‫‫کیٹیگری‬ :
07 June 2018 - 17:04
News ID: 436189
فونت
حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی :
آستان قدس رضوی کے محترم متولی نے گفتگو کے دوران کہا کہ امام خمینی(رہ) کے زندہ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ امام(رہ) کا مقصد اور انقلاب زندہ ہے۔ عصر حاضر میں ہر زمانہ سے زیادہ پوری دنیا میں انقلاب اسلامی کے شیدائی اور چاہنے والےپائےجاتے ہیں۔
سید ابراہیم رئیسی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی نے حرم رضوی میں منعقد ہونے والی پہلی شب قدر کے خصوصی پروگرام میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ہر دور سے زیادہ اس زمانہ میں امام خمینی(رہ) کی میراث کے شیدائی اور چاہنے والے ہیں، گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: سب مر جائے گے لیکن اگر انسان خدا کے ساتھ ہوتو حیات ابدی حاصل کر لیتا ہے؛امام خمینی(رہ) کی حیات سے مراد امام (رہ) کے راستے اور انقلاب کی حیات ہے ، آج امام خمینی(رہ) اور انقلابِ امام زندہ ہے۔

مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا: ممکن ہے بہت سارے افراد یہ گمان کرتے ہوں کہ امام (رہ) کی رحلت کے بعد سے امام مر گئے ہیں اور اس وقت ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ امام کا ہمارے درمیان حاضر ہونا ؛ امام خمینیؒ کی گرانقدر میراث یعنی انقلاب اسلامی ہے جو زندہ و جاوید ہے۔حقیقت میں ہر زمانہ سے زیادہ اس وقت انقلابِ امام پوری دنیا میں مشہور ہے۔

مکتب ’’انتظار‘‘ و ’’انظلام‘‘

ریاستی مصلحتوں کو تشخیص دینے والی کونسل کے اعلیٰ رکن نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ دنیا اس وقت دومکاتب فکر یعنی انتظار اور انظلام کا سامنا کر رہی ہے، وضاحت دیتے ہوئے کہا: مکتب انتظار یعنی خدا سے عشق ، پیغمبر گرامی اسلام(ع) پر اعتقاد،اچھائیوں کی ترویج اور برائیوں کی روک تھام کے لئے تلاش و کوشش،مقصد تک پہنچنے کے لئے استقامت اختیار کرنا، دشمن شناسی اور ظلم و بربریت کے خلاف قیام کرنے کا نام مکتب انتظار ہے۔

حجت الاسلام رئیسی نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: مکتب انظلام ؛ ظلم پذیری و بربریت کو دنیا میں ترویج دیتا ہے،ہالیوڈ سینما یہ چاہتا ہے کہ پوری دنیا کو اس بات کی تلقین کرے کہ آپ کی تقدیر عالم میں ظلم کو قبول کرنے میں لکھ دی گئی ہے،افغانیوں، شامیوں، پاکستانیوں، آفریقیوں، لبنانیوں اور دنیا کی تمام قوموں کوسمجھانا چاہتا ہے کہ استکبار کو قبول کرنے کے علاوہ تمہارے لئے کوئی راستہ نہیں ہے ۔

مجلس خبرگان رہبری کے رکن نے مکتب انتظار کو مکتب امید،استقامت،مقاومت کا مکتب جانتے ہوئے کہا: دشمن کی جانب سے نیا فتنہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو نظام سے نا امید کردینا چاہتا ہے مجاہدوں کے دلوں میں مایوسی پیدا کرنا چاہتا ہے۔

شب قدر سے بہرہ مند ہونے کی شرط

انہوں نے اس بات پر تاکید فرمائی کہ اگر انسان شب قدر کو معرفت کے ساتھ درک کرتا ہے تو اس وقت یہ رات ہزار سال سے بہتر ہے اور انسان کی زندگی میں یہ رات خاص اہمیت کی حامل بن جائے گی، انہوں نے بتایا: خداوند متعال شب قدر کے سلسلے میں فرماتا ہے’’ لیلۃ القدر خیر من الف شھر‘‘ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ،لیکن وہ لوگ اس رات کی فضیلت سے بہرہ مند ہوں گے جو اس رات کو درک کریں گے۔

ریاستی مصلحتوں کو تشخیص دینے والی کونسل کے رکن نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ پیغمبر گرامی اسلام(ص) کی امت راھوار شب قدر کی سواری سے سوسالہ راستے کو ایک رات میں طے کرسکتی ہے، مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا: جس مقدار میں انسان ولایت کے نور سے اپنی زندگی میں بہرہ مند ہو گا اسی مقدار میں اس کے اندر انسانیت ہو گی اور اتنی ہی مقدار میں اس کی روح و رواں اور اس کا اخلاق خدائی ہوگا۔

انہوں نے شب قدر کی حقیقت کو حقیقت محمدیہ فاطمیہ جانتے ہوئے کہا: شب قدر کی حقیقت پیغمبر گرامی اسلام(ص) کے وجود بابرکت سے متعلق ہے کیونکہ پیغمبراکرم(ص) کا قلب بشریت کو ہدایت دینے والی کتاب کے نازل ہونے کی جگہ ہے۔

گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: آج کی رات امید اور ارادہ کی رات ہے انسان کی تقدیر لکھی جاتی ہے سو سالہ راستے کو آج کی رات میں طے کرے گا، اس رات کو درک کرنے راز یہ ہے کہ انسان ایک رات اولیای الہی کے ساتھ بسر کرے۔

عضو مجمع تشخیص مصلحت نظام نے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شب قدر سے بہرہ مند ہونے کی پہلی شرط یہ کہ اس رات کی معرفت رکھتا ہواور دوسری شرط یہ ہے کہ خدا اور رسول کے راستے میں قدم بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہواور تیسری شرط یہ ہے کہ پروردگار کی بارگاہ میں اعتراف کرے، وضاحت دیتے ہوئے کہا: ہر وقت انسان خدا کی جانب جا سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ خشوع و خضوع کے ساتھ بارگاہ الہی میں اعتراف کرے اور خدا سے بخشش اور مغفرت کا طالب ہو۔

لیلۃ القدر؛ شب امید اور مایوسی سے دور ہونے کی رات ہے

حجت الاسلام رئیسی نے شب قدر کو شب امید اورمایوسی سے دور ہونے کی رات جانتے ہوئے کہا: شب قدر ؛ شب امید اور استغفار، شب ارادہ اور گناہوں کی بخشش کی رات ہے۔اس رات میں کوئی شخص بھی پروردگار سے سوء ظن نہیں رکھتا اور نا امید نہیں ہے۔

مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا: اگر شب قدر میں امام زمان (عج) کو اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ قرار دیں تو خداوند متعال اپنے بندوں پر بہت زیادہ بخشش کرے گا۔آئمہ معصومین علیہم السلام خدا وند کریم کی بارگاہ میں ہماری توبہ قبول ہونے اور قرب پروردگار کا وسیلہ ہیں۔

صدیقہ طاہرہ(س)؛ رسالت و امامت کے درمیان نکتۂ وصل ہیں

مجلس خبرگان رہبری کی کونسل کے اعلی رکن نے رسالت و امامت کو وصل کرنے والا نکتہ وجود مقدس صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہراء(س) کو جانتے ہوئے کہا: شب قدر کو درک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حضرت صدیقہ طاہرہ(س) کی معرفت رکھتے ہوں، ایک دن اور ایک رات ولایت فاطمی کے تحت زندگی بسر کرنا حکومت اموی کے ساتھ ایک عمر زندگی کرنے سے بہتر ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا: کل شب قدر میں فرشتے اور روح نبی کے آستانہ پر نازل ہوتے تھے اور آج مہدی (ع) کے مقدس آستانہ پر نازل ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا سورہ قدر سے دلیل لاتے ہوئے امامت کے منکروں اور مخالفوں سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے، آج کی رات معرفت اللہ کی رات ہے، آج کی رات خود کو اور خدا کو پہچاننے کی رات ہے، آج کی رات سب سے پہلے خدا،صدیقہ طاہر(س) اور امام عصر(عج) کی معرفت حاصل کرے اور پھر اپنے آپ کو پہچانے۔

انہوں نے شب قدر کو خداشناسی،امام شناسی، خود شناسی اور بارگاہ رب العزت میں قرب حاصل کرنے کی رات جانتے ہوئے کہا: شب قدر ایسی رات ہے جس میں انسان اپنی زندگی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرتا ہے،ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ خدا اور خدا کی جانب سے بھیجے گئے ہادیوں اور راہنماؤں کی پیروری کریں۔

شب قدر ؛ شب استغفار و استغاثہ

آستان قدس رضوی کے محترم متولی نے اس مطلب پر تاکید فرمائی کہ شب قدر، شب استغفار اور پروردگار کی بارگاہ میں استغاثہ کی رات ہے، انہوں نے بتایا: امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کو جب پہلی ضرب لگی تو مولا نے فرمایا’’ فزت ورب الکعبہ‘‘ اور یہ بہت اہم ہے کہ انسان فائزین میں سے ہو۔اور فائزین میں سے ہونے کا راز یہ ہے کہ خدااور اس کے رسول کی اطاعت کا ارادہ کرے۔

انہوں نے بتایا: خداوند متعال سورہ قدر میں ارشاد فرماتا ہے:’’وَ إِذا سَأَلَکَ عِبادي عَنِّي فَإِنِّي قَريبٌ أُجيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجيبُوا لي وَ لْيُؤْمِنُوا بي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ‘‘ ای پیغمبر جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں پوچھتے ہیں تو انہیں کہو: یقیناً میں بہت قریب ہوں ، دعا کرنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں قبول کرتا ہے پس انہیں چاہئے کہ میری دعوت کو قبول کریں مجھ پر ایمان لے آئیں تاکہ حق و حقیقت کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے اعلیٰ مقصد میں کامیاب ہوسکیں‘‘۔

انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا: خدا کا راستہ بہت نزدیک ہے ، فقط یہی کافی ہے کہ گناہ کے پردوں درمیان سے ہٹھا دیں اس وقت ہمیں دیکھ سکتے ہیں کہ خدا ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہے۔

استغفار قبول ہونے کی شرائط

آستان قدس رضوی نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ لیلۃ القدر یعنی ای خدا کے بندوں اپنی تقدیر کو امید کے ساتھ لکھو،گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: استغفار کی پہلی شرط  گذشتہ گناہوں کی نسبت شرمندگی اور ندامت کا احساس ہے اور گناہ کو ترک کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا۔

انہوں نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا: گناہ محدود مدت کی لذت ہے اور ہمیشہ رہ جانے والا عذاب ہے اور ثواب تھوڑی مدت کی سختی اور ہمیشہ رہ جانے والی لذت کا نام ہے، انسان دنیا کی بہترین لذتوں کے بعد تھکاوٹ کا احساس کرتا ہے برعکس اگرخدا اور خدائی ذمہ داریوں کو نبھائے تو انسان روز بروز کمال کی طرف اور تازگی محسوس کرتا ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین رئیسی نے بتایا: آج ہر وہ شخص جس کے عہدے پر ذمہ داری تھی اور اس نے اس میں کوتاہی کی ہے تو اسے چاہئے کہ توبہ کرے۔ہر وہ کام جس کے انجام دینے یا نہ دینے سے دوسروں کے حقوق ضائع ہوئے ہیں استغفار کرے، ہر وہ شخص جو الہی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی استطاعت رکھتا تھا لیکن سستی کی تو اسے چاہئے کہ خدا سے معافی طلب کرے۔

قرضہ کا ادا کرنا توبہ کی قبولیت کی شرط ہے

انہوں نے الہی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور استغفار کو کمال اور انسان میں نشاط و تازگی کا باعث جانتے ہوئے کہا: انسان نے ہر جس کام میں سستی دکھائی ہے ہر اس کام کے بدلے میں خداوند منان سے بخشش طلب کرے، خدا اور لوگوں کے حقوق اور قرضوں کو ادا کرنا من جملہ توبہ کی قبولیت کی شرائط میں سے ہے۔

آستان قدس رضوی کے محترم متولی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر خداوند متعال کی بندگی اور عبودیت کو مقام ’’ربّانی‘‘ تک پہنچنا جانتے ہوئے کہا: خداوند متعال ماہ مبارک رمضان اور شب قدر میں ربوبیت کے مقام کو مدّ نظر قرار دیتے ہوئے پذیرائی کرتا ہےاور چاہتا ہے کہ اپنے بندوں کو مقام ربّانی تک لے کر آئے۔

حجت الاسلام والمسلمین رئیسی نے بتایا: مقام ربّانی کی حقیقت؛ خداوند متعال کی خالص بندگی ہے، جو انسان بھی مقام ربّانی پر فائزہو گیا تو اسے خدا کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا، فقط خداوند متعال پر امید رکھتا ہے اور اس کا توکل اور بھروسہ فقط اور فقط خداوند متعال کی ذات اقدس پر ہوتا ہے۔  /۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬