؤمنین(ع) جی روڈ اصفھان پر منعقد تفسیر قران کریم کی نشست میں کہا: خدا سے گفتگو بالاترین ذکر اللہ ہے ۔

انہوں نے سوره بقره کی ۱۹۹ ویں آیت «ثُمَّ أَفِیضُوا مِنْ حَیْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ۔ ترجمہ : پھر تمام لوگوں کی طرح تم بھی کوچ کرو اور اللہ سے استغفار کرو کہ اللہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے » کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: یہ آیت اعمال حج سے متعلق ہے ، ایام تشریق ان ایام سے متعلق ہے جن ایام میں حاجی مِنٰی میں موجود ہوتے ہیں ، ان ایام میں حاجیوں پر خدا کا نور جلوہ گر ہوتا ہے اور چاند مکمل ہوجاتا ہے ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے یاد دہانی کی: کامیاب حاجی وہ ہے جو ان ایام میں ایک جزء کامل قران کریم تلاوت کرے ۔ ذکر الھی کے مختلف معنٰی ہیں مگر اس کے بالاترین معنٰی، اس مقدس مقام مِنیٰ میں خدا سے انجام پانے والی گفتگو ہے ، مومن انسان اس جگہ اپنے دل کی بصارت سے خدا کی باتوں کو سنتا ہے ۔

انہوں نے بیان کیا: خداوند متعال سے راز و نیاز اور دعائیں کرنا ، قران کریم اور اہل بیت اطھار علیھم السلام کی تاکید ہے ، قران کریم کا ارشاد ہے کہ بہترین گفتگو خدا سے گفتگو ہے ، یہ آیت ہمیں اس بات کا درس دیتی ہے کہ دعا دنیا اور آخرت دونوں کے لئے ہو ، بزرگان اپنی آخرت کو آباد کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کریں تاکہ ان کی دنیا بھی آباد ہوسکے ۔

حوزہ علمیہ اصفھان کے سربراہ نے کہا: وہ انسان عاقبت بخیر ہے جو دنیا و آخرت دونوں سے بخوبی استفادہ کرسکے ، خداوند متعال نے سورہ بقرہ کی ۲۰۱ ویں آیت «وَمِنْهُمْ مَنْ یَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَفِی الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» میں جس دعا کی تعلیم دی ہے بہت اچھی اور موثر دعا ہے  ۔ روایتوں میں حسنہ سے مراد نیک بیوی ہے حتی بعض دیگر روایتیں فرزند صالح کو بھی حسنہ کا مصداق بتاتی ہیں ۔

انہوں یہ کہتے ہوئے کہ دنیا و آخرت دونوں ہی ساتھ ساتھ ہونا چاہئے کہا : دنیا و آخرت دونوں ہی ساتھ ساتھ ہونا چاہئے کہا : دنیا میں اهل بیت(ع) کی شناخت، آخرت میں عاقبت بخیر ہونے کی نشانی ہے ، ہمیں اس طرح زندگی بسر کرنی چاہئے کہ جب موت کے وقت حضرت امیرالمومنین علی(ع) ہماری بالیں پر آئیں تو ہم ان سے روبرو ہوسکیں اور آخرت میں اهل بیت(ع) ہماری مدد کریں ، یہ ہیں عاقبت بخیر ہونے کے معنی ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے یاد دہانی کی: انسان عالم برزخ میں اپنا وقت اپنے اعمال کی بنیاد پر کاٹے گا ، منقول ہے کہ ایک انسان جس کی موت کو کافی عرصہ گذر گیا تھا وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ذریعہ زندہ کیا گیا ، حضرت عیسی علیہ السلام نے اس سے سوال کیا کہ تمھاری موت کو کتنے برس ہوئے تو اس نے عرض کیا بہت دن نہیں ہوئے کچھ برس ہی گذرے ہیں ، حور العین کے ساتھ تھا کہ آپ نے ہمیں بلا لیا ، اس کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام نے ایک جوان کو جس کی موت کے کچھ دن ہی گذرے تھے اسے زندہ کیا اور اس سے سوال کیا کہ تجھے مرے ہوئے کتنے دن ہوئے تو اس نے جواب دیا کہ بہت دن ہوگئے جب منکر و نکیر کے سوالات کے جوابات نہ دے سکا و انہوں ںے میرے سر پر آگ کا ایک گرز مارا اور جہنم میں ڈال دیا  ۔

انہوں نے آخر میں بیان کیا: دنیا میں نیکی کے متعدد مصدایق ہیں ، آخرت میں جس کے نتائج نمایاں ہوں گے ، انسان ہر لمحہ یاد خدا میں مصروف رہے کہ یہ بالاترین لذت ہے ۔ /۹۸۸/ ن۹۷۰

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬